رنگ گورا کرنے والی کریم کا مسلسل استعمال خاتون کو مہنگا پڑگیا

لاہور(ویب ڈیسک) ایک واقعے سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ رنگت گوری کرنے والی کریموں سے اعصابی نظام شدید متاثر ہوسکتا ہے۔

اس ضمن میں ایک واقعہ امریکا میں پیش آیا ہے جہاں ایک خاتون نے میکسکو سے بنی ہوئی کریم کا مسلسل استعمال کیا تو اس کا مرکزی اعصابی نظام (سینٹرل نروس سسٹم) شدید متاثر ہونے لگا۔ ڈاکٹروں نے ابتدائی مرحلے میں اس کی وجہ پارے (مرکری) کو قراردیا ہے جس کی بڑی مقدار کریم میں شامل کی گئی تھی اور اس کا مقصد رنگ صاف کرنا تھا۔ خاتون کی صحت اب اتنی بگڑچکی ہے کہ انہیں نلکی کے ذریعے کھانا پینا دیا جارہا ہے اور وہ اپنا خیال رکھنے بلکہ بولنے سے بھی محروم ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کریم میں میتھائل مرکری کی صورت میں نامیاتی پارہ (آرگینک مرکری) موجود تھا جو امریکا میں میتھائل مرکری سے متاثر ہونے کا 50 سال میں پہلا واقعہ ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو (یو سی ایس ایف) کے ڈاکٹر نے اس پورے کیس پر غور کرنے کے بعد کہا ہے کہ جلد کی رنگت نکھارنے والی کریموں کی اکثریت میں غیرنامیاتی (ان آرگینک) پارہ ہوتا ہے لیکن خاتون کو متاثر کرنے والی کریم میں آرگینک مرکری شامل تھی جو ثابت شدہ زہریلے اور مضر اثرات رکھتی ہے۔ ایسی کریمیں انسانی اعصابی نظام کو تباہ کرسکتی ہیں اور استعمال بند کرنے پر بھی ان کا نقصان جاری رہتا ہے۔ خاتون کئی عرصے سے کریم استعمال کررہی تھیں۔ پہلے ان کے پٹھوں میں غیرارادی حرکت پیدا ہوئی۔ پھر کمزوری بڑھی جو بازو اور کاندھے تک پہنچی ۔ دو ہفتے بعد ان کی نظر دھندلاگئی اور بولنے میں شدید دقت ہونے لگی۔ بعد ازاں گھر والوں نے بتایا کہ وہ کریم سات سال سے روزانہ صبح و شام استعمال کرتی رہی تھیں۔ ماہرین نے خاتون کے علاج کے لیے چیلیشن تھراپی استعمال کی جس کی بدولت جسم سے زہر نکالا جاتا ہے لیکن طبعیت مزید بگڑگئی کیونکہ وہ اس قسم کے پارے کو جسم سے نہیں نکال پائے کیونکہ زہر کی نوعیت مختلف تھی-