Buy website traffic cheap

آزادگروپ، سیاسی حکمت عملی ،حکومت سازی کاممکنہ منظرنامہ
خوشبوئے قلم محمدصدیق پرہار
ملتان سے شائع ہونے والے بیس جون کے ایک قومی اخبارمیں ایک انکشاف نماخبریوں شائع ہوئی ہے کہ ذرائع سے معلوم ہواکہ الیکشن سال دو ہزاراٹھارہ کے لیے آزادگروپ پورے ملک میں منظم ہوگیا ہے جس کی قیادت چوہدری نثارکررہے ہیں۔باوثوق ذرائع نے بتایا کہ فلورکراسنگ کی شق سے بچنے کے لیے نامورپارلیمنٹریزکے آزادحیثیت سے الیکشن لڑنے کاپروگرام فائنل کردیاگیا ہے اوراس کے لیے ماضی سے مختلف حکمت عملی تیارکی گئی ہے ۔ماضی کی طرح چانداورمٹکاکاایک نشان لینے کی بجائے ہرضلع کے امیدواراپنااپنانشان حاصل کریں گے۔کچھ بڑی شخصیات نے سیاسی جماعتوں کے پیش کردہ ٹکٹ شکریہ کے ساتھ واپس کردیے ہیں اورکچھ سکروٹنی کے عمل کومکمل ہونے کے بعدآزادحیثیت سے انتخاب لڑنے کااعلان کریں گے۔عنقریب کچھ اہم شخصیات بھی آزادگروپ کا حصہ بن جائیں گی۔اس سارے عمل کامقصدابھرتی ہوئی سیاسی جماعت کی نشستوں کوکم کرناہے۔تاکہ آزادارکان اسمبلی، فاٹاسے منتخب اراکین اسمبلی،ایم کیوایم، پی ایس پی اوردیگرچھوٹی سیاسی جماعتوں کواکٹھاکرکے اپنی مرضی کاوزیراعظم اورکابینہ بنائی جائے۔ابھی یہ گیم شروع ہوئی ہے ،آنے والے دنوں میں اس میں مزیدتیزی آجائے گی۔ اس کے دس روزبعد اس سیاسی گیم کادوسراراؤنڈ کھیلاجاتاہے۔ جس کے تحت مسلم لیگ ن کے کئی امیدواروں نے عین اس وقت ٹکٹ واپس کردیے جب متبادل امیدوارکونامزدکرنے کاوقت بھی ختم ہوچکاتھا۔ اس خبرکی تفصیل کچھ یوں ہے کہ جنوبی پنجاب سے مسلم لیگ ن کوایک اور جھٹکا ہے۔دس امیدواروں نے ٹکٹ واپس کردیے ہیں۔مسلم لیگ ن کے پانچ امیدواروں نے پارٹی ٹکٹ واپس کرکے آزادحیثیت سے الیکشن لڑنے کااعلان کردیا ہے۔امیدواروں نے ریٹرننگ افسران کوجمع کرائی گئی ٹکٹیں واپس کرکے اپناانتخابی نشان جیپ الاٹ کرالیا ۔باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آخری روزٹکٹ واپس کیے گئے تاکہ قومی اسمبلی کے دوحلقوں اورصوبائی اسمبلی کے ان تین حلقوں سے مسلم لیگ کاکوئی امیدوارحصہ نہ لے سکے۔شیرکے شکارکے لیے شکاریوں کی جیپ تیارہوگئی۔چوہدری نثارکواین اے انسٹھ اورپی پی دس سے جیپ کانشان الاٹ کیاگیا۔بہت سے لیگی راہنمابھی جیپ کی سواری کے لیے تیارہیں۔مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈرشیرکی جگہ جیپ کانشان مانگنے لگے۔فیصل آبادکے حلقہ این اے ایک سوپانچ میں جیپ کانشان حاصل کرنے کے لیے ٹاس ہوااورمعظم فاروق جیپ پرسوارہوگئے۔اسی خبرمیں لکھا ہے کہ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارکے جیپ کاانتخابی نشان حاصل کرنے کے بعدن لیگ کے ناراض اورآزادامیدواروں میں جیپ کانشان اہمیت اختیارکرگیا۔الیکشن کمیشن میں سوسے زیادہ درخواستیں دائرہوگئیں۔نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ ن کے متعددامیدواروں نے پارٹی ٹکٹ لینے سے انکارکردیا ہے۔لندن میں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ ہم نے غلطیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔تمام توپوں کارخ مسلم لیگ ن کی طرف ہے۔ان کاکہناتھا کہ ملتان میں ہمارے امیدواررانااقبال سراج کوتھپڑمارے گئے۔خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔نگران وزیراعظم ،چیف الیکشن کمیشنرامیدواروں امیدواروں کودھمکیوں کانوٹس لیں۔ہمارے نمائندوں کی تذلیل کی جارہی ہے۔اگردھاندلی ہوئی توایساطوفان اٹھے گاجس کو سنبھالنا مشکل ہوگا۔کہاجارہا ہے جیپ کے نشان پرالیکشن لڑو،سب کوپتہ ہے جیپ کانشان کس کاہے۔کراچی سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبارنے ایک رپورٹ یوں شائع کی ہے کہ نئے کنگ میکرچوہدری نثارعلی خان نے سربراہ تحریک انصاف عمران خان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ذرائع کے مطابق جیپ کے انتخابی نشان کی حامل کنگ پارٹی سے مزیدارکان نے رابطے کیے ہیں۔جن کی تعداد۴۳ ہوگئی۔آزادگروپ سے اکثریت حاصل کرنے کاعمران کاخواب چکنا چو ر ہونے کاامکان ہے۔کنگ پارٹی کاسربراہ ناراض ن لیگی راہنماچوہدری نثارعلی خان کوقراردیاجارہا ہے۔۔جن کی جانب سے جیپ کے نشان پرپنجاب سے اکثریتی نشستیں ملنے کی صورت میں بعض دیگرن لیگی ارکان بھی کامیابی پرگروپ تشکیل دے کراپنی حمایت چوہدری نثارکے پلڑے میں ڈال سکتے ہیں۔چوہدری نثارنے مسلم لیگ ن کے ناراض راہنماؤں سے رابطے مکمل کرلیے ہیں ۔جن میں سے زیادہ ترنے ان کاہاتھ تھامنے کی خواہش کااظہارکیا ہے۔انتخابات کے بعد شامل ہونے والے افرادکومختلف ضمنی انتخابات میں اتاراجائے گا۔کراچی سے شائع ہونے والے قومی اخبارکی اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ تحریک انصاف کے بعض ناراض راہنماؤں نے چوہدری نثارعلی پارٹی کارخ کرلیا ہے۔۲۳ سے زائدراہنماچوہدری نثارکاحصہ بن رہے ہیں۔تحریک انصاف نظریاتی گروپ کے امیدواران نے چوہدری نثارسے مل کرانتخابات میں حصہ لینے کافیصلہ کیاہے۔کنگ پارٹی آزادامیدواروں اورمسلم لیگ ن کے بعض ارکان کے ساتھ مل کرحکومت بناسکتی ہے۔ ذرائع نے اخبارکوبتایا کہ سیاسی پنڈت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اندازسیاست سے نالاں ہیں اوران کاکہناہے کہ اس باربھی عمران خان کووزیراعظم پاکستان کامنصب ہاتھ نہ آسکے۔کنگ پارٹی میں شامل ہونے والے ارکان میں سے ایک رکن نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ مسلم لیگ ن کے امیدواراب ٹوٹناشروع ہوچکے ہیں۔ جن میں سے بعض الیکشن سے قبل اوربعض انتخابات کے بعدکامیابی کی صورت میں چوہدری نثارسے آملیں گے اوریوں انہیں حکومت بنانے کاموقع دیاجاسکتاہے۔اس گروپ کی کامیابی کاہمیں اتنایقین ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس میں شامل ہونے کے لیے قطارلگالی ہے اوراس میں سے کئی نامی گرامی شخصیات ہیں جن کاتعلق مسلم لیگ ن سے ہے اب وہ کنگ پارٹی کاحصہ بن رہے ہیں۔امکان یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بہت کچھ سامنے آئے گا۔بلوچستان میں بھی اس کنگ پارٹی کی گونج پہنچنے کاامکان ہے ،وہاں سے بھی آزادحیثیت سے تین سے پانچ امیدوارجیتنے کی صورت میں کنگ پارٹی کاحصہ بن جائیں گے۔صاحبزادہ فیض الحسن نے بتایا کہ وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پراین اے ایک سو۸۷ لیہ سے انتخابات میں حصہ لیں گے وہ چوہدری نثارعلی خان کی بہت عزت کرتے ہیں۔انہوں نے پارٹی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ہم نے کوئی فیصلہ خودسے نہیں کرناہے جوہمارے ورکرزکہیں گے وہ وہی کریں گے سیّدمحمدثقلین شاہ بخاری نے کہا کہ ابھی ایساوقت نہیں آیا کہ ہم فوری طورپراس بات کااعلان کردیں کہ ہم نے چوہدری نثارعلی خان کے ہاتھ کوتھام لیاہے۔ہمیں پارٹی ٹکٹ ملاہے ہم اس کے مطابق ہی الیکشن میں حصہ لیں گے۔یہ بات ضرورہے کہ ان انتخابات میں مسلم لیگ ن کے لیے حصہ لیناکوئی سازگارنہیں لگ رہا ہے۔بہرحال انتخابات میں حصہ تولیناہی ہے ۔لیں گے۔ان کاکہناتھا کہ چوہدری نثارنے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیاہے۔عبدالمجیدنے چوہدری نثارگروپ میں شمولیت کی تردیدکرتے ہوئے بتایا کہ وہ مسلم لیگ ن میں تھے اوررہیں گے۔دوسری جانب چوہدری نثارکے قریبی ساتھی سینئرقانون دان سیّدظفرعلی شاہ ایڈووکیٹ نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں غیریقینی صورت حال ہے۔لگ یہی رہا ہے کہ عمران خان کووہ اکثریت نہیں مل سکے گی جس کاوہ دعویٰ کررہے ہیں۔نواب آبادواہ کینٹ میں آزادامیدوارفیصل اقبال کواپنے پینل میں شامل کرنے کے موقع پرجلسے سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثارعلی خان کاکہناہے کہ تحریک انصاف باقی جماعتوں کاکوڑااکٹھاکرکے انقلاب لانے کی باتیں کررہی ہے۔نوازشریف کوفوج اورعدلیہ سے لڑائی کرنے سے منع کیاتواختلافات بڑھ گئے۔چوہدی نثارکہتے ہیں کہ عمران خان پرجب بھی براوقت آیا توسرورخان کابھاگنے والوں میں پہلانمبرہوگا۔فوج کے ساتھ مل کردہشت گردی کاخاتمہ کرنے میں اپناکرداراداکیا۔ملک کے اندراورباہرہرسطح پرملک کادفاع کیا۔چوراورڈکیت انقلاب نہیں لاسکتے۔میں نے ایک شخص (نوازشریف) کووفاداری کے ۳۴ سال دیے ۔اس شخص نے میرے ساتھ بے وفائی کی۔اقتدارکاشوق ہوتا تووزیرداخلہ کاعہدہ نہ چھوڑتا۔لوگ ،کردار، کارکردگی اورخدمت پر ووٹ دیتے ہیں۔میرے مخالفین نے صرف پارٹیاں بدلیں اورسیاست کوذریعہ معاش بنایا۔اسی اخبارمیں ایک اورخبرشائع ہوئی ہے جس ،میں لکھا ہے کہ سابق وزیرقانون (پنجاب) راناثنا نے تصدیق کردی ہے کہ جنوبی پنجاب میں پارٹی ٹکٹ واپس کرکے آزادامیدوارکے طورالیکشن لڑنے کااعلان کرنے والے بیشتر راہنماؤں نے پارٹی قیادت سے آزادالیکشن لڑنے کی اجازت چاہی تھی اورکہا کہ آزادالیکشن لڑنے کی صورت میں ان کی جیت کے امکان زیادہ ہیں۔اس لیے شیر کے نشان کے بغیرالیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے۔لیکن نوازلیگ کی قیادت نے ایساکرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔راناثنانے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یقیناہرکوئی ایک حدتک دباؤبرداشت کرسکتاہے۔یہ لوگ دباؤبرداشت نہیں کرسکے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ یہ اضلاع مذہبی رجحانات کے حوالے سے پختہ سوچ رکھتے ہیں اس لیے ختم نبوت کے سلسلے میں حلف میں تبدیلی کاایشوپنجاب کے جنوبی اضلاع میں زیادہ اہمیت اختیارکرچکاہے۔اس لیے مسلم لیگ نوازجوبنیادی طورپرمذہبی ووٹ بینک کی پسندیدہ جماعت تھی۔متاثرہوئی ہے۔ ان ذرائع کاکہناہے کہ پی ٹی آئی کے امیدواراورکارکن ووٹوں کے لیے بالواسطہ طور پراپنی انتخابی مہم میں ان مذہبی موضوعات کواجاگرکر نے کی کوشش کررہے ہیں۔اس ماحول میں لیگی امیدواروں کومذہبی ووٹروں سے خدشہ تھاکہ وہ جگہ جگہ روک کر ان سے پوچھناشروع کرسکتے ہیں۔جس سے مجموعی انتخابی مہم میں مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔بظاہرکسی لیڈریاراہنماکانام توسامنے نہیں آیا لگتامندرجہ بالارپورٹوں اورخبروں کوپڑھنے کے بعدلگتا یہی ہے کہ چوہدری نثارعلی خان کی سربراہی میں بننے والاآزادگروپ مسلم لیگ ن کی سیاسی چال (حکمت عملی) کے تحت ہی بنایاگیا ہے۔ اس گروپ کے بنائے جانے سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ ن لیگ کے راہنمااورانتخابات میں حصہ لینے والے امیدوارغیراعلانیہ طورپریہ بات تسلیم کرچکے ہیں کہ سیاسی میدان میں ان کے لیے حالات سازگارنہیں ہیں۔اس لیے ووٹروں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ن لیگ کے امیدوارآزادحیثیت میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ختم نبوت کے حوالے سے ناراض ووٹروں سے ووٹ لینے کے لیے نوازشریف اورن لیگ کی مخالفت بھی سیاسی مجبوری بن چکا ہے ۔ آزاد گروپ جسے ماضی میں ہم خیال گروپ کے نام سے بھی شہرت مل چکی ہے اس کاایک اورفائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس میں دیگرسیاسی جماعتوں کے آزادحیثیت میں ا نتخابات میں حصہ لینے والے اورآزادحیثیت سے جیتنے والے ارکان اسمبلی کوبھی شامل کیاجاسکتاہے۔یوں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر آصف علی زرداری کی نظریں بھی چوہدری نثارعلی خان کے آزادگروپ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پنجاب سے آزادامیدوارزیادہ کامیاب ہوں گے۔جیپ کے نشان والے امیدواربڑی تعدادمیں جیت گئے توپھروہ ڈکٹیٹ کریں گے۔انتخابات کے بعدکوئی سنجرانی بھی وزیراعظم بن سکتا ہے ۔ نوازشریف سے ملاقات کی تردیدکرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ انتخابات کے بعدمخلوط حکومت بن سکتی ہے۔مگرلیڈرشپ پرجھگڑاہوگا۔پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کے ان دوجملوں پرغورکیاجائے توحکومت سازی کے حوالے سے انتخابات سال دوہزاراٹھارہ کے بعدکا ممکنہ منظرنامہ سامنے آجاتاہے کہ جس نے بھی حکومت بناناہوگی اسے ہم سے بات ضرورکرناہوگی۔ عمران خان الیکشن کے بعداتحادکے دروازے خودبندکرچکے ہیں۔یوں آصف علی زرداری نے واضح کردیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے بغیرحکومت نہیں بنائی جاسکے گی اورعمران خان سے اتحادکے دروازے بھی بندہوچکے ہیں۔ جب کہ بلاول بھٹو کاکہنا ہے کہ تحریک انصاف سے اتحاد مشکل ہے ۔اس جملہ کو مزیدآسان کیاجائے توبلاول بھٹو نے پی ٹی آئی سے اتحادمشکل کہا ہے ناممکن نہیں ۔والد کہتا ہے عمران خان نے اتحادکے دروازے خودبندکردیے ہیں اوربیٹاکہتاہے کہاتحادمشکل ہے دوسرے لفظوں میں ہوبھی سکتاہے کیوں کہ کبھی کبھی مشکل کام بھی کرناپڑتے ہیں۔ آزادگروپ ن لیگ کی سیاسی حکمت عملی میں معاون ثابت ہوتا ہے یاآصف علی زرداری کے سیاسی جوڑتوڑ میں اس کے لیے حکومت سازی تک انتظارکرناہوگا
نوٹ: یہ تحریر تین دن پہلے لکھی گئی ہے۔ لیہ شہرمیں انٹرنیٹ سروس کی خرابی کی وجہ سے ای میل نہیں کی جاسکی تھی جواب کی جارہی ہے۔