بنیادی صفحہ -> دنیا کی خبریں -> ترک صدر طیب اردگان پرسنگین ترین الزام لگ گیا
طیب اردگان

ترک صدر طیب اردگان پرسنگین ترین الزام لگ گیا

لاہور(ویب ڈیسک): ترکی کے ایک سرکردہ اپوزیشن رہ نما اور کردوں کے حامی لیڈر سیزائی تمیلی نے صدر رجب طیب اردگان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک صدر الزام ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب دوسری جانب حال ہی میں یہ خبریں آئی تھیں کہ شام میں القاعدہ کی ایک شاخ جو پہلے النصر فرنٹ اور اب ‘تحریر الشام’ کے نام سے سرگرم ہے کا سربراہ کا علاج کے لیے ترکی پہنچ گیا ہے۔اسی تناظر میں بات کرتے ہوئے ترک ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی کے سربراہ سیزائی تمیلی نے کہا کہ صدرطیب اردگان کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لیے اور کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اگر القاعدہ کے لیڈر کو ترکی میں علاج کی اجازت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر طیب ایردوآن اور ان کی حکومت دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ترک سیاسی جماعت ایچ ڈی پی کے سربراہ نے خبررساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ ترکی کی حکمران جماعت ‘آق’ کی طرف سے شام میں دہشت گردوں کے لیے اسلحہ اور دیگر جنگی سامان بھیجا جاتا رہا ہے۔ اسلحے سے لدے کئی ٹرک شام بھیجنے کی کوشش کے دوران پکڑے گئے۔ انہیں شام کے الرقہ شہر میں لڑنے والے دہشت گرد جنگجوؤں کو پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔انہوں نے الزام عاید کیا کہ ترکی اور شام کی گزرگاہوں سے”آق” کے ایک وزیر نے کروڑوں ڈالر کمائے۔ وہ ان گزرگاہوں سے شام میں لڑنے والے جنگجوؤں کو اسلحہ پہنچانے میں مدد کرتے ہیں۔ ان میں بعض گزرگاہوں پر شام میں ‘داعش’ کے جنگجوؤں کا کنٹرول تھا۔ایک سوال کے جواب میں تمیلی نے کہا کہ شام میں ترکی کی حمایت میں لڑنے والے ہزاروں جنگجو سیرین ڈیموکریٹک فورسز ‘ایس ڈی ایف’ کی قید میں ہیں۔ ترکی ایس ڈی ایف کی حمایت کرتا ہے جب کہ ترکی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔تمیلی کا کہنا تھا ترکی کی حکومت شام میں گرفتاری داعش اور النصرہ کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی رہائی سے خایف ہے۔ اس لئے وہ ان کی رہائی کا مطالبہ نہیں کر رہی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*