بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ویلنٹائن ڈے ایک غیر شرعی تہوار
ویلنٹائن ڈے

ویلنٹائن ڈے ایک غیر شرعی تہوار

ویلنٹائن ڈے ایک غیر شرعی تہوار
آشوب قلم
راؤ عمر جاوید ایڈووکیٹ
ویلینٹائن ڈے ایک مغربی تہوار ہے جو 14۔ فروری کو منایا جاتا ہے اس موقع پر غیر شادی شدہ لڑکے، لڑکیاں اور شادی شدہ افراد سرعام سڑکوں اور چوراہوں پر ایک دوسرے سے ‘‘ اظہار محبت ‘‘ کے طور پر سرخ گلاب دیتے ہوئے نظر آ تے ہیں ویلنٹائن ڈے کو مغرب میں بے حیائی کے فروغ کے طور پربھی منایا جاتا ہے لیکن مغربی تقلید کے دلدادہ ایک مختصر سے طبقے نے اسے اسلامی دنیا میں بھی منانا شروع کردیا ہے نوجوان ہی کسی بھی قوم کا روشن مستقبل ہوتے ہیں جبکہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانو ں پر ہی مشتمل ہے ۔ اس لحاظ سے پاکستان خوش قسمت ملک ہے جس کو اتنی زیادہ افرادی قوت دستیاب ہے اگر ان نوجوانوں کی راہنمائی درست سمت میں کی جائے تو وہ ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز میں نوجوان نسل کی اکثریت ماضی کی حکومتو ں کی ناقص پالیسیو ں، والدین اور اساتذہ کی جانب سے صحیح طرح سے راہنمائی نہ ملنے کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر بے راہ روی کی جانب گامزن نظر آ تی ہے جس کی وجہ سے آ ج ملکی حالات ناگفتہ بہ ہیں ہماری نوجوان نسل مغربی اقوام کی پیرو ی میں اپنے اسلاف کے شاندار کردار کو فراموش کر چکی ہے جن کے سنہری اصولو ں کو اپنا کر مغرب نے ترقی کی حدو ں کو چھو رکھا ہے افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کی محنت ، ایمانداری اور اصول پسندی جیسی اچھی باتو ں کی پیروی نہیں کی جارہی جس کی بناء پر آج وہ ایک بلندمقام پر نظر آ تی ہیں لیکن یہاں ان کی قبیح رسومات کی اندھا دھند تقلید کی جارہی ہے مغربی معاشر ہ مادر پدر آزاد معاشرہ ہے جہاں عورت کی حیثیت ایک نمائش کے سوا کچھ نہیں لیکن اسلام نے عورت کو ایک ماں ،بیٹی ،بہو اور بیوی کی حیثیت سے ایک اعلیٰ اور بلند مقام عطاء کیا ہے اور ان رشتو ں کے تقدس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے جن کو نظر انداز کر نا گویا مذہب سے روگردانی کے مترادف ہے ویلنٹائن ڈے ایک غیر شرعی تہوار ہے جو کسی طور بھی ہمارے معاشرے میں قابل قبول نہیں ہے یہ دراصل ہماری اسلامی روایات پر ایک کاری ضرب ہے اس کے ذریعے ہماری اسلامی روایات اور اخلاقی و معاشرتی اقدار کو تباہ کرنے کی کوئی گھناؤنی سازش کی جارہی ہے کہ ہم اپنی ماؤ ں ،بیٹیو ں اور بہنو ں کی حرمت کو بھول جائیں اور ہمارا معاشرہ بھی مادر پدر آ زاد معاشرے میں بدل جائے اور ہم اپنے مذہب سے دوری اختیار کرکے اسلام کا نام ہی لینا بھول جائیں ہم دوسرو ں کی بیٹیو ں اور بہنو ں کی عزت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیروں کے پھیلائے جال میں پھنستے جا رہے ہیں ہم اپنی بہن اور بیٹی کے معاملے میں تو بہت حساس ہیں لیکن دوسرے مسلمان بھائی کی غیرت اور عزت کو وہ اہمیت نہیں دیتے حالانکہ بحیثیت مسلمان ہم دوسرے مسلمان کی عزت ،حرمت اور غیرت کے پاسبان ہیں نوجوانو ں کو تو چاہیئے کہ وہ ایسی تمام قبیح اور مکروہ رسومات سے شدید نفرت کا اظہار کریں کیو نکہ آ ئندہ نسل ان خرافات سے محفوظ رہے اگر آ ج ہم یہ کام نہیں کرتے تو کل ہماری اگلی نسل بھی اس موذی رسم سے محفوظ نہیں رہے گی اور ہمارا معاشرہ تباہی سے دوچار ہوتا رہے گا جس میں خو شحال اور پرسکون زندگی گذارنا ناممکن ہو گا حکومت کو چاہیئے کہ ویلنٹائن ڈے جیسی رسومات پر سختی سے پابندی لگا کر اس کا پرچار کرنے والو ں کی سرکوبی کے لئے موثر اقدمات کرے حکومتی ایوانو ں میں بھی ایسے کئی خبیث گھسے ہوئے ہیں جو اسے نوجوانو ں کے لئے انجوائے منٹ کا نام دیتے ہیں جبکہ میڈیا کا ایک حصہ بھی مغربی خرافات کو عام کرنے میں اپنا مکروہ کردار ادا کررہا ہے جس کی روک تھام بھی ضروری ہے اگر آ ج ایسی رسومات کو نہ روکا گیا تو کل کو کئی بہت ساری ایسی برائیا ں جنم لے سکتیں ہیں جو مسلم معاشرے میں ناقابل قبول ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے اور حکمرانوں کوتوفیق دے کہ وہ اس مملکت خداداد کو احکامات الہیٰ کی روشنی میں چلانیکے قابل ہو جائیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*