بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> مارچ۔۔۔عورت مارچ اور چند گالیاں

مارچ۔۔۔عورت مارچ اور چند گالیاں

از: نوشین نقوی
خدا کا شکر ہے کہ 8مارچ کا ویمن مارچ گزر گیا۔۔۔۔اس کے بعد تقریباہر طرح کی نیک وبد،گھر میں رہنے والی،باہر پھرنے والی،کام کرنے والی،نکمی،پڑھنے والی ،پڑھانے والی،لپ اسٹک لگانے والی،بیوگی کی چادر اوڑھ کر بھی دوسروں کے مرد پر نظر رکھنے والی،طلاق کے بعد شوہر بدلنے والی،ذرا سی مار کھا کر شور کرنے والی،معاشرے میں بگاڑ کا باعث بننے والی،بچے پیدا کرنے والی،بچے پیدا نہ کرنے کی خواہش کرنے والی،کوٹھے چلانے والی ،انہی کوٹھے پہ جانے والوں کے گھر بسانے والی،چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کے جسم نمایاں کرنے والی،برقعہ پہننے والی ،خوبصورت کاجل زدہ آنکھوں والی،چھوٹے قد والی ، موٹے جسم والی،حسین چہرے والی،چہرے پر چچک کے داغوں والی،لڑکے پھنسانے کے لئے گھروں سے نکلنے والی،ناچنے والی،گانے والی،کھانا بنانے والی،بازاروں سے پکا پکایا کھانے والی،بے دریغ شاپنگ کرنے والی،شوہروں کے آگے زبان چلانے والی،آئٹم نمبر والی،یہ والی اچھی والی،وہ والی بری والی۔۔۔۔ سب کی سب ایسے ہی یا اس سے ملتے جلتے خطبات سے گالیاں بھی کھا چکی ہیں۔ کچھ چہرہ چھپائے پھرتی ہیں کہ بھئی ہمیں کیوں گالیاں دے رہے ہو وہ دوسری عورتیں ہیں جو آزاد خیال ہیں،ہم تو ایسی نہیں ہیں،اور کچھ کھل کے کہہ رہی ہیں ہاں بھئی،جو کیاہے، اس پر قائم ہیں۔چونکہ گالیاں دینے والے تمام شریف،نفیس،تعلیم یافتہ،سلجھے ہوئے،سمجھ دار ،وضع دارمرد، ویمن مارچ میں شریک عورتوں کو جہنم کا ایندھن ثابت کرچکے ہیں اس لئے میری رائے کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔
سال کا تیسرا مہینہ مارچ دنیا بھر میں موسم بہار کے ساتھ ساتھ خواتین کے مہینے کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔جہاں ایک طرف کھلتے پھولوں کی خوشبو روح میں اترتی ہے تو دوسری طرف خواتین کے وجود کو ایک روح ،ایک احساس ،ایک خوشبو کے طور ماننے کی طرف ابھی بھی قدم اٹھانا ہمیں بوجھ محسوس ہوتا ہے۔دنیا بھر میں خواتین کے ساتھ رویے کم و بیش ایک جیسے ہیں۔وہ صدیوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔انہیں برابری چاہئے۔۔جب وہ خواہش کریں تو وہ پوری کرسکیں یا نہ بھی کر سکیں تو اس کی و جہ کسی دوسری جنس کی مداخلت نہ ہو۔ان کے ساتھ ریپ نہ ہو،زبردستی نکاح بھی نہ ہو،انہیں برابری کا کھانا ملے،ان کو اس وجہ سے تعلیم نہ چھوڑنی پڑے کہ بھائی نے پڑھنا ہے اور اس کی شادی ہونی ہے۔ان پر گھریلو تشدد نہ ہو،ان کو جہیز لانے پر طعنہ نہ ملے،جب کوئی ان کی عزت کرے تو ان کو جتائے نہیں کہ دیکھا ہم نے تمہاری عزت کی ،تمہارے لئے سیٹ چھوڑ دی۔وہ مردانہ احساس کمتری سے آزاد ہو کے سانس لیں تو کوئی انہیں بدکردار نہ کہے۔کوئی یہ نہ کہے اس کو اس لئے قابو رکھوکہ چار پیسے کمانے لگ گئی تو طلاق لے لے گی۔اس کو دفتر میں یہ نہ کہیں کہ ہم آپ کو اپنے گھر کی عورتوں جیسی عزت دیتے ہیں بلکہ ان کو اس لئے عزت دیں کہ وہ گھر اور باہر دونوں محاذ پر ڈٹی ہوتی ہیں۔اگر کوئی پوسٹر،کوئی تحریر آپ کے اعصاب پر گراں گزرتی ہے تو اسے نظر انداز کر دیں ،جیسے بس اسٹاپ پرکھڑی ہونے والی،آپ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے والی ،آپ کے ساتھ زندگی گزارنے والی ،آپ کو کسی شاپنگ مال میں ملنے والی، آپ کو جنم دینے والی،آپ کی بیوی،آپ کے بچوں کی ماں،آپ کی بہن،آپ کی ہمسائی،ٹی وی اسکرین پر آنے والی ماڈل ایکٹرس،آپ کی کوئی باس یا آپ کے ارد گرد موجود ہر عورت آپ کی ہزاروں حرکات و سکنات کو نظر اندازکر دیتی ہیں۔ نہ کہ چند پوسٹرز،سال میں ایک آدھ ہونے والے مارچ یا پھرکو بہانہ بنا کے عورتوں کو گندی گالیاں دیں کہیں کہ یہ عورتیں عزت کے قابل ہی نہیں ۔۔۔کیونکہ اگر صرف اتنی سی بات کو وجہ بنانا لاجیکل ہے تو یقین جانئے شاید چند ہی مرد قابل برداشت نکلیں۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*