بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> نواز شریف مستعجب کیوں ہیں؟

نواز شریف مستعجب کیوں ہیں؟

محمدوقار اسلم
جیل کی صعوبتیں اور دل آزاری کی جس فضا ءنے مسلم لیگ نواز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس کا اندازہ فی الحال انہیں ہی بہتر ہو سکتا ہے کوئی چمہ گوئیاں کر رہا ہے تبصرے کر رہا ہے اس سے یقینا نواز شریف کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جس وقت انہیں اپنے لئے آواز بلند کروانے کی ضرورت تھی اس وقت سب لال جھنڈی دِکھا کر تتر بتر ہوگئے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انہیں اردگرد جو لوگ ملے وہ بھی خوب سے خوب تر ملے ، ایک خاتون سے جیل میں ملاقات ہوئی تو موصوفہ نے باہر آکر شور مچا دیا کہ میاں صاحب کہہ رہے ہیں کہ میں باہر ہوتا تو خود جے ایف تھنڈر 17 اڑا کر بھارت پر حملہ آور ہوجاتا اس بات کا شغل پوری دنیا نے اڑایا حالانکہ ذی شعور شخص خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ نواز شریف جیسا سیاستدان کبھی ایسا بیان نہیں دے سکتا۔نواز شریف کی صحت ناساز ہے اس حوالے سے جب کافی روز قبل شور مچایا گیا تو خاندانی ذرائع نے تردید کی پھر اس کے بعد علاج کے لئے انہیں حکومت پنجاب نے بہت خوارکر کے تکلیف کے اس سیلِ رواں کو مزید تقویت دی انہیں اس ہسپتال میں لے جایا گیا جس میں امراض قلب کی وارڈ ہی نہ تھی۔نواز شریف کی صحت کی قلعی جن ڈاکٹرز نے کھول دی کہ واقعی کتنی حالت خراب ہوتی جار ہی ہے تو ان ہی ڈاکٹرز کی کردار کشی شروع کردی گئی ۔ اب مریم نواز خود بتاتی ہیں کہ ان کے خاندان پر کیسے ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ انجائنہ کی شکایت کوئی تین بار ہو چکی۔اب نواز شریف بعضد ہیں کہ وہ علاج کسی کے رحم و کرم پر نہیں کروائیں گے عدالت اجازت دے گی تو ہی تسلی بخش طریقے سے کروائیں گے۔ اچھا ہوا بلاول کو بھی کسی نے یا د کروایا کہ انہیں چچا نواز سے ملنے جانا چاہیے اور ان کا ہمدرد بن کے منکسر المزاج رہ کر ملنے جانا ہے اور پھر صدا بھی بلند کرنی ہے کہ بیمار شخص کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے لیکن نواز شریف کا تیقن ہے کہ اگر ان کی زندگی لکھی ہے تو پھر کسی کی سفارشات کی ضرورت نہیں انہیں مدد مانگنے کا کوئی در اگر نظر آتا ہے تو وہ مستعجاب الدعوا ت ہیں ۔ نواز شریف کی یہ خاموشی بے وجہ نہیں ہے بلکہ ایک روحانی لمس ہے جو انہیں میسر ہے جیسا کہ ان کے سمدھی اسحاق ڈار نے بھی اپنی کمپنیز کی بنیاد حضرت داتا گنج بخش ؒ کے نام پر رکھی ۔ نواز شریف مستعجب ضرور ہیں مگر ان کی امید کی ڈوریاں بہت پکی ہیں وہ جانتے ہیں کہ وقت مشکل ہے لیکن اسے ضرور گزر جانا ہے اور اس سب سے وہ نکل آئیں گے۔ نواز شریف کو تعجب شاید ان لوگوں پر ہے جن کے نزدیک ان کی کہانی ختم ہو چکی ہے حالانکہ جاںابھی باقی ہے اوران کے اچھے دن لوٹ بھی سکتے ہیں جیسا پہلے بھی تاریخ دیکھ چکی اور لکھ چکی ہے ۔ کسی بھی طرح کی مصالحت سے انکاری نواز شریف نے جو مشکلات جھیلنی تھیں وہ جھیل چکے اور جھیل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مریم نواز کے نام سے امریکی سفارتخانے کو لکھا گیا جعلی خط گردش کرتا رہا جس کو دبلا سوچے سمجھے دھڑا دھڑ شیئر کیا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت کو نجانے کونسی خار ہے کہ وہ نواز دور میں کئے جانے والے ایک بھی اقدام کا کریڈٹ دینے کو تیار تو نہیں ہے خامیاں تلاش کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ پی کے ایل آئی کی قابلیت کوماننے سے بھی انکاری ہیں تاکہ اس کا کریڈٹ شریف برادران کو مت چلا جائے، تاہم ایک بات یاد رکھیئے گا کہ مفاہمت کے ٹائر سے ہوا نکل چکی ہے میثاق جمہوریت کی تجدید اب اس طر ح ممکن نہیں کیونکہ بلاول کے ملاقات کے لئے جانے میں ایک فطری اور متاسف جذبہ ضرور پس پشت ہو سکتا ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیوں کہ اس کا وقت اس پہر ہی بیت گیا تھا جب پیپلز پارٹی مذاق اڑانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہی تھی اور
اسے اپنے آپ کو اسٹیبل کرنے کی لت لگی ہوئی تھی۔اب جب پیپلز پارٹی یہ محسوس کر رہی ہے کہ اگلی وصولیاں ان سے کی جائیں گی اور ان کے کئے دھرے کا پورا حساب ان سے بھی لیا جانا ہے تو وہ اپنی جانب توجہ مرکوز ہونے نہیں دینا چاہتی اور مسلم لیگ نواز کے ایشو میں ہی الجھائے رکھنا چاہتی ہے اور ایسا ہوتا رہے گا یہ ان کی بہت بڑی کج فہمی ہے جس سے نکلنے کے لئے انہیں ان بلبلوں کو پھوڑنا ہوگا جو ان کے مطمع نظر میں جگہ جگہ پھیلے ہیں اور ان کے وفادار ہیں۔ نواز شریف اس لئے بھی حیران ہیں کہ کیا لوگ اپنا وقت بھول بیٹھے ہیں کیا ان کا خیال ہے کہ مسائل نواز شریف کا ہی تعقب کرتے رہیں گے اور یہ خود اس سب سے آسانی کے ساتھ چھپے رہیں گے ۔ شہباز شریف بھی بڑے بھائی کے لئے بول ہی پڑے کہ ناقص انتظام صحت میں اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار عمران خان ہونگے۔ ظاہر ہے اگر وزیراعظم اس معاملے کی شنوائی نہیں کریں گے یا انہیں کوئی دلچسپی نہیں یا اس موضوع کو اتنی اہمیت نہیں دیتے تو یہ واقعی مجرمانہ غفلت ہے۔ نواز شریف کو ہی اس ہزیمت سے نبردآزما ہونا پڑے گا؟ یا پاکستان کے بالغ النظر سیاستدان کا استعداد اس کے کسی کام آئے گا اس کا فیصلہ تو وقت نے کرنا ہے اور وقت بہترین جواب دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*