بنیادی صفحہ -> دنیا کی خبریں -> امریکہ میں تعلیم کے لحاظ سے کونسی کمیونٹی سب سے آگے ہے
امریکہ

امریکہ میں تعلیم کے لحاظ سے کونسی کمیونٹی سب سے آگے ہے

لاہور(ویب ڈیسک): امریکہ میں چار سالہ کالج کی ڈگری کو اقتصادی ترقی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے ایسے میں آپ کے خیال میں کس مذہب کے پیروکار سب سے آگے ہو سکتے ہیں؟امریکہ میں حال ہی میں مذہب کی بنیاد پر شائع ہونے والے اعداد و شمار سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی مختلف تعداد سامنے آئی ہے جس میں حیران کن انداز میں بعض مذاہب کی پیروی کرنے والے دوسرے مذاہب سے بہت آگے ہیں۔تحقیق کرنے والی معروف کمپنی پیو ریسرچ کے مطابق کالج کی ڈگری حاصل کرنے والی مذہبی برادری میں سب سے آگے ہندو ہیں، جن میں 77 فیصد لوگ کالج کرتے ہیں۔ان کے بعد یونیٹیرین یونیورسلسٹ آتے ہیں، جن کا فیصد 67 ہے۔ اس نظریے کے حامی لبرل ہوتے ہیں اور سچائی کے لیے آزاد اور ذمہ دارانہ تلاش و جستجو میں یقین رکھتے ہیں۔ان دو مذہبی برادریوں کے بعد، یہودی آتے ہیں جن میں کالج کی ڈگری کے حصول کا فیصد 59 ہے جبکہ اینگلیکن چرچ کا فیصد بھی ان کے برابر ہے۔ ایپسکوپل چرچ کے لوگوں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کا فیصد 56 ہے۔اس تحقیق سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امریکہ میں جب تعلیم اور اقتصادی ترقی کے معاملے میں ہندو اور یہودی آگے ہیں تو اس لیے امریکہ میں خاندانی آمدنی میں کے معاملے میں بھی یہی دو برادریاں آگے ہیں۔سنہ 2014 کے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ میں 44 فیصد یہودی اور 36 فیصد ہندو خاندان ایسے ہیں جن کی سالانہ آمدن کم از کم ایک لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔امریکہ میں گریجویٹ کرنے والوں کا اوسط 27 فیصد ہے اور کئی دوسرے مذاہب بھی اس قومی اوسط سے آگے ہیں۔ ان میں بودھ مذہب کے پیروکار اور پریسبائیٹیرین چرچ(امریکہ 47-47 فیصد) ہیں۔ آرتھوڈاکس مسیحی 40 فیصد ہیں جبکہ مسلمان 39 فیصد ہیں۔امریکہ میں سب سے زیادہ تعداد کیتھولک مسیحی کی ہے جو کہ ہر پانچ میں سے ایک ہیں اور ان میں قومی اوسط کے تقریبا برابر 26 فیصد گریجویٹ ہیں۔پیو کی ایک اورایسی ہی ملتی جلتی تحقیق میں 151 ممالک کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اوسطا تعلیمی عرصے کی معلومات لی گئی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں اوسطا حصولِ تعلیم کا عرصہ سات اعشاریہ سات سال ہے۔ تمام مذاہب میں سے یہودی سب سے زیادہ یعنی 13.4 سال تعلیم حاصل کرنے میں لگاتے ہیں اسکے برعکس ہندو اورمسلمان عالمی سطح پراس مقصد کے لیے سب سے کم وقت یعنی پانچ اعشاریہ چھ سال صرف کرتے ہیں۔تو امریکا کی ہندو برادری میں یہ رجحان الٹا کیوں ہے؟ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں اقلیتوں میں پڑھنے لکھنیکا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے، خصوصا ان میں جن کا آبائی وطن بہت دور ہو یا جس کے بیشتر باشندے مقیم ملک سے باہر پیدا ہوئے ہوں۔ امریکا کے ہندوں میں سے 87 فیصد لوگ ملک سے باہر پیدا ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سخت امیگریشن پالیسی کی وجہ سے امریکی انتظامیہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد کو ہی ترجیح دیتی ہے اور ایسے ہی افراد امیگریشن کے پیچیدہ عمل سے کامیابی سے گزر پاتے ہیں۔ بظاہر یہ تعلیم یافتہ افراد اپنی اگلی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے بھی امریکہ میں تارکینِ وطن میں حصولِ تعلیم کے رجحان میں اضافے کی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*