بنیادی صفحہ -> پاکستان کی خبریں -> کیا واقع ٹک ٹاک پاکستان میں بند ہورہا ہے ؟ اصل کہانی سامنے آگئی
ٹک ٹاک
ٹک ٹاک

کیا واقع ٹک ٹاک پاکستان میں بند ہورہا ہے ؟ اصل کہانی سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا کی مشہور ویڈیو ویب ٹک ٹاک پاکستان سمیت دنیا بھر میں مشہور ہے جس کے مداحوں پاکستان سمیت دنیا بھرمیں موجود ہے اور حل ہی میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک پاکستان میں بھی آفیشل کردی گئی تھی – جس کے بعد کچھ دن قبل سوشل میڈیا پر افواہیں زیر گردش تھی کہ 10 جنوری سے پاکستان میں ٹک ٹاپ ایپ بند کی جارہی ہے۔ ان افواہوں کا سلسلہ ایک شہری کی وزیر اعظم شکایات پورٹل کو شکایت کے بعد شروع ہوا ہے لیکن ٹک ٹاک کی بندش کے بارے میں حکومتی سطح پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا ۔
ذرائع کے مطابق :‌سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک کی بندش کے حوالے سے افواہوں کا بازار اس وقت گرم ہوا جب ایک شہری نے اس ایپ کو بند کرنے کیلئے پاکستان سٹیزن پورٹل (وزیر اعظم شکایات پورٹل) کو کی۔ پشاور کے ایک شہری نے ٹک ٹاک کو بند کرنے کے حوالے سے وزیراعظم شکایات پورٹل پر شکایت کی ہے۔ شہری نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ٹک ٹاک نامی ایپ ہمارے معاشرے کو خراب کر رہی ہے اس لیے اسے بند کیا جائے۔شہری کا کہناتھاکہ پاکستانی شہری ٹک ٹاک پر بہت زیادہ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ پاکستان سٹیزن پورٹل نے شہری کی شکایت پی ٹی اے کو ارسال کر دی ہے- شہری کی شکایت کے بعد سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کرنے لگیں کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے 10 جنوری کو ٹک ٹاک کو بند کیا جارہا ہے تاہم اس بارے میں حکومتی سطح پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر بھی ٹک ٹاک کی بندش کے حوالے سے کوئی اعلان موجود نہیں ہے۔ پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی پریس ریلیزوں کا جائزہ لیا جائے تو آخری پریس ریلیز 27 دسمبر 2018 کو جاری کی گئی تھی جبکہ اس ویب سائٹ پر آخری سرگرمی 4 جنوری 2019 کی نظر آتی ہے۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ تو 24 گھنٹے چلتا ہے اور اس کی نگرانی بھی ہر وقت کی جاتی ہے لیکن پاکستان کے حکام شاید اب بھی 20 ویں صدی میں جی رہے ہیں ۔پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر دیے گئے نمبر پر اگر آپ شام 5 بجے کے بعد فون کرنے کی غلطی کریں گے تو یقیناً آپ کو فوراً احساس ہوگا کہ یہ 21 ویں صدی نہیں بلکہ 20 ویں صدی ہے جہاں صبح 9 سے 5 بجے تک کام کیا جاتا ہے۔اگر آپ کو ہماری جانب سے پی ٹی اے کو فون کرنے والی غلطی پر یقین نہیں ہے تو خود تجربہ کرکے بھی اس کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*