کرونا وائرس اور تاریخ کا سبق!

کرونا وائرس اور تاریخ کا سبق!
راﺅغلام مصطفی
کرہ ارض پر آباد انسان جدےد ترےن تکنےکی‘طبی اور سائنسی ترقی پر اس قدر مطئمن تھا کہ اسے شائد اندازہ نہےں تھا کہ اےک حقےر سا وائرس اسے اس قدر لاچار‘بے بس اور محتاج کر کے گھروں مےں مقفل کر دے گاکرونا وائرس نے دنےا کے طے شدہ منصوبوں کی ہوا نکال کر انسان کو اس حد تک بے بس کر دےا کہ انسان اپنی زندگی اور معشعےت کو بچانے کی جنگ سے نبردآزماہے۔ےہ اےسا مخفی وائرس ہے جس کے پاس نہ طاقتور فوج‘نہ مےزائل ٹےکنالوجی‘ اورنہ ہی کوئی کےمکل ہتھےار ہے لےکن اس کی جارحےت اس قدر شدےد ہے کہ پوری دنےا مےں لاکھوں افراد اس کا رزق بن چکے ہےں۔کرونا وائرس کی شکل مےں موت انسان کو سونگھتی پھر رہی ہے انسان اپنی جان مٹھی مےں لئے خاموش اور ساکت ہو کر رہ گےااکےسوےں صدی کی ترقی سے لےس انسان اذےت اور صدمے سے دوچار کسی خاموش ہولناک اشارہ محشر کو محسوس کرتے ہوئے آسمان سے کسی معجزے کا منتظر دکھائی دےتا ہے۔قدرت کے سامنے انسان کی تمام تر تحقےقات اور اےجادات بے معنی ہو کر رہ گئی ہےں بالخصوص ان ممالک کے لئے قدرت کی ےہ وارننگ ہے جو اس روئے زمےن پر زمےنی خدائی کے دعوےدار بن کر ظلم و ستم جاری رکھے ہوئے تھے انسانی حقوق کی پامالی ان کا وطےرہ بن چکا تھا تارےخ کا ےہ ہولناک سبق ہے کہ جب بھی انسان اےکدوسرے کے لئے مضر بن جاتا ہے تو پھر قدرت کی جانب سے پورے انسانی معاشرے کو اےسی وبائےں قہر بن کر اپنی لپےٹ مےں لے کر معاشرے مےں زہر گھولنے والوں کو عبرت کا رزق بنانے کے لئے آتےں ہےں۔ہزاروں سال سے انسان اس زمےن پر آباد ہے انسان نے نےشمار تغےرات اور تبدےلےوں کا سامنا کےا مختلف اقوام کا جنم ہوا اور وہ مٹ گئےںخود کو خدائی دعوےدار سمجھنے والوں کا بدترےن انجام بھی تارےخ کا حصہ ہے۔تارےخ کے اوراق مےں دستےاب متعدد نامور حکمرانوں‘طاقتور بادشاہوں کا دبدبہ اور ان کاانجام بھی ملتا ہے شداد نے خدائی دعویٰ کےا لےکن جب قدرت کی پکڑ مےں آےا تو اےک مچھر نے اسے بدترےن انجام سے دوچار کر دےافرعون نے طاقت‘عقل اور دولت کے نشہ مےں خود کو خالق کائنات سمجھتے ہوئے رعاےا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اس کے عبرتناک انجام سے بھی دنےا بخوبی واقف ہے کہ جب وہ اپنی رعاےا سمےت درےا نےل مےں غرق ہو گےا اس کی لاش آج بھی دنےا کے سفاک اور ظالم حکمرانوں کے لئے درس عبرت ہے جسے زمےں اور آسمان تک نے قبول نہ کےا۔جب روئے زمےن پر ظلم حدوں کو چھونے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ ظالم کو رسی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ کہ تمہاری کوئی اوقات نہےںتارےخ عالم مےں اےسے حکمرانوں کا تذکرہ عبرت کی تحرےر سے رقم ہے کہ جنہوں نے اللہ کی متعےن کردہ حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سر کشی کی وہ عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے۔بےسوےں صدی مےں برق رفتار ترقی نے ترقی ےافتہ حکمرانوں کو اس زعم مےں مبتلا کر دےا تھا کہ وہ اپنے آپ کو زمےنی سپر پاور سمجھنے لگے وہ طاقت اور دھونس سے اپنی منشا کے مطابق دنےا کے نظام کو چلانے لگے اور ےہ سمجھ بےٹھے تھے کہ وہی اس دنےا مےں طاقت کا منبع ہےں۔جب ان ظالم حکمرانوں کی سوچ اس نہج پر آکر منتج ہو گئی کہ سائنس سے بڑھ کر کوئی دماغ نہےں‘اےٹم بم سے بڑھ کر کوئی طاقت نہےں‘ڈالر سے بڑھ کر کسی کی کوئی حےثےت نہےں‘مےڈےکل تمام امراض کا حل ‘مضبوط ترےن معشےت‘طاقتور فوج کے ہوتے ہوئے کسی کی مجال نہےں جو ہمارے سامنے اپنی دم ہلا سکے ےہ وہ طاقت کے د م خم کا نشہ تھا جس کی طاقت کے بل بوتے پر وہ خدائی قانون کے بر خلاف بغاوت پر اتر آےااور پھر خدا کا قہر اس ظالمانہ نظام کے خلاف کرونا وائرس کی شکل مےں ظاہر ہوا اور اس حقےر سے وائرس نے ان ظالم حکمرانوں کی گردنےں گھٹنوں کے بل ٹےک دےں۔آج دےکھ لےں قدرت کے اس انتقام ‘عذاب نے اےسے غائبانہ انداز مےںپورے انسانی معاشرے کے گرد اپنا شکنجہ کسا کہ سائنس ےہ تک معلوم کرنے سے قاصر ہے کہ ےہ ہے کےا‘دنےا کا مےڈےکل نظام اپنے تمام تر تجربات کے ساتھ اس وائرس کے سامنے گھٹنے ٹےک چکا‘دفاعی سازو سامان اور جنگی ہتھےار شکست خوردہ ہو چکے‘آسمانوں اور سمندروں کا سےنہ چےرنے والے جہاز خاموش ‘ بندر گاہےں اور دنےا کے بڑے بڑے ائرپورٹ وےران ہو گئے‘دنےا کے ممالک مےں قےامت خےز سناٹا طاری ہو گےا‘پوری دنےا کا کاروبار زندگی منجمد ہو گےا آج زمےنی سپر پاور امرےکہ کی باون رےاستوں مےں ہوکا عالم ہے ےہ سب کےا ‘ےہ ان حکمرانوں کے لئے وارننگ اور تنبےہ ہے جو نمرود‘فرعون‘شداد‘ہامان اور قارون کے انجام درس عبرت کو بھلا چکے تھے جو خود کو دنےا کی سپر پاور سمجھ بےٹھے تھے۔اس زمےن پر آباد انسان پر جتنے بھی حکمران ہےں وہ اللہ تعالیٰ کے نائب ہےں اصل حکمرانی پروردگار عالم کی ہے حضرت داود علےہ السلام نبی بھی تھے اور سلطنت کے حکمران بھی اللہ تعالیٰ نے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے خلےفہ کا لفظ استعمال کےا ےہ لفظ اپنی پوری تشرےح مےں ےہ ثابت کرتا ہے کہ حاکم وقت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے احکامات کی اطاعت اور اس کے تخلےق کردہ اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے نظام مملکت چلانا ہوتا ہے۔کرونا وائرس دنےا کے ان ظالم حکمراانوں کے لئے عبرت کا سبق ہے جنہوں نے اپنے آپکو طاقتور سمجھ کر عدل و انصاف کا سبق فراموش کر دےا تھا جو خالق ارض و سماوات کے قانونی نظام کو پس پشت ڈال کر نافرامانی اور بغاوت پر اتر آئے تھے جو اقتدار کے نشہ مےں مذہب‘ذات اور نسل کی بنےاد پر تفرےق کرنے لگے تھے جو پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کمزور ممالک اور اقلےتوں کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہے تھے جو اس غرور و تکبر کے نشہ مےں مبتلا ہو چکے تھے کہ ان کے ناپاک عزائم کی تکمےل مےں روئے زمےن پر کوئی رکاوٹ نہےں ڈال سکتا ۔تارےخ کا سبق ےہ ہے کہ اےسے سرکش‘ظالم اور جابر حکمرانوں کا انجام بدتر ہوا ہے طاقت کے نشہ مےں چور قومےں اس طرح تباہ و برباد ہوئےں کہ ان کا نام و نشان تک مٹ گےا۔آج کرونا وائرس کے سامنے بے بس دنےا کے غرور و تکبر مےں مبتلا حکمران اپنی بے بسی و لاچاری پر آنسو بہا رہے ہےں اس وائرس کے سامنے ان کے تمام اسباب بے کار ہو چکے ہےں ۔ےہ وائرس آج پوری طاقت سے ڈنکا بجا رہا ہے کہ اس پوری کائنات پر حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے بڑے بڑے حکمران آئے بڑی بڑی شان و شوکت والی اس زمےن پر قومےں آباد ہوئےں سب فنا ہو گئے دنےاسے قبل اور تا ابد قائم حکمرانی صرف اس خالق کائنات کی ہے۔ وقت کا تقاضا ےہ ہے کہ پوری انسانےت اپنا محاسبہ کرے اپنے اعمال اور طرز عمل کا جائزہ لے ارباب اقتدار اور عالم کے حکمرانوں کو اب ےہ بات ازبر کر لےنی چاہےے کہ اس قانون خداوندی سے بغاوت نہ کرے کےونکہ کل بھی اور آج بھی پوری کائنات کا نظام اس کے تابع ہے کسی بھی خاکی بشر کی ےہ مجال نہےں کہ اس کے قانون قدرت سے مفر اختےار کر سکے توبہ کا در آج بھی کھلا ہے گناہوں سے تائب ہو کر اس سے لو لگا لو جو ستر ماﺅں سے بھی زےادہ اس امت محمدیﷺ سے پےار کرتا ہے قدرت اےک بار پھر تارےخ کو دہرا رہی ہے اللہ تعالیٰ نے سمجھنے والوں کے لئے عبرت اور توبہ کا در کھول رکھا ہے۔