Buy website traffic cheap

ضرورت اس امر کی ہے

آتش بازی، لیرا، ہالینڈ اور مقصد زندگی

آتش بازی، لیرا، ہالینڈ اور مقصد زندگی
تحریر نصرت عزیز(اٹک شہر)
اخبار کے ایک کونے کھدرے میں جگہ پانے والی اس تصویر میں آسمان کالا سیاہ نمایاں تھا جس کو بادل سمجھ کر ان پر پھیلتی سفیدی کوآتش بازی کامنظر سمجھ کر میں شش وپنج میں مبتلا ہوگیا۔اس تصویر کی تفصیل پڑھنے سے پہلے میں نے تصویر میں موجود لوگوں کی قومیت ان کے لباس سے جاننے کی کوشش بھی کی مگرمیں اس میں ناکام رہا اور اس نتیجہ پر پہنچاکہ یہ کسی کے جیتنے کی خوشی میںآتش بازی کاایک نظارہ ہے جسے دیکھنے کے لیے سیکڑوں لوگ جن میں دودھ پیتے بچے بچیاں ، عورتیں ، مرد اور بوڑھاپے کی حدود کوچھونے والے افراد شامل تھے ،نے ایک میدان کارخ کیاہوا ہے ۔ تصویر کے نیچے لکھی تفصیل جب پڑھی تو رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔
یہ تصویر دراصل غزہ شہر(فلسطین ) میں اسرائیلی بمباری کانظارہ تھا جسے میں بہ ظاہر آتش بازی کانظارہ سمجھ بیٹھا۔خیر جو بھی اس تصویر کو تفصیل پڑھے بنادیکھتاتو وہ اسے آتش بازی کانظارہ ہی سمجھتاجس کی دو وجوہات ہیں : نمبر ایک ملک خداداد پاکستان میں نئی حکومت کے حکمرانیت کابیڑااٹھانے کی خوشی۔نمبردوعید کی خوشی۔۔۔خیر خبر کی تفصیل پڑھنے پر معلوم ہوا کہ اسرائیلی افواج نے فلسطینی آبادی پر بمباری کی جس کی وجہ سے معصوم بچوں سے لے کر بڑھاپے کی انتہائی عمر کوپہنچنے والے افراد نے اپنے اپنے گھرچھوڑے اور بے یارومددگار ایک میدان میں جمع ہوکر اپنے تباہ ہوتے مکانات کولاچارگی سے دیکھتے رہے ۔
ٹھیک انھی ایام میںآج سے ۱۲ سال قبل ۳۰ دسمبر ۲۰۰۶ میں صدام حسین کو پھانسی دے کر کفار نے مسلمانوں کوعید کاتحفہ دیاتھاتب بھی ہمارارویہ ایسا ہی تھاکہ جیساآج برما، فلسطین ، کشمیروغیرہ کے حالات دیکھ کرہے ۔کفار کوبھی شاید اسی چیزکاادراک ہے کہ یہ مسلمان بھلے تعداد میں اربوں ہیں مگر کم زور اور ناتواں دنیا کی محبت اور مال ومتاع کے دیوانے، جس کااندیشہ سالوں پہلے رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحابؓ کے سامنے بیان کیاتھافرمایا:
’’قریب ایک زمانہ آرہا ہے کہ کفار کی تمام جماعتیں تمھارے مقابلہ میں ایک دوسرے کو بلائیں گی جیسے کھانے والے اپنے خوان کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ایک کہنے والے نے عرض کیا،کیا ہم لوگ اس روز شمار میں کم ہوں گے ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، نہیں بل کہ تم اس روز بہت ہو گے لیکن تم کوڑہ(ناکارہ) ہوگے جیسے رَو میں کوڑہ آجاتاہے اور اللہ تعالیٰ تمھارے دشمنوں کے دلوں سے تمھاری ہیبت نکال دے گااور تمھارے دلوں میں کم زوری ڈال دے گا۔ ایک کہنے والے نے عرض کیا کہ یہ کم زوری کیا چیز ہے (یعنی اس کا سبب کیا ہے؟)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے نفرت‘‘(ابو داؤد بیہقی)
کفار نے مسلمانوں کی کمزور ی ،دنیاسے شدید محبت اور باہمی نااتفاقی کوبھانپتے ہوئے کسی ایک خطہ یااسلامی ملک کواپنے عتاب کانشانہ نہیں بنایا ہے بلکہ انھوں نے ہراس علاقے کے باسیوں کو تکلیف دینے کی بھرپور کوشش کی ہے جوکلمہ گو ہیں اور یہ تکلیف بلاخوف وخطردی ہے کیوں کہ کفار کو بھی ادراک ہے کہ یہ سارے مسلمان اب جسم واحد نہیں ہیں بلکہ اپنے بھائیوں کے دکھ درد پرصر ف چند سیکنڈوں کی آہ کرنے والے ہیں۔
اسلامی دنیا میں ترکی ایک یگانی حیثیت رکھتا ہے اورمسلمانوں کانمائندہ ملک کہلاتا ہے معاشرتی و معاشی طور پر بہت مضبوط ملک ہے مگر کفار کواس کی مضبوطی کافی عرصہ سے آنکھوں میں چبھ رہی ہے، کفا ر نے ترکی کو پسماندہ کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے کبھی بغاوت تو کبھی بائیکاٹ مگر جب ان کی دال نہ گلی تو انھوں نے اب معاشی طور پر ترکی کو کم زور کرنے کے لیے ترکی کی کرنسی کو ناکارہ بنانے کے لیے اپناشیطانی ذہن استعمال کیا اوریہ پروگرام بنایا کہ ترکی کی کرنسی لیراکو اتناگِرادیاجائے کہ ترکی معاشی طور پر لاچار ہوجائے اور ان کفار کے آگے گھٹنے ٹیک دے مگر ایسا نہ ہوسکا اور کفارایک بار پھر اپنے قبیح حربے میں ناکام ہورہے ہیں ۔ الفاظ کو کاغذ کی زینت بناتے وقت تک ترکی کفارکے اس شیطانی پروگرام سے مقابلہ تو کررہاتھا مگر امید یہی ہے کہ کچھ دنوں تک ترکی اس قبیح حربے کوناکام ونامراد بنا کر کفار کوایک بار پھرشرمندہ کرے گا۔
دوسری طرف ہالینڈ میں خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بہ ذریعہ خاکوں سے کی گئی جس پراحتجاجی تحریکوں کاسلسلہ جاری ہے اورخوشی کی بات کہ پاکستان میں بننے والی نئی قومی اسمبلی میں پاس ہونے والا پہلابل انھی خاکوں کے خلاف احتجاجی بل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عوام کی طرف سے بھی احتجاجی سلسلے جاری ہیں۔کفار کی طرف سے روز بہ روز بڑھتی اس شرانگیزی کاتدارک اب احتجاج میں پنہاں نہیں ہے مگر یہ ضرور ہوتا ہے کہ کفاراس احتجاج سے کچھ عرصہ خاموش ضرور ہوجاتے ہیں مگر پھرکچھ عرصہ بعد اسی طرح کی کوئی شر انگیزی کر کے مسلمانوں کے ایما ن کی حلاوت کااندازہ لگاتے ہیں ۔خیر یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا مگر کفار کویہ سمجھ جانا چاہیے کہ مسلمانوں کی حلاوت جب سینوں سے باہر نکلی تو کہیں غازی علم الدین شہیدؒ نے جنم لینا ہے تو کہیں عامر چیمہ شہید ؒ نے ۔
اسی طرح مسلمانوں کو بھی ہوش وخرد کے تقاضوں کواپنانا چاہیے اوراس احتجاج کو اپنانا چاہیے جوان کفار کوکم زور وناتواں کردے ۔۔۔وہ احتجاج ان کفار کی معاشی بدحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات ہیں جیسے کہ ان کفار کی مصنوعات کا بائیکاٹ ۔یہ مشکل ترین احتجاج ہے کیوں کہ کفار نے اپنی مصنوعات کو نہ صرف ہمارے جسموں کی زینت بنادیا ہے بلکہ ہمارے خون تک میں ان کوشامل کر کے دماغ کاحصہ بنادیا ہے ۔گو کہ یہ احتجاج مشکل ہی سہی مگر کفارکے شیطانی ہتھکنڈوں کا مونہہ توڑ جواب ہے کیوں کہ کفار کے لیے دنیا کی محبت اور اس کامال ومتاع مقصد زندگی ہے جس کوآج مسلمان اپنا مقصد زندگی سمجھ بیٹھے ہیں ……………