شوگر انکوائری کمیشن،عثمان بزدار نے ذمہ داری وفاق پر ڈال دی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب نے 15 شوگر ملز کو 3 ارب روپے سبسڈی دینے کی ذمے داری وفاقی حکومت پر ڈال دی اور عثمان بزدار نے کمیشن کے سامنے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت نے سبسڈی دینے سے پہلے شوگر ملز مالکان کے اس دعوے کی تحقیقات نہیں کرائی کہ آیا دو لاکھ میٹرک ٹن اضافی موجود بھی تھی یا نہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چینی سبسڈی سکینڈل کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن کو گزشتہ روز اپنا ریکارڈ کرایا۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کمیشن کو بتایا کہ وفاق سے مشاورت کے بعد پنجاب کی 15 شوگرملز کو چینی کی سبسڈی 29 دسمبر 2018 کو بہاولپور میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2018 کو شوگرملز مالکان اور کاشتکاروں سے چار صوبائی وزرا نے سبسڈی کے معاملات پر بات کی، 18 اکتوبر کو اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، شوگرکا کرشنگ سیزن 30 نومبرکو ملز مالکان کی طرف شروع نہیں کیا گیا جس پر کاشتکاروں نے احتجاج شروع کردیا اور وفاقی حکومت نے جلد ملز مالکان کے مطالبات دیکھنے کا کہا۔

عثمان بزدار نے بتایا کہ 4 دسمبر 2018 کو اسد عمر کی سربراہی میں ای سی سی نے ایک ملین ٹن شوگر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت مشروط طورپردی جس میں کہا گیا کہ سبسڈی کا تعین صوبے کریں گے، ای سی سی کے اجلاس کے بعد شوگر ملز مالکان کی طرف سے کرشنگ کا آغازنہ ہونے پر صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت اور وزیرخوراک سمیع اللہ چوہدری نے ساری صورتحال پرکابینہ اور مجھے بریفنگ دیمدونوں وزرا کو سننے کے بعد کابینہ کی طرف سے سفارش کی گئی 5.35 روپے فی کلوکے حساب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دی جائے۔

ذرائع کے مطابق عثمان بزدار نے کمیشن کے روبرو بیان میں کہا کہ سبسڈی دینے کا فیصلہ انہوں نے اور ان کی کابینہ نے وفاق سے مشورے کے بعد کیا۔