خواتین گھر بیٹھے کیسے کمائیں؟

متحدہ عرب امارات میں خواتین میں گھر بیٹھے کاروبار کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کاروبار کے لیے انہیں معمولی سا سرمایہ درکار ہوتا ہے۔

اگر تکنیکی مدد اور مارکیٹنگ کی سہولت حاصل ہو جائے تو محدود کاروبار کا دائرہ وسیع بھی کیا جاسکتا ہے۔
الامارات الیوم کے مطابق ایوان صنعت و تجارت کے ماتحت ابوظبی لیڈیز بزنس ویمن کونسل نے گھروں سے کاروبار کی خواہشمند خواتین کے لیے سپیشل لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے ’مبدعة‘ (جدت طراز ) کا نام دیا گیا ہے۔
سپیشل لائسنس سے وہ خواتین فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو ڈگریاں لے کر بھی بغیر روزگار کے گھروں میں بیٹھی ہیں۔ گھریلو دستکاری میں ماہر خواتین، ہاﺅس وائف، مطلقہ اور بیوہ خواتین بھی اس سے مستفید ہوں گی۔
ابوظہبی بزنس ویمن کونسل کے مطابق جو خواتین گھر سے کاروبار کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں وہ اپنے پروگرام کو سکیم کی صورت میں تیار کریں۔ انہیں تربیت، مارکیٹنگ کی سہولت اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے گی۔
انہیں یہ بھی بتایا جائے گا کہ کس طرح وہ اپنا کاروبار شرو ع کرکے اسے آگے بڑھا سکتی ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’گھر سے کاروبار کا لائسنس ایسی خواتین کو دیا جائے گا جن کے پاس ابوظبی میں کسی کاروبار یا پیشے یا صنعت یا ہنر کے حوالے سے پہلے سے کوئی اجازت نامہ موجود نہ ہو۔‘’ایسی خواتین اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں جو پہلے سے کسی کاروبار سے باقاعدہ طور پر منسلک ہوں۔ خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی ہوگی۔‘
اخبار کے مطابق خواتین کو 42 اقسام کے کاروبار گھروں سے کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ان میں خطاطی، دستی و ماحولیاتی مصنوعات، انٹیریئر ڈیکوریشن، چھپائی سے متعلق کام، دستاویزات کی فوٹو کاپی، ریٹیل میں قہوہ فروشی، مصالحہ جات اور جڑی بوٹیوں کی فروخت، کھجور، عود، خوشبویات، میک اپ، بیوٹی پارلر، تفریحی تقریبات کے ٹھیکے، زنانہ ملبوسات کی سلائی، کڑھائی وغیرہ شامل ہیں۔