بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کرتار پور راہداری کا افتتاح …… نتائج و اثرات

کرتار پور راہداری کا افتتاح …… نتائج و اثرات

کرتار پور راہداری کا افتتاح …… نتائج و اثرات
سید عارف نوناری
9 نومبر کو اقبال ڈے بھی تھا تو دوسری طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان نارووال سے 8 کلومیٹر کے فاصلہ پر پاک و بھارت سرحد کے قریب کرتار پور راہداری کا افتتاح کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ شاہ محمود قریشی، فردوس عاشق اعوان، کرنل جاوید کاہلوں اور صوبائی وزیر اوقاف پیر سعید الحسن شاہ کے علاوہ گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی تھے۔ عمران خاں کی تقریر سے پہلے نجوت سنگھ سدھو کی تقریر نے وہاں موجود ہزاروں سکھ یتریوں اور مسلمانوں کے دل جیت لئے لیکن وہ باتوں ہی باتوں میں مودی کی سرکار پر دھیمی اور ذومعنی الفاظ میں تنقید بھی کرتے رہے۔ انہوں نے عمران کے گن بھی گائے اور ان کی بہادری اور جرأت کو بھی اپنی تقریر کا موضوع بنایا اور امید ظاہر کی اب کئی راہداریاں کھلیں گی۔ جس سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ نجوت سنگھ سدھو نے دنیا بھر کے سکھوں جن کی تعداد 14 کروڑ سے بھی زیادہ ہے کہا کہ عمران خاں نے یاری نبھائی ہے اور شدید مشکلات کے باوجود سکھوں کے بابا نانک کی 550 سالگرہ پر کرتار پور راہداری کا تحفہ دیا ہے۔ ان کے ساتھ ہی بھارتی اداکار کے بیٹے دھرمندر کے بیٹے بھارتی مشہور اداکار سنی دیول بھی بڑی خاموشی سے ساری تقریب میں بیٹھے رہے۔ شائد ان کے چہرے پر شرمندگی کے آثار نظر آ رہے تھے کیونکہ وہ شائد سوچ رہے تھے کہ میں نے ساری زندگی بھارت میں رہ کر مسلمانوں کے خلاف فلمیں بنائی ہیں اور آج میں اسی دھرتی پر عمران خاں وزیراعظم پاکستان کے ساتھ پاکستان میں بیٹھا ہوا ہوں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ پاکستان میں ہوں۔ افسوس یہ ہے کہ وزیر اعظم کی اس راہداری کی تقریب میں سنی دیول کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی۔ جبکہ نجوت سنگھ سدھو کے اردگرد پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی کے لوگ ان کے بہت قریب رہے اور ان کی نگرانی کرتے رہے جب تقریب ختم ہوئی تو لوگوں کا جم غفیر ان کے ارگرد جمع ہو گیا اور وہ اپنی جوتی ہاتھ میں لیکر سکیورٹی کے حصار میں بھاگتے رہے۔ بھاگتے بھاگتے ان کے گھٹنے کو موچ بھی آ گئی۔ حالانکہ جو پاکستان میں ان کے چاہنے والے ہیں ان کو آسانی سے سکیورٹی اداروں کو ان تک رسائی مہیا کرنی چاہئے تھی۔ میں بڑی مشکل سے تقریب کے آخر میں نجوت سنگھ سدھو تک پہنچے میں کامیاب ہوا۔ ان سے تفصیلات بات چیت تو نہ ہو سکی۔ کیونکہ میں نے ان کو اپنی دو کتابیں ”گھر کا بھیدی“، ”سید عارف نوناری فن اور شخصیت“ پیش کرنی تھیں وہ ان کو دینے میں کامیاب ہوگیا۔ عمران خاں کی تقریر کرتار پور راہداری کے افتتاحی تقریب کو اگر تجزیاتی انداز میں دیکھا جائے تو وہ ایک بہت اچھی بات کر گئے کہ اگر مدینہ مسلمانوں سے 4 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہو تو وہ مدینہ نہ جا سکیں تو مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کیا ہوں۔ اسی طرح سکھوں کے بابا نانک کا یہ مدینہ ہے۔ ان کے ان الفاظ میں بہت گہرا مفہوم تھا اور تصوف کا رنگ تھا۔ پھر ساتھ ساتھ وہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم اور کرفیو کے دوران ان پر ظلم کے جو پہاڑ گرائے جا رہے ہیں ان کو بھی اچھے الفاظ میں بیان کیا۔۔ اس کالم میں عمران خان، شاہ محمود قریشی کی مکمل تقریروں کو دینا اتنا ضروری نہیں کیونکہ وہ قارئین پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں دیکھ اور پڑھ چکے ہیں۔ یہ سارا علاقہ آرمی اور ایجنسیوں کی مکمل نگرانی میں تھا۔ پی آئی ڈی نے یکم نومبر اور 8 نومبر کو وہاں جانے کے صحافیوں کے لئے پاس جاری کئے تھے لیکن جمعہ کی صبح 11بجے وہ تمام بنے بنائے کارڈ نان ویلڈ کر دیئے گئے اور پی آئی ڈی لاہور نے کسی بھی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں، ایڈیٹروان اور سینئر کالم نگاروں کو اطلاع تک نہیں دی تاکہ وہ محکمہ اوقاف کے عام دعوت نامہ کے ذریعہ اس کرتار وپر راہداری کی تقریب میں شامل ہو کر حکومت کے اس اہم کارنامہ پر کالم لکھ سکیں۔ ان کی بدانتظامی ہی کی وجہ سے بہت سے سینئر کالم نگار اور ایڈیٹران وہاں افتتاحی تقریب میں شمولیت سے محروم رہے۔ ہم لاہور سے جنگ کے سینئر کالم نگار افضال ریحان، میں اور روزنامہ سعادت کے ایڈیٹر مہر عبدالرؤف کے ساتھ کرتار پور کی حدود میں داخل ہوئے تو کرتار پور بابا نانک کے دربار سے 4 کلومیٹر دور الیکٹرانک میڈیا ٹی وی چینل کی ڈی ایس این جی کھڑی تھی یعنی سکھ یاتریوں کے علاوہ صرف 5 فیصد کے قریب پاکستان کے شہری اس تقریب میں موجود تھے۔ بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کو تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا حالانکہ اس اہم موقع پر ان کی تقریر ضرور ہونی چاہئے تھی کیونکہ وہ دس سال بھارت کے وزیراعظم رہ چکے تھے اور پاکستان کے لوگوں کے ساتھ ان کی ہمدردیاں ابھی تک قائم تھیں۔ تقریب کے افتتاح کے 1 گھنٹہ کے بعد پھر دوبارہ ہماری ملاقات نجوت سنگھ سدھو کے ساتھ ہوئی جب وہ بابا نانک کی سمادھی پر حاضری کے بعد واپس آ رہے تھے۔ ہمارے ساتھ جنگ کے سینئر کالم نگار مظہر برلاس بھی موجود تھے۔ لیکن اتنا رش کم ہونے کے باوجود بھی سکیورٹی کے اداروں کے افراد نے ان کو حصار میں لیا ہوا تھا۔ ہماری ملاقات کینیڈا، انڈیا، امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور دیگر دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں سے بھی ہوئیں ان کے ساتھ خیالات و نظریات کا تبادلہ خیال بھی ہوا۔ جن میں خواتین اور دنیا بھر میں زیر تعلیم طالبات بھی شامل تھیں۔ تمام عمران کے اس اقدام پر انتہائی زیادہ خوش تھے کہ انہیں 72 سال کے بعد پہلی دفعہ یہ موقع ملا ہے کہ وہ بابا نانک کی سمادھی کا دیدار آزادانہ طریقہ سے کر رہے ہیں۔ سکھ یاتری خواتین اور مرد ہم نے دیکھا کہ ایسا محسوس کر رہے تھے کہ جیسے وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں ان کے چہروں پر خوشی کے شدید قسم کے آثار نظر آ رہے تھے ہم تقریبا سو سے زائد سکھ خواتین اور مردوں سے ملے۔ سب عمران خان اور پاکستانی عوام کے بارے میں اپنے دلوں میں محبت سمیٹے ہوئے تھے اور دل سے اتنے ممنون اور خوش نظر آ رہے تھے کہ ان کی خوشی کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تقریب کے بعد بھی سکھ یاتری برآمدوں اور ہالوں میں بہت ہی سکون اور پرجوش انداز میں آزادانہ گھومتے نظر آئے۔ بابا نانک کی 550 جنم دن پر انتظامات پر سکھ برادری بہت خوش تھی اور شام کے وقت کرتار پور دربار کے مین دروازہ پر جب لاہور کے لئے روانہ ہونے لگے تو جوتے اتار کر سکھ مرد و خواتین ٹھنڈی ہوا میں نظارے جیسے بھارت میں اپنے صحن میں بیٹھے ہوں لے رہے تھے۔ بابا نانک کی پرانی سمادھی کی صرف آزائش تزئین کی گئی تھی کیونکہ 1920ء میں جہاں بابا نانک کی سمادھی ہے انگریزوں نے اس کو تعمیر کیا تھا جس کی پتھرکی پلیٹ ابھی تک لگی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی بابا نانک کی سمادھی کے ساتھ ایک کنواں ہے جس سے وہ اپنی تقریباً 54 ایکڑ اراضی کو پانی دیتے تھے۔ وہ بھی وہاں پر موجود ہے پہلے یہ قدرتی کنواں تھا جو بیلوں کے ذریعہ چلتا ہے اس طرح کا تھا لیکن اب اس کو بجلی پر کر دیا گیا ہے حالانکہ اس کنواں کی تاریخ کے بارے میں باقاعدہ اس کے ساتھ لکھا ہونا چاہےء تھا۔ لیکن وہ ایک پرانا درخت ویسا کا ویسا ہے جہاں بابا نانک بیٹھا کرتے تھے اور آرام فرماتے تھے کرتار پور راہداری کی عمارت کو بہت خوبصورت بنایا گیا ہے جوتے رکھنے اور آرام کرنے کے لئے استھان بنائے گئے ہیں اور ساتھ خرید و فروخت کے لےء ایک مارکیٹ بنائی گئی۔ دریائے راوی کا پل بہت خوبصورت بنایا گیا ہے بلکہ جہاں عمران خاں نے بابا نانک کی سمادھی کے سامنے افتتاح کیا وہاں سے پاک و بھارت کی سرحد کے درخت اور دونوں ممالک کے پرچم نظر آتے ہیں جو شام کے وقت خوبصورت مناظر کا سماں باندھتے ہیں دوسرے منصوبہ میں ہوسٹل، میڈیا سیل اور دیگر شعبے یہاں پر قائم ہوں گے۔ عمران خان کی یہ اس لحاظ سے بہت بڑی کامیابی ہے کہ سکھ یاتری بابا نانک کی اس افتتاحی تقریب میں مودی کے خلاف باتیں کرتے نظر آئے اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم پر شدید الفاظ میں گفتگو بھی کرتے رہے اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے حق میں وہ آپس میں بحث و مباحثہ بھی کرتے رہے اس تقریب میں عیسائی، عربی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی مختلف ممالک سے موجود تھے کرتارپور راہداری سے دنیا بھر سے عمران خان نے سکھوں کی ہمدردیوں اور ان کے احساسات و جذبات کو اپنے حق میں کر لیا ہے۔ حالانکہ اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرنا اور ان کے مذہبی مقامات کی حفاظت کرنے کا اسلام نے بھی بہت کہا ہے عمران خان کی حکومت کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*