بنیادی صفحہ -> پاکستان کی خبریں -> لاہورکی سڑکیں پھرمیدان جنگ بن گئیں، حکومت کیخلاف احتجاجی مظاہرے
میدان جنگ

لاہورکی سڑکیں پھرمیدان جنگ بن گئیں، حکومت کیخلاف احتجاجی مظاہرے

لاہور(ویب ڈیسک): لاہورکی معروف شاہراہ ٹھوکرنیازبیگ ایک بارپھرمیدان جنگ کی نقشہ پیش کرنے لگی ہے. پنجاب بھرسے کسانوں کی بڑی تعداد ٹھوکرنیازبیگ پرحکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے جمع ہوچکی ہے جس سے مسافروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے. ٹھوکرنیازبیگ لاہورکی ٹریفک کی روانی کے لحاظ سے شہ رگ ہے. تفصیلات کے مطابق کسان اتحاد کے نمائندے ملتان، وہاڑی، بہاولپور، رحیم یار خان، راجن پور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع سے لاہور پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ رات کسانوں کی یہ ریلی ملتان روڈ پر مانگا منڈی سے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچی، ریلی کے باعث ملتان روڈ پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ کسان اتحاد کا مطالبہ ہے کہ کھاد اور یوریا کے پرانے نرخ بحال کئے جائیں اور گنے کی قیمت کا اعلان اور سابقہ ادائیگیاں کی جائیں۔کسانوں نے آج چیئرنگ کراس مال روڈ پر دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا ہے، جہاں کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے نمٹنے کےلئے پولیس کی بھاری نفری بھی موجود ہے، ٹھوکر نیاز بیگ کو کنٹینر رکھ کر بند کر دیا گیا ہے.

چین امریکی کاروں پر ٹیکس کی شرح کو کم کردے گا ، امریکی صدر ٹرمپ

لاہور(ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین امریکی کاروں پر ٹیکس کی شرح کو 40 فیصد سے کم کردے گا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور چین کے صدور کے درمیان جی-20 سمٹ کے درمیان ملاقات کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں، چین نے امریکی مصنوعات پر ٹیکس ختم یا کم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین نے امریکا سے ایکسپور ٹ ہونے والی کاروں پر عائد 40 فیصد برآمدی ٹیکس کو کم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے تاہم اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی چین کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔امریکی صدر اور چینی ہم منصب کے درمیان جی-20 سمٹ کے حاشیے میں اہم ملاقات کے دوران 90 دن کے لیے نئے ٹیکس کے اطلاق کو موخر کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا جب کہ دونوں رہنماﺅں نے ان 90 دنوں میں تجارتی تنازعات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ امریکا اور چین نے ایک دوسرے پر عائد نئے ٹیکس معطل کردیے واضح رہے کہ رواں برس امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت دیکھنے میں آئی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی برآمدی اشیاءپر ٹیکس عائد کرنے کا نہ رکنے والا محاذ کھول رکھا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*