کڑواہٹ بھرے لہجوں اور سخت رویوں کا بوجھ

کڑواہٹ بھرے لہجوں اور سخت رویوں کا بوجھ
روزینہ روبی
زندگی میں ہم ہر طرح کے لوگوں سے ملتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا رویہ بہت اچھا ہوتا ہے اور کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو ہم ناپسند کرتے ہیں۔ ان سے ملنابھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ لوگ چاہے اچھے ہوں یا بُرے، ہمیشہ سے زندگی کا حصہ رہتے ہیں۔ وہ ہماری ذات کو اچھے لگتے ہوں یا ہم ان کو ناپسند کرتے ہوں، زندگی میں ایسے لوگ ضرور ملا کرتے ہیں۔ لوگوں سے ملتے ہوئے ہمیں مختلف لہجوں اور رویوں کا سامنا ہوتا ہے۔کیا آپ کو معلوم ہے لہجوں کے بھی ذائقے ہوتے ہیں جن میں میٹھے ،کڑوے اور کسیلے لہجے شامل ہیں۔ کچھ لوگوں کے لہجے اتنے نرم، میٹھے اور رس بھرے ہوتے ہیں کہ دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ ملنے سے دنیا خوبصورت اور حسین لگنے لگتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسے لوگ اگر مل جائیں تو دنیا میں ہی جنت کا نظارہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خوش اخلاق اور شریں لہجہ رکھنے والے لوگ ہمارے ہر سکھ اور دکھ کے ساتھی ہوتے ہیں اور ان کی ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی اور نہ ہی ایسے لوگ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر خوش رہ سکتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی طرف سے ہمارے لیے ایک قیمتی تحفہ ہوتے ہیں۔۔۔ دوسری طرف ہمیں سخت ، طنزیہ اورکڑواہٹ سے بھرے لہجوں کو بھی برداشت کرناپڑتا ہے۔ایسا لہجہ رکھنے والے لوگ کسی اذیت سے کم نہیں ہوتے اور ان کے باعث انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے۔ موت کے برحق ہونے سے انسان قدرتی موت تو مرتا ہی ہے لیکن اس سے پہلے شاید وہ سخت، طنزیہ اور کڑوے لہجوں سے کتنی ہی بار مر چکا ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہاں میٹھے لہجے کے لوگ کم اورکڑوے اور سخت لہجوں اور رویوںوالے زیادہ ہوتے ہیں۔
لہجوں کی مار کھایا ہوا شخص بیزار طبیعت کا مالک ہوتا ہے۔ سخت لہجے بڑی اذیت دیتے ہیں۔ یہ ہمارے اندر ایسے ذائقے چھوڑ جاتے ہیں جو عمر بھر ہماری ذات سے کڑواہٹ ختم نہیں ہونے دیتے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑا ہے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے جینا سیکھا اور کچھ ایسے بھی جنہوں نے دکھ اور تکلیفیں دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ زندگی کے اس سفر میں کچھ ایسے لوگ ملے جو جان سے عزیز رہے اور کچھ لوگ ایسے بھی ملے جو سامنے ہوتے تو اپنوں کا احساس دلاتے لیکن دوسروں کے سامنے اپنی کھلی منافقت دیکھا دیتے۔ یہ ایسے منافق لوگ ہوتے ہیں کہ ان پر انسان اپنی جتنی مرضی محبتیں اور چاہتیں لٹا دیتا ہے مگر بدلے میں یہ ایسے مارتے ہیں کہ انسان زندگی بھر کے لیے سبق حاصل کر لیتا ہے۔
ایسے ہی کچھ اپنوں کے رویے، جن پر ہمیں یقین اور بھروسہ ہوتا ہے، ہمیں ذہنی معذوربنا دیتے ہیں۔کبھی کبھارایسے نام نہاد لوگوں، جن کو ہم ہمیشہ اپنا مانتے اور سمجھتے ہیں، کے لہجوںکے بوجھ تلے دب کر ہم اپنی ہی ذات کے ساتھ نا انصافی کر بیٹھتے ہیں۔ عمر بھر کے لئے ہم مفلوج ہو بیٹھتے ہیں اور ایسی غلطی کی سزاکاٹ رہے ہوتے ہیں جو غلطی ہم نے کی ہی نہیں ہوتی۔ کیا کسی پر اعتبار کرنا، بھروسہ کرنا اور کسی پر یقین کرنے کی سزا اتنی اذیت ناک ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جن سے بہت سی امیدیں اور تواقعات جڑی ہوں ان کے رویے اس قدر اذیت دیتے ہیں کہ انسان ایک چلتی پھرتی زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے۔
انسان سب بھول جاتا ہے مگر وہ باتیں کبھی نہیں بھول پاتا جو اس کے دل کو چھلنی کردیتی ہیں۔ ایسے لوگوں کوانسان کبھی نہیں بھولتا جو محبت اور بھروسے کے بدلے صرف زخم ہی دیتے ہیں اور وہ بھی عمر بھر کے لئے۔ایسے لوگ نرم لہجے اور شریں زبان سے دوسرے انسان کا گلا کاٹتے ہیں۔ حقیقت میں ایسے لوگ انسان کی روح کو زخمی کررہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ انسانی ذہپر اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیںجو برسوں گزر جانے کے بعد بھی شاید ہمارے دل سے نہیں مٹائے جا سکتے۔ایسے لوگ جن کی باتوں نے دل دکھایا ہو مگر اس کے رویے کے باعث لگے زخم ہمیشہ ہرے رہتے ہیں۔ میں نے زندگی کے سفر میںمختلف لہجوں رویوں کے اتنے ذائقے چکھ لیے ہیں کہ اب اگر کوئی مٹھاس بھرا لہجے کی آڑ لے کر میرے روبرو آئے تو میں اس مٹھاس میں موجود مفاد سے بھرے زہریلے لہجے کی بو محسوس کر سکتی ہوں۔مجھے انتہائی حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جن کو میرے بارے میں خوش فہمی ہے کہ مجھے ان کے لہجوں کی سمجھ نہیں آتی۔
قارئین!رویوں اور لہجوں کی پہچان رکھنے والے دوہرے عذاب سہتے ہیں کیوں کہ سب کچھ جان کر انجان جو بننا پڑتا ہے۔ لہجوں کے بوجھ تلے دب کر انسان صرف اپنی ذات کے ساتھ ہی ناانصافی نہیں کرتا بلکہ اپنے ساتھ جڑے کئی رشتوں کو ان کی لپیٹ میں لے کر ختم کر ڈالتا ہے۔ انسان لہجوں کو لے کر بہت بڑی بڑی اذیتوں کا سامنا کرتا ہے بعض اوقات تو ہماری سوچیں منجمد ہو جاتی ہیں۔ نہیں بھول پاتا دوسروں کے رویوں کو ۔۔۔ان کی دی اذیتوں کو۔۔۔ مگر لہجوںاور رویوں کے بوجھ کو کو خود پر سوار کر کے بھی نہیں چل سکتے۔ اگر ہم لہجوںاور رویوں کا بوجھ اٹھا کر چلنے لگیں گے تو کبھی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے۔زندگی کا سفر بہت لمبا ہے جسے لہجوں اور رویوں کا بوجھ اٹھاکر طے نہیں کیا جا سکتا۔بہتر ہے ہم ان سخت اور کڑوے لہجوں اور رویوں کوایک طرف رکھ کر آگے بڑھ جائیں۔۔۔تاکہ منزل کا حصول ہمارے لیے آسان ہو سکے۔