نوجوانوں میں اکیلے پن کا شکار، تحقیق

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) یونیورسٹی آف ایکسیٹراور برطانیہ کے نفسیاتی ماہرین ایک سروے کیا ہے جس میں حصہ لینے والے افراد کی عمریں 16 سال سے 99 سال کے درمیان ہیں اور یہ دنیا کے 237 ممالک کے 46 ہزار سے زیادہ افراداس سروے میں حصہ لیا ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ اکیلے پن کا احسان نوجوا نسل کو شدید متاثر کررہا ہے ۔

اس سے قبل یہی سروے صرف برطانوی شہریوں پر بھی کیا گیا تھا جس کے تنائج مختلف نہیں تھے اب عالمی سروے میںبھی یہی چیز دیکھی گئی ہے کہ نوجوان نسل تنہائی کا شکار ہے اور یہ اس کو شدید مثاتر کرہی ہے

سروے کے نتائج سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ دنیا بھر کی نوجوان نسل ہماری سابقہ معلومات کے مقابلے میں کہیں زیادہ احساسِ تنہائی کا شکار ہے، وہیں یہ بھی پتا چلا کہ جن ممالک میں نئی نسل جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنے والدین اور گھر بار سے الگ ہو کر آزاد زندگی گزارنے لگتی ہے، ان ملکوں کے نوجوانوں میں احساسِ تنہائی بھی زیادہ دیکھا گیا۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ جن معاشروں میں مل جل کر رہنے کا رجحان زیادہ ہے، وہاں کے بزرگوں میں بھی تنہائی کا احساس خاصا کم مشاہدے میں آیا۔ ایک اور حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا کہ نوجوان لڑکیوں کی نسبت نوجوان لڑکوں میں تنہائی کا احساس زیادہ ہوتا ہے، البتہ وہ آسانی سے اس کا اقرار نہیں کرتے۔

نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے احساسِ تنہائی کی ایک اور بڑی وجہ ”سوشل میڈیا“ کو بھی قرار دیا گیا ہے اور مشورہ دیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کو سماجی تعلقات میں اضافی چیز سمجھا جائے نہ کہ سماجی تعلقات کا متبادل۔

یاد رہے کہ انسانی جسم اور دماغ پر احساسِ تنہائی کے مختلف اثرات پڑتے ہیں جو سماج دشمن اور جرائم پیشہ رویّوں سے لے کر منشیات کے استعمال، دل کی بیماریوں، فالج، دماغی امراض، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں کمی، مستقل اور شدید اعصابی تناو¿، قوتِ فیصلہ میں کمی، ڈپریشن اور خودکشی تک محیط ہوسکتے ہیں۔