بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> سیّد احمد شاہ بخاری

سیّد احمد شاہ بخاری

سیّد احمد شاہ بخاری…. ایک معتدل مزاج مذہبی رہنما
سید منیر بخاری
۱۹ مارچ۱۹۸۸اس لحاظ سے ایک اہم دن ہے کہ اس د ن ایک ایسی شخصیت ہما رے درمیان سے اْٹھ گئی جو نہ صرف علاقہ قلعہ کالر والا بلکہ قریبی اضلاع شیخوپورہ،گجرانوالہ اورسیالکوٹ کے دیہات میں مذہبی رواداری،معتدل مزاجی،مسلکی برداشت کی علامت تھی۔آپ سیّدبخاری خانوادے سے تعلق رکھتے تھے آپکے آباواجداد کا تعلق اْچ شریف سے تھاآپکا شجرہ نسب ویں پشت پر نبی کریمﷺسے او ر ویں پشت پر حضرت علیؓسے ملتاہے آپ کے خاندان کے اہم بزرگوں میں سے سیّد جلالدین سرخ ؒ اورسیّدجہا نیاں جہاں گشتؒ جیسے بزرگ اولیاء کرام شامل تھے۔آپ۷۲۹۱ میں دولووالی تحصیل وضلع گجرانوالہ میں پیدا ہوئے والدمحترم سیدحسن شاہ مرحوم آپکے بچپن میں ہی وفات پا گئے جو اپنے وقت کے جیّد عالم تھے اور حافظ الحدیث حافظ عبد المنان وزیرآبادی کے شاگرد گرامی تھے۔والدکی وفا ت کے بعدآپکی پرورش آپکی والدہ نے کی جو تحریک مجاہدین یاغستان کے مجاہد کمانڈر سید اکبر شاہ سکھانوی کی ہمشیرہ محترمہ تھیں۔ ابتدائی تعلیم مولانا عبدالحلیم صاحب آف سکھا نہ باجوہ سے حاصل کی جو مولانا حبیب الرحمان یزدانی مرحو م کے والد تھے۔ آباؤاجداد کی طرح آپنے بھی دین اسلام کی تبلیغ کو اپنا شعار بنایا اورموضع ما لو کے کو اپنا مسکن بنایا اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئی آپکی شخصیت کے کء پہلو ہیں آپ صرف
ایک مذہبی رہنما ہی نہ تھے پر خلوص سیا سی اور سماجی کارکن بھی تھے یہی وجہ تھی کہ علاقہ کا لر جو سیالکوٹ،گجرانوالہ اور شیخوپورہ اضلاع کی ایسی تکون پر مشتمل ہے جو چاول کی پیداوارکے لأ دنیا بھر میں مشہور ہے کے دیہات میں آپکو انتہاء ادب واحترام حاصل تھا
مذہبی لحاظ سے آپ ایک انتہاء مخلص اورمعتدل شخصیت تھے اس کے باوجود کہ وہ اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ اس سلسلہ میں متشدّد ہر گز نہ تھے ہر مکتبہ فکر کے علمأ سے استفادہ حاصل کرنے میں کوء عار محسوس نہ کرتے تھے آپکے پاس ایک وسیع لائبریری تھی جس میں ہر مذہب اور مسلک کی کتب موجود تھیں تفسیر قران،احادیث،فقہ،تصوّف،سیرت اورتقابل مذاہب کے علاوہ قادیانیت پر خصوصی دسترس حاصل تھی آپکو نبی کریم ﷺسے انتہاء عقیدت تھی۔ختم نبوّت کے مؤلے پر آپ ہر وقت مخالفین کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کے لأ ہر وقت تیار رہتے تھے مخالفین ختم نبوت کا مقابلہ کرنے کے ل? آپنے ۰۶۹۱ کے عشرے میں علاقہ کی سرکردہ شخصیات جن میں چوہدری محمد انور سابق ڈپٹی کمشنر بھی شامل تھے کے ساتھ ملکر علاقہ میں تمام مسالک کی مشترکہ کانفرنسیں منعقد کیں جن کا خاطر خواہ اثر ہوا اور بہت سے قادیانیوں نے آپکے ہا تھ پر اسلام قبول کر لیا۔۴۷کی تحریک ختم نبوّت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تحریک کے دوران آپ پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا۔آپ پر قاتلانہ حملہ کی خبرپورے علاقہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گء ہزاروں کی تعداد میں ناموس رسالت کے پروانے قلعہ کالر وا لہ پہنچ گئی مشتعل افراد اسلحہ سے لیس قافلوں کی صورت میں روا ں دوا ں تھے خطرہ تھا کہ ختم نبوّت کے یہ دیوانے قادیانیوں کے جان واملاک کو تہس نہس کر دیں گے انتظامیہ نے آپ سے مدد کی درخواست کیا آپ نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ پر امن رہیں اور قانون کو اپنا کام کرنے دیں چناں چہ آپ کی حکمت و تدّبر سے بہت سی جانیں ضائع ہونے سے بچ گءں۔آپ کو اس سلسے میں بہت سی جسمانی،معاشی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑالیکن آپکے عزم اوراستقامت میں کوء لغزش نہ آ ء۔ جب قومی اسمبلی کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو آپ انتہاء خوش ہوے۔کہا کرتے تھے کہ اس قانون کے پاس کروانے سے بھٹو نے اپنی مغفرت کا وسیلہ بنالیا ہے
آپ نوابزادہ نصرلہ خان مرحوم کی سیاسی اور قومی خدما ت سے بہت متاثر تھے لہذا آپ پاکستان جمہوری پارٹی میں شامل ہو گیّ اور پھر تا زیست اس پارٹی کے کارکن رہے نوابزادہ نصرلہ خان مرحوم سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ وفا ت کے وقت قایّد کی تصویر آ پ کی ہاتھ میں تھی آپ نے ایم ار ڈٰی کی تحریک میں بھی نوابزادہ صاحب کی قیا دت میں حصہ لیا اور پا رتی کی طرف سے مظاہروں اوراحتجاجی
جلسے جلوسو ں میں شرکت کرتے رہے۔
علا قہ بھر میں آپ نے جو سیاسی،سماجی اور مذہبی خدمات سرانجام دیں اس کار خیر میں علا قہ کالر کے عوام نے با لعموم جبکہ چوہدری ابراہیم آف چوک قلعہ کالر،حاجی رمضان قلعہ کالر،چوہدری انور سابقہ ڈپٹی کمشنرآف گھٹیالیاں اور حاجی بشیر سوداگرپورہ جیسی شخصیات نے بالخصوص قدم قدم پر آپکا بھر پور ساتھ دیا۔آپ خاندانی اورذاتی حوالے سے ایک روحانی اور مذہبی شخصیت تھے یہی وجہ تھی کہ ہزارون لوگ آپکے حلقہ عقیدت میں شامل تھے آپ نے پیری مریدی کو اپنا شعار نہ بنایا تھا اس کے باوجود آپکا وسیع حلقہ اثرعلاقہ کے دور دور دیہات تک پھیلا ہوا تھا آپ نے۹۶۹۱ میں فریضہ حج سر انجام دیا لیکن حاجی کہلانا پسند نہ کرتے تھے کہ اس سے بناوٹ کی بو آتی ہے آپ نے مذہب،سیاست اورسماجی خدمت کو
مقدّس فریضہ سمجھ کر استعمال کیا اور کبھی ذاتی اغراض ومنافعت کو عوامی مقاصدپر ترجیح نہ دی یہی وجہ تھی کہ علاقہ بھرکے عوام آپ سے گہری عقیدت اور منزلت رکھتے تھے جب بھی کسی معاملے میں شاہ صاحب نے عوام سے رجوع کیا اور عوام نے بھی ہمیشہ اعتماد کرتے ہوئے آپ کا ساتھ دیا۔
آپ ایک سادہ دِل سماجی کارکن،مخلص سیاسی ورکر،ہر دلعزیز مذہبی رہنمااورمحبت کرنیوالے انسان تھے آپ نے ساری زندگی عوام اورانسانیت کی خدمت میں گزاری لیکن اس کے بدلے میں نہ تو کسی صلے کی توقّع کی،نہ ہی ستایٗش کی تمّنا رکھی۔یہی وجہ تھی کہ جب عارضہ قلب میں مبتلا ہوئے توکثیر تعداد میں عوام ان کی بیمار پرسی کیلئے امڈ آئے جنوری ۱۹۸۸میں آپ کو دل کی تکلیف ہوئی آپ کو ہسپتال داخل کروایا گیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا دل کادوسرا دورہ جان لیوا ثابت ہوا ڈاکٹروں نے جان بچانے کی بہت کوشش کی لیکن انسان ہار گیا اور قدرت جیت گئی آج وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی تعلیمات اور خدمات ہمیشہ علاقہ قلعہ کالر کے عوام کو ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گی
بناکردند خوش ر سمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کنند ایں عاشقان پا ک طینت را

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*