بنیادی صفحہ -> گوشہ خواتین -> لپ اسٹک کی موجودہ شکل دنیا بھر میں کس برس میں متعارف کروائی گئی تھی ؟

لپ اسٹک کی موجودہ شکل دنیا بھر میں کس برس میں متعارف کروائی گئی تھی ؟

لاہور(ویب ڈیسک) لپ اسٹک کی موجودہ شکل کو پہلی مرتبہ131برس پہلے متعارف کروایا گیا تھا۔تب سے لپ اسٹک نے نہ صرف عورت کی ظاہری شکل کو تبدیل کیا ہے بلکہ اس کے معاشرتی کردار پر بھی اثر انداز ہوئی ہے ۔اس سے قطع نظر کہ ملک غریب ہو یا امیر ،دنیا بھر میں خواتین میک اپ میں لِپ اسٹک کو خاص اہمیت دیتی ہیں اور یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا میک اپ کا آئٹم ہے ۔

تفصیلات کے مطابق : سن 1883ء میں پہلی مرتبہ لپ اسٹک کی موجودہ شکل کو ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں ہونے والی ایک عالمی نمائش میں متعارف کروایا گیا ۔ایمسٹرڈم کی نمائش کے چند ماہ بعد لِپ اسٹک کی تجارتی بنیاد پر دریافت میں پیروس کے خوشبو ساز ادارے کے دو ماہرین کا سمیٹک شامل تھے۔ سن 1884میں یورپی ملک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پہلی مرتبہ لپ اسٹک کو میک اپ کے ایک اہم جزو کے طور پر کمرشل انداز میں متعار ف کروایا گیا تھا۔ شروع میں اس کو مشکوک نظروں سے دیکھا گیا اور اس کا استعمال صرف تھےئٹر یکل اداکارائیں ،رقاصائیں اور جسم فروش خواتین کرتی تھیں ۔سن 1912میں امریکا کی فیشن ایبل خواتین نے لپ اسٹک کو قبول کر لیا تھا۔ ابتدا میں لپ اسٹک نہ صرف مہنگی بلکہ ایک لگژری آئٹم تھی۔عوامی سطح پر اس کو پذیرائی گزشتہ صدی میں بیس کی دہائی میں ’خاموش فلموں ‘کے دور میں ملی۔

سن 1893میں ہی امریکا میں قائم ہونے والے فیشن اسٹورسےئرز(Sears) کی فیشن کیٹلاگ میں بھی لپ اسٹک کو شامل کیا گیا تھا۔اندازہ لگا یا گیا ہے کہ سن 1912میں امریکا کی فیشن ایبل خواتین نے لپ اسٹک کو قبول کرلیا تھا۔ یورپ میں فیشن ایبل خواتین نے امریکی خواتین کے لپ اسٹک استعمال کرنے کے نوسال بعد اسے اپنا نا شروع کیا تھا۔سن 1921ایک ایسا سال تھا جب اس وقت کے تجارتی اور سیاسی منظر پر اجارہ داری کے حامل ملک برطانیہ کے دارالحکومت لندن کی خواتین نے اسے پسند کرنا شروع کیا اور یہی اس کی عام مقبولیت کا باعث بنا۔ انیسویں صدی کی پہلی چوتھائی کے دوران لندن فیشن کا گھر خیال کیا جاتا تھا۔ جرمن خواتین میں بھی لپ اسٹک حالیہ برسوں میں بہت مقبولیت اختیار کر چکی ہیں ۔ 2012ء میں 78فیصد جرمن عورتوں نے لپ اسٹک یا لپ گلوس کو استعمال کیا۔اس طرح جرمن خواتین نے میک اپ کے اس لازمی جزو پر 64ملین یوروخرچ کیے۔

لپ اسٹک استعمال کرنے والی جرمن خواتین کی یہ تعداد سن 2011کے مقابلے میں 5.6فیصد زیادہ بنتی ہے ۔ لپ اسٹک کی 131ویں سالگرہ کے موقع پر تیز رنگ متعارف کروائے گئے ہیں اور ان میں سرخ رنگ خاص طور پر اہم ہے ۔فیشن ایکسپرٹ رینے کوخ کے مطابق یہ خواتین میں اعتماد اور کامیابی کی علامت ہے ۔ سن 2012میں 78فیصدجرمن عورتوں نے لپ اسٹک یا لپ گلوس کو استعمال کیا۔ہزاروں سال پہلے قدیمی مصری تہذیب میں فراعین کی ملکائیں بھی ہونٹوں پر سرخ رنگ کا استعمال کرتی تھیں۔ ان میں قلوپطرہ اور نفراتیتی بھی شامل ہیں ۔اس وقت سرخ رنگ کو چھوٹی چھوٹی ڈبیوں میں محفوظ رکھا جاتا تھا اور انگلی یا پھر برش کی مدد سے ہونٹوں پر لگا یا جا تا تھا۔اس وقت یہ عقیدہ تھا کہ ہونٹوں پر رنگ لگانے سے شیطانی قوتیں انسان کے جسم میں نہیں گھس سکتیں ۔سولہوں صدی میں انگلستان میں سفید پاؤڈر سے چہرے کو سفید اور سرخ رنگ سے ہونٹ رنگنا اشرافیہ طبقے کا معروف فیشن تھا۔ عام طور پر ایک لپ اسٹک کا 60فیصد حصہ موم اور تیس فیصد مختلف آئلز پر مشتمل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں مختلف خوشبوئیں ،رنگ اور کبھی کبھار سیلیکون بھی استعمال کیا جاتے ہیں ۔لپ اسٹک میں استعمال ہونے والا رنگ ’کوکی نیل‘نامی چھوٹے چھوٹے کیڑوں سے حاصل کیا جاتا ہے ۔میکسیکو میں پائے جانے والے ان کیڑوں کو خشک کرکے قرمزی رنگ بنایا جاتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*