Buy website traffic cheap

احترام انسانیت اور ہمارا معاشرہ

احترام انسانیت اور ہمارا معاشرہ

احترام انسانیت اور ہمارا معاشرہ

محمد آصف تبسم
انسانیت سے مراد ہر شخص بلا کسی تفریق مذہب و ملت و قوم و ملک ہے دنیا کاہر فرد قابل احترام ہے اس لیے کہ وہ انسان ہے ۔مذاہب عالم میں بھی احترام انسانیت کا درس دیا گیا ہے اگر ہم یوں کہیں کہ احترام انسانیت دنیا میں بسنے والوں کا مشترکہ ورثہ ہے تو غلط نہیں ہو گا ۔ایک دوسرے کا احترام مہذب اقوام کی ترقی کا راز اور امتیاز ہے ۔ کتنی ہی اقوام اور ثقافتیں صرف اس لیے قابل رشک ہوئیں کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کیا کرتی تھیں اور اپنی نئی نسل کو اخلاقیات کا درس دیتے وقت احترام کی اہمیت پر زور دیتی تھیں۔دین اسلام رنگ ، نسل اور مذہب کی تفریق کیے بغیر احترام انسانیت کی تلقین کرتا اور انسانیت پر کہیں بھی ہونے والے جبرو تشدد کی پرزور مذمت کرتا ہے ۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق خونی رشتوں کے بغیر بھی سارے انسان ایک دوسرے کے بھائی بہن ہیں ۔ رنگ ، نسل ، زبان اور علاقے کی تفریق کے باوجود سب انسانوں کے حقوق یکساں ہیں ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو ساری انسانیت کا ہم درد بناتا ہے تا کہ معاشرہ پر امن رہے ۔
ماضی میں جب دنیا اتنی تیز اور ترقی یافتہ نہیں تھی اور انسانوں کا ایک دوسرے کی محنت پر انحصار بہت زیادہ تھا تو انسانوں کا آپس میں اُنس و محبت کا رشتہ بھی اتنا ہی مستحکم تھا ۔ ایک دوسرے کے لیے دکھ درد کا احساس اور دکھ درد میں شرکت اور انتہائی قربت ، ایثار کا جذبہ بھی عیاں محسوس ہوتا تھا ۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں خلوص کے رشتے ماند پڑ رہے ہیں ۔ ایثار کے جذبے ختم ہو رہے ہیں ۔ اُنس و اپنائیت کے احساسات کا ادراک اور عملاً اسکا اظہار بہت کم دکھائی دے رہا ہے ۔اگر کہیں یہ احساسات نظر بھی آ رہے ہیں تو انکے کے پیچھے خلوص اور ایثار کم اور ذاتی منفعت ، لالچ کے عوامل زیادہ کار فرما ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی عزت نفس ، توقیر ذات اور انسانی احترام کے رویوں کے پیمانے بدل رہے ہیں ۔ خلوص ، سچائی ، انسانی مساوات اور اقتدار کی جگہ فریب ، حرص ،حسد اور خود غرضی لے رہی ہے ۔ انسان کا احترام انسان ہونے کی بنا ء پر نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کے معاشرتی رتبے ، اختیار ، عہدہ اوروسائل کو دیکھ کر اس کے مطابق عزت و توقیر دی جاتی ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ اللہ تعالی نے انسان کو باقی تمام موجودات کے اوپر شرف عزت کا اعلی رتبہ اور مقام عطا کر کے پیدا کیا ہے ۔ فطری طور پر ہر انسان اپنے آپ کو بھی احترام کے لائق سمجھتا ہے اور دوسروں سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ اپنے ہوں یا پرائے اُن کے ساتھ احترام کا رویہ رکھے۔ کوئی بھی انسان اپنی عزت نفس کو مجروع ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ کوئی بھی انسان توقیر ذات کی نفی نہیں کر سکتا۔ ہر انسان چاہے بڑا ہے یا چھوٹا، غریب ہے یا متمول ، مرتبے اور عہدے میں بڑا ہے یا کم تر اپنی ذات پر حملے یا بے توقیری کو برداشت نہیں کر سکتا اور ایسی کسی نازیبا حرکت پر مرنے مارنے پر تیار ہو جا تا ہے۔
آج کل ہمارے ہاں گھروں میں چھوٹے بچوں کو ملازم رکھنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے ۔ کہیں ملازم بنا کر ، کہیں بے بی میڈ کا نام دے کر معصوم و مجبور بچوں کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔ آج ہمارے گھروں میں کام کرنے والے مجبور وبے کس والدین کے معصوم بچوں کو گرم راڈ کے ساتھ جلایا اور پیٹا جا تا ہے انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، انہیں بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے ، ان کے حقوق کو بری طرح سے کچلا جاتا ہے اور ہم پھر بھی خود کو انسان دوست کہتے ہیں ۔ ہمیں اپنے گھر کے اندر ظلم کا شکار ہونے والے ان معصوم بچوں کے چہرے کیوں نظر نہیں آتے ۔کیا یہ سب انسانیت کے دائرے میں شامل نہیں ۔ ہم اپنے بچوں کو تو اعلی اسکولوں میں پڑھائیں انھیں گرم و سرد سے بچا کر رکھیں اور ملازمت کے نام پر کچھ کوڑیوں کے عوض لیے گئے بچوں کے ساتھ جانوروں سے بد ترسلوک کیا جائے ، کیا یہی ہے انسانیت ۔؟ہمیں اپنے ملازمین کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھنا چاہیے اور ان کے حقوق کی بھی پاسدار ی کرنی چاہیے اور خصوصاً ہمیں ان معاشی مسائل کے شکار والدین کے مجبور و بے کس و معصوم بچوں کو جو ہمارے گھروں میں ہماری راحت و آرام کا سبب ہیں کے ساتھ انتہائی مشفقانہ رویہ اور محبت بھرا سلوک کرنا چاہیے کہ وہ بھی آخر بچے اور ان کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے کہ ہمارے بچوں کے ہیں۔اللہ کی محبت میں بھوکے ، مسکین ، یتیم ، قیدی اور مسافر کو کھانا کھلانا یہ ہے انسانی خدمت اور بغیر کسی رنگ ، نسل و فرقہ کی تفریق کے سارے انسانوں کے حقوق کی پاس دار ی کرنا یہ ہے احترام انسانیت۔
اس دنیا میں آنے والا ہر شخص پیار ، محبت کی زبان سمجھتا ہے خواہ آپ کی نظر میں وہ کتنا ہی جاہل ، کنوار کیوں نہ ہو۔ ہمیں دوسروں کے وقار کا خیال رکھنا چاہیے آج اگر ہم دوسروں کی بے عزتی کریں گے تو کل نہ جانے زندگی کے کس موڑ پر دوسرے ہماری بے عزتی کر دیں گے ۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کو نصیحتیں اور تلقین کرتے نہیں تھکتے اور خود ان نصائح پر عمل نہیں کرتے۔ دیکھا جائے تو ایثار و قربانی اور باہمی عزت و احترام میں ہی دنیا کا حقیقی حُسن ہے لیکن اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں ہر دوسرا فرد مفاد پرستی کے جال میں پھنسا ہے اس نے ایک روگ کی شکل اختیار کر لی ہے ایسے میں دوسروں کے لیے خدمت اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنا ایک انہونی سی بات لگتی ہے ۔آج ہر انسان اپنی الجھنوں کو سلجھاتے سلجھاتے خود غرضی میں اتنا آگے بڑ ھ چکا ہے کہ دوسروں کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
اب اگر آج کل کے دور کو دیکھا جائے اور عام لوگوں کے رویوں اور سوچ کا مشاہدہ کیا جائے تو پتا یہ چلتا ہے کہ ہم نہ صرف مالی طور پر بلکہ سماجی سطح پر زوال پذیر ہیں ہمارے رویے ایک دوسرے سے بغض عناد اور منافرت کا جذبہ لئے ہوئے ہیں شائد کہیں کہیں خلوص کی ایک ہلکی سی جھلک نظر آتی ہے اور دل کو گمان ہوتا ہے بنی نوع انسان کا دل ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہے مگر اجتماعی طور پر معاشرے کے ہر فرد کا رویہ اس بات کا مظہر ہے کہ اب فرد میں اپنے ہم نفسوں کے لیے وہ محبت نہیں رہی جو کبھی آباء و اجداد کا خاصہ تھی۔اس کی بنیادی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ آج کا دور نفسا نفسی کا دور ہے ہر شخص اپنے آپ میں مگن صرف اپنے آپ کے بارے میں سوچتا ہے اپنی زندگی میں بہت مصروف ہے کہ اس کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ اپنے اردگرد نظر دوڑائے اور مشاہدہ کرے اس کے ہم نفس انسان کس حال میں ہیں۔انسانی معاشرہ ہر لمحہ جنم لیتی ہوئی نت نئی تبدیلیوں اور کبھی ختم نہ ہونے والے نئے امکانات کا رنگا رنگ مظہر ہے ۔ انسان ہونے کے ناطے ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کو اس طرح منظم اور مربوط کیا جائے کہ ہر نیا مرحلہ تحفظ، انسانی ضروریات کی فراہمی ، خوشیوں کے حصول ، پائیدار ترقی اور تخلیقی قوت کے اعتبار سے اجتماعی معیار زندگی کو بہتر بنائے۔