Buy website traffic cheap

عدم برداشت

احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے اور احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا۔سول سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کبھی پاکستان کو اتنے چیلنجز نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ وطن عزیز میں اصول پرستی ایک مشکل کام بن چکا ہے کیونکہ قانون شکنی عمل عام ہے، یہاں ہر شخص کے پاس اپنے قانون شکن عمل کی مناسبت سے قانون کی تشریح موجود ہے اور اس طرح ہم میں سے اکثر قانون کی تشریح کے ساتھ تفریح کرتے رہتے ہیں۔ اب اللہ کے فضل و کرم سے حکومت بدلی ہے، اور نئی حکومت کا مشن ہی پاکستان میں تبدیلی ہے۔اور یقینا یہ تبدیلی شروع ہی سیاستدانوں سے ہوگی، اگر قائدین خود کو تبدیل کرتے ہیں تو دیکھا دیکھی کارکن اور یوں پوری قوم اپنا قبلہ درست کرلے گی۔اللہ تعالیٰ نے عمران خان کو ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کا حوصلہ دیا ہوا ہے۔اور وہ جس مشن پر نکلے ہیں ، کامیاب بھی ہو جائیں گے۔
اگر ہم ماضی میں جائیں توملک پاک کا قیام ہی معاشی طور پر پسماندہ ملک کا قیام تھا۔ ہند وتو پروپیگنڈہ کررہا تھا کہ پاکستان اپنی معاشی بدحالی کے سبب جلد ٹوٹ جائے گا لیکن محمد علی جناحؒ کے خلوص نیت اور ایماندار کیبنٹ نے اس وقت دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب سادگی، کفایت شعاری اور محنت و ایمانداری کے زریں اصولوں کو اپناتے ہوئے ملک کے قدرتی وسائل، کوئلہ و تیل کے ذخائر اور بجلی کی پیداوار کے شاندار پراجیکٹس بنائے گئے۔ صنعتوں اور دیگر نوع کے کاروباری نظام کو فروغ دیا گیا۔ ملکی ایگریکلچر کو ملکی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیکر زرعی پیداواری نظام کو منظم کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ پاکستان کی بنیاد کو بقول قائدؒ ”کام، کام اور بس کام‘خلوص نیت اور ایمانداری کے ساتھ فرض کی ادائیگی“ پہ استوار کیا گیا۔ لیکن بعد ازاں ہمارے قائدین نے ملک چلانے کیلئے شارٹ کٹس اختیار کرنا شروع کردئیے اور ترقی کے منصوبوں کی پیش رفت کو اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی پیداواری طاقت کی بجائے قرضوں اور مالی امدادوں کا مرہون منت بنا دیا گیا۔ اپنے دریاﺅں کو دشمن کے ہاتھوں فروخت کرکے ایگریکلچر کا گلا دبا دیا گیا۔ ملک صوبوں کے مساوی حقوق کی پامالی، لسانی گروہی، صوبائی مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرتوں کی عفریت کا شکار بنا دیا گیا۔ اپنا ہی ضمیر کالاباغ ڈیم جسے خالص ملکی ترقی و خوشحالی کے منصوبوں کی کامیاب تکمیل کے راستے روکنے میں دشمن کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن گیا۔ ہمارے ہاں قومی ایشوز کو ہی گول کیا جانے لگا کیونکہ ملک میں کرپشن راج آگیا۔
احتساب ”سب کا“ ضرور ہو‘ احتسابی عمل ”شفاف“ ہو اور ”سزا و جزا“ کا تصور بھی عملی صورت میں علی الاعلان ہو کیونکہ یہی راستے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے اور ملک کی تقدیر بدلنے کے ہیں۔ اس طرح ان لوگوں کی شکایت بھی دور ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں ملک میں الیکشنز کروانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ شریف و محنتی غریب عوام کا مقدر تو پسینہ بہانا ہے۔ ملک میں کرپشن سے نجات چاہتے ہیں تو بڑا کام بھی محافظ ذی عالی وقار شعبوں کا ہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے سب سے پہلے گھر سے احتساب شروع کر کے بہت اچھی روایت ڈالی ہے، انکا مشن ہے کہ سیاستدانوں، عوام اور بیوروکریسی نے خود کو بدلنا ہے، اگر خود کو تبدیل نہیں کریں گے توترقی نہیں کریں گے، کوئی چیز دنیا میں نا ممکن نہیں ہے، ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے انسان کو خود کو بدلنا پڑتا ہے۔بیشک ہم نے ایمانداری سے محنت کرنی ہے اور محنت کا صلہ اللہ رب العزت نے دینا ہے۔ ہمیں ہر وقت امید رہنا چاہئے کہ ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں۔

مشکل وقت میں ترکی نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ترکی اور پاکستان کا تعلق حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ثقافتی اور عوامی تعلق قائم ہے۔دفتر خارجہ میں ترک ہم منصب میولوت چاوش اولو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انکا مزید کہنا تھا کہ ترکی نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
ہم فخر سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے جہاں پاکستانی باشندوں کو عزت و احترام حاصل ہے اور پاکستانی وہاں جا کر اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیںوہ ملک امریکہ یا یورپ نہیں بلکہ برادر اسلامی ملک ترکی ہے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ، خوشگوار، لازوال اور گہرے تعلقات ہیں جن پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ترکی کے صدر طیب اردوان کو نہ صرف ترکی بلکہ پاکستان میں بھی انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، طیب اردوان کو یہ عزت ،شہرت اور نیک نامی یونہی نہیں ملی بلکہ انہوں نے ترکی کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے ملک کی معیشت میں بہتری کے ساتھ ساتھ ملک میں جاری مذہبی منافرت کو ختم کرنے کے بعد یہ فضا قائم ہوئی ہے کہ آج ترکی کے عوام طیب اردوان پر اپنی جان قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔2005ءکے زلزے میں پاکستان کی جس طرح ترکی نے مدد کی بھلامتاثرین زلزلہ اور دیگر پاکستانی کیسے فراموش کر سکتے ہیں؟