Buy website traffic cheap


آ بیل مجھے لتاڑ اور محسن مگھیانہ

آ بیل مجھے لتاڑ اور محسن مگھیانہ!
تحریر:۔ ملک شفقت اللہ
اللہ تعالیٰ نے یہ زمین اشرف المخلوقات یعنی انسانوں کیلئے بچھائی اور اس میں اس کی تمام تر ضروریات پیدا کر کے ان کیلئے امتحان کی جاہ بنا دی ۔ انسانیت اور اسلامیت کے پرچار کا یہ پرچہ حل کرنے کیلئے مختلف درجے بھی بنائے ہیں ۔ اگر کوئی شخص انسانیت کا پرچار کرے تو یوں سمجھ لیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا دیا گیا پچاس فیصد پرچہ حل کر لیا ہے اور باقی اسلامیت کی پاسداری انسان کو اعلیٰ و ارفع مقام تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی واضح طور پر فرما دیا ہے کہ حقوق العباد کے سلسلے میں تب تک معافی نہیں ملے گی جب تک وہ انسان خود نہ معاف کر دے ۔ پھر ایک اور اعلان ، فرمایا: ایک انسان کا قتل گویا پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ آپ ﷺ نے بھی ہمسایوں اور انسانیت کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا درس دیا ہے ، بلکہ ان کی زندگی ہی اخلاقیات ، انسانیت اور اسلامیت کا بہترین نمونہ ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہے ۔ اگر ہم کائنات کی تاریخ کا مبہم سا جائزہ لیں تو ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ جب جب انسانوں نے روئے زمین پر انسانیت سوز عمل کئے اور انسانیت کے ماتھے کو کالا کرنے کی کوشش کی تب تب اللہ تعالیٰ نے زمین پر اپنے برگزیدہ بندوں کے ذریعے سے نہی و عن المنکر کا پیغام پہنچایا ۔ لیکن اب نبوت پر مہر لگ چکی ہے اور قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ اور ہم فتنوں کے دور میں زندہ ہیں ۔ لیکن اچھائی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ، جب تک ایک بھی اچھا انسان ، معاشرے اور انسانیت کا سوز رکھنے والا یہاں موجود ہے ۔ کچھ لوگ معاشرے اور انسانیت کیلئے قدرت کا تحفہ ثابت ہوتے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ ایسی خداد اد صلاحیتوں سے نوازتا ہے کہ وہ معاشرے کیلئے مثالی کردار بن جاتے ہیں ۔ ان میں قلم کار بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس طبقہ میں بھی چند ایک لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو قلم کا قرض اور فرض صحیح معنوں میں سمجھ کر اسے ادا کرنے کے اہل ہوتے ہیں ۔ کئی قلم کار اپنے ضمیر و ایمان سمیت قلم کو بھی بیچ دیتے ہیں ، ایسے قلم کار میری اور سعادت حسن منٹو کی نظر میں طوائف سے بھی بڑے غلیظ ہوتے ہیں ، کچھ قلم کار مزاج میں زیادہ سنجیدہ ہوتے ہیں کہ ان کی بات انہیں متشدد شخصیت بنا دیتی ہے لیکن کئی قلم کار بہت اعلیٰ اوصاف اور اصناف کے مالک ہوتے ہیں ۔ ان کا قلم معاشرے کی نبض کی دھڑکن کے ساتھ بڑھتا ہے اور ایسی گرم اور تیز حقیقتوں کو کھٹا میٹھا بنا کر پیش کرتا ہے جو زود ہضم بھی ثابت ہوتیں ہیں ۔ میں بات کر رہا ہوں مرحوم یوسفی صاحب ، پطرس بخاری مرحوم صاحب اور ابھی جو ہمارے درمیان موجود ہیں ملک کے مایا ناز سرجن اور ادب کی دنیا کا روشن ستارہ ، جن کے دم سے ہمارے جھنگ کی پہچان بنی ہوئی ہے ، ڈاکٹر محسن مگھیانہ صاحب ۔ یہ ہماری سرزمین جھنگ سے تعلق رکھتے ہیں اور خاندانی انسان ہیں، انسان کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ یہ انسانیت کیلئے سوز رکھنے والے شاید واحد ڈاکٹر ہیں جو نہ صرف اپنے سرکاری ملازمت کے دوران بھی نہ صرف اپنے ہنر سے عوام کی خدمت کی بلکہ اپنے قلم سے بھی معاشرے کیلئے ترغیب و مثبت اصلاح کا مؤجب بنے رہے ہیں ، بلکہ وقت کی کمی کی وجہ سے جہاں تک ممکن ہو سکا بہت کچھ کیا ، اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں ، عمر بڑھ چکی ہے لیکن دل و دماغ آج بھی جوان ہیں ۔ زندہ دل انسان ہیں ، زندہ دلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے زندگی کا ہر لمحہ جیا ہے ، اس کو محسوس کیا ہے اور قلم پر تو اس طرح قدرت کے حامل ہیں کہ ہر احساس چاہے وہ نثر ہو یا شاعری کورقم کیا ہے ، شاید قرطاس بھی ان کے احسانوں کا مقروض ہو چکا ہو اب تک ۔ ڈاکٹر صاحب پنجابی ، ہندکو اور اردو زبان کے ماہر ادیب ہیں اور ان کی تصنیفات بھی ان زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں ۔ تازہ تصنیف اردو زبان کی نثری تصنیف ہے جو ان کے مختلف کالموں کا مجموعہ ’’ آ بیل مجھے لتاڑ ‘‘ہے ۔لیکن یہ ان معاشرتی حقائق سے بھرپور ہے جو بہت تلخ ہیں ۔ جنہیں ڈاکٹر محسن مگھیانہ کی قلم نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ مزاح میں بیان کیا ہے اور اہل دانش ہونے کی وجہ سے انہوں نے بڑی فراخ فہمی کے ساتھ ان کا حل بھی اپنے کالموں میں بیان کیا ہے ۔ان کی یہ کاوش دیدنی ہے اور کتاب پڑھنے والے کیلئے مشتاق یوسفی مرحوم اور پطرس بخاری مرحوم کی یاد تازہ کرنے کو کافی ہے اور دانشوری کا اسلوب محسن مگھیانہ کا بالکل منفرد ہے جو بالکل حقیقت سے قریب تر اور ان کے نظریات کی عکاسی کرتا ہے ۔کتاب کا ٹائٹل ہی سب سے جدا ہے جو ویسے ہی قارئین کو متوجہ کرتا ہے کہ اسے پڑھا جائے اور پڑھ کر مجھے جو احساس ہوا ہے وہ یہ کہ واقعی یہ کتاب لفظوں کے موتیوں ، دانش کے پانی سے سیراب ہے ۔ یہ انسانیت کیلئے عالمی کردار ادا کر کے ڈاکٹر محسن مگھیانہ نے تو اپنا پچاس فیصد پرچہ حل کر لیا ہے ہمیں بھی ان کے ان اسباق سے سبق سیکھ لینا چاہئے۔ڈاکٹر محسن مگھیانہ نہ صرف سرزمین جھنگ بلکہ اس ملک کا سرمایہ ہیں اور ہم ان کیلئے دعا گو ہیں کہ ان کا سایہ شفقت سدا ہمارے سروں پر قائم رہے ، تاکہ ہم ان کی تخلیقات سے محظوظ ہونے کے ساتھ ساتھ مستفید ہوتے رہیں ۔