Buy website traffic cheap

پاکستان

اخلاقیا ت کا درس دو صا حب

ضیغم سہیل وارثی
اخلاقیا ت کا درس دو صا حب
ہر طر ف سنے کو اب ملتا ہے کہ ، فلا ں سیا ست دان اپنے حلقے میں کئی سا لوں بعد گیا تو عوام نے خو ب عز ت کی ، عزت کا مطلب آ پ سمجھتے ، سیا ست دانوں کو چا ہیے اب اپنی تقر یر وں میں اپنی کا ر کر دگی یا خد مت گا ری یا وفا کے ڈ ائیلا گ نہ ما ریں ورنہ شا عر نے ان کے لیے کہا تھا ،،،،
آ یا ہی تھا ابھی میر ے لب پہ وفا کا نا م
کچھ دوستوں نے ہا تھ میں پتھر اٹھا لیے
سیاسی مو سم ۔ پر ند ے اڑ کر نئی شا خوں پر بیٹھے چکے ہیں ، ٹکٹ لے کر ، اوکے ہو نے کے بعد، آ گے کا مر احلہ عوام میں جا نے کا ہے، یہ الیکشن کی مجبو ری ہو تی ورنہ یہ سیاست دان عوام میں جا نے کا رسک ہی نہ لیتے ، کچھ سیا ست دان عوام میں جاکر ، جیسے قر یشی صا حب مو ٹر سا ئیکل پر ، جا کر عوام کو کو ل کر لیتے ہیں ، اور اپنے سا بق وزیر اعظم عبا سی صاحب خو ب عز ت کما کر آ تے ہیں ، کچھ سیا ست دانوں کے کلپ سنے ہیں ،وہ عوام میں اپنی وفا کا بہت تذ کر ہ کر تے ہیں ، ان کے آ گے بیٹھے لو گ بھی واہ وا ہ کر رہے ہو تے ہیں ، کچھ ہما ری طر ح سر پھیر ے آ گے سے سوالا ت بھی کر تے ہیں ، سوال ہو نے بھی چا ہیے ، ہما ری بد قسمتی ہے ، کہ صر ف ایک علا قے ، یا ایک شہر ، یا ایک صو بے میں نہیں ، بلکے ہر طر ف سیا ست دانوں کا طر ز سیا ست ایک جیسا ہے ، سب عوام کو اچھے سے بے وقو ف بنا تے ہیں ،بے وقو ف بنے کی بات آ ئی ، تو خا کسا ر یہاں اپنے علا قے کی مثال کو ڈ کر تا ہے ، اور قا رئین اس تحر یر کو پڑ ھنے کے بعد اپنے ذہنوں میں اپنے علا قوں کی مثا لیں لا ئیں تا کہ اس بار ووٹ کا سٹ کر تے وہ بہتر فیصلہ کر سکیں ، زیا دہ ما ضی میں نہیں جا تے ہیں ، دو ہز ار اٹھ کا الیکشن ، اب کا این اے اٹھا ون ، امید وار ن لیگ سے ، چو ہد ری ریا ض صا حب تھے، انٹر ویو لیتے ، ان سے پو چھا ، جنا ب آ پ کے خلا ف کون الیکشن میں ، بتا یا گیا ، را جہ جا وید اخلا ص صا حب کا بیٹا ، سا تھ کہا ، یہ وہ جا و ید اخلا ص جو ن لیگ کو چھوڑ کر ق میں گیا اور ضلع کا نا ظم بنا ، سا تھ بتایا اس سے پہلے بھی وہ دوسرے بیٹے کو الیکشن میں نا کا م کر وا کر داغ دار کر و چکے ہیں ، پو چھا آ پ کیا سمجھتے ہیں یہ الیکشن کو ن جیتے گا ،فر ما یا ، میں ، جنا ب آ پ ہی کیسے ، آ گے سے جو اب ملا کہ میری بر ادری بہت بڑ ی تو میر ی ووٹ زیا دہ ہے اور سا تھ پا رٹی وو ٹ بھی ، ریا ض صا حب اٹھ کا الیکشن ہا ر گے ،پھر تیر ہ کے الیکشن میں یہی ریا ضی صا حب الیکشن لڑ نے کے اہل نہیں ہو ئے تو انہوں نے اپنی پا رٹی بھی نہ چھوڑی اور پیپلز پا رٹی کے را جہ پرو یز اشر ف کے لیے الیکشن مہم چلا ئی اور اپنی بر داری سے بھی کہا کہ ووٹ را جہ پر ویز اشر ف کو دی جا ئے ،یہ سب کس کے خلا ف ہو رہا تھا ، ان کی پا رٹی ن لیگ کے را جہ جا وید اخلا ص صا حب کے خلا ف ، ن لیگ کے را جہ صاحب وہ الیکشن جیت گے ،اب اٹھا رہ کے الیکشن ، یہی ریا ض صا حب الیکشن لڑ نے کے اہل ہوئے اس با ر ، ن لیگ نے ان کو پی پی کا ٹکٹ بھی دیا ، ان کے ٹیم میں وفا ق کے لیے کھلا ڑی وہی راجہ جا وید اخلا ص صا حب ہیں ، جن کی پچھلے الیکشن میں انہی ریا ض صا حب نے مخا لفت کی تھی، اب ریا ض صاحب اپنی پا رٹی اور اپنے کھلا ڑی کے لیے الیکشن مہم چلا رہے ہیں ، اور اب کی با ری اپنی بر داری سے اس شخص کو ووٹ دینے کا کہہ رہے ، جس کے بار ے پچھلی با ر کہا تھا کہ اس کو ووٹ نہ دیں ، کیوں کہ اب یہ ریا ض صا حب خو د ٹکٹ ہو لڈ ہیں تب حما ئت کر رہے ہیں ،ذا تی مفا د کی یہاں بہت فٹ مثال ملتی ہے ، ہم نے یہ مثال جو کو ڈ کی، ہما رے قا رئین پا کستا ن کے جس علا قے سے بھی ہیں ، وہاں بھی ان کے مقا می سیا ست دان ایسی مثا لیں قا ئم کر چکے ہو ں گے ،یہ سیا ست دان عوام کو، اپنی بر داری کو کیسے بے و قو ف بنا کر رکھتے ہیں ، ہما رے علا قے میں ریا ض صاحب پا نچ با ر کا میا ب ہو ئے اور ان کی عوامی خد مت کی مثال یہ ہے کہ نو جو ان نسل کے لیے ایک یو نی ورسٹی نہیں بنا سکے ،یا بنا کر نہیں دی ، جب عوام ، ان پڑ ھ ہو گی ، یو نی ور سٹی کی اعلی تعلیم نہیں حا صل کر ئے گی ، تو انہی سیا ست دانوں کے ہا تھوں یوز ہو گی ،جو ایک با ر کہتے ہیں ،اس کے خلا ف رہو ، اور دوسر ی بار کہتے ہیں اس کی طر ف رہو،
سیا ست دان اپنی کا ر کر دگی ، دعو ے ،وعد ے ، اور نعر وں سے ، عوام کو اپنی طر ف کیے رکھتے ہیں ،مگر اب سیا ست دانوں کو سجھ لینا چا ہیے کہ صو رت حال کا فی بد ل چکی ہے ، اس الیکشن کے بعد اور وا ضع ہو گا ، وا قعی عوام میں بہت شعو ر آ چکا ہے ، اب ان سیا ست دانوں کو زمینی حقا ئق کے مطا بق رہ کر ، عوام کی خد مت کر نی پڑ ئے گی ،اب وہ وقت نہیں رہا ، کہ الیکشن جیت کر پا نچ سا ل یو رپ کا وز ٹ کیا ، سیر تفر ویح کی اور پھر الیکشن میں کود گیا تو عوام ووٹ دے گی ، اب کا فی شعو ر آ چکا ہے ، اب تو عوام ایسے ایسے قانون بنا ئے جا ئیں ، کی بحث کر تی ہے ، کہ ہم حیران رہ جا تے ہیں ، جیسے یو رپ میں ہو تا ، کہ الیکشن مہم میں ہما ری طر ح الیکشن پر پیسہ نہیں لگا یا جا تا ، گلی محلوں ، سڑ کوں کو نہیں بلا ک کیا جا تا ، بلکے اپنے منشو ر اور اپنی سو چ کو کتا بی شکل دے کر گھر گھر پھنکا جا تا ہے ،پھر عوام اس کو پڑ ھ کر جو بہتر سمجھتی اس کو ووٹ کا سٹ کر تی ہے ، عوام چا ہتی ، ہما رے ہا ں یو رپ کی طر ح معا شر ے میں بہتری آ ئے ،جیسے یو رپ میں ایک گھر کے افراد کو ایک دوسرے کا پتہ نہیں ہو تا کہ ، کو ن کل کس کو ووٹ دے گا ، سب آ زادی را ئے پر یقین کر تے ہیں ، ہما رے ہاں تو ایک بڑ ا بزرگ ،دادا جی یا پھر پر وٹو کول لینے والے سیا ست دان کو ہاں کر آ تے ہیں اور پو رے خا ندان کو حکم دیا جا تا کہ ووٹ اس پا رٹی یا اس سیا ست دان کو دینا ہے ، تبدیل آ نی چا ہیے ، عوام یہ تبدیل لے آ ئیں گے ،اس سے بہتر کہ اب سیا ت دان خو د ہی اخلا قیا ت کا درس دینا شر وع کر دیں ،ہر طر ف سنے کو اب ملتا ہے کہ ، فلا ں سیا ست دان اپنے حلقے میں کئی سا لوں بعد گیا تو عوام نے خو ب عز ت کی ، عزت کا مطلب آ پ سمجھتے ، سیا ست دانوں کو چا ہیے اب اپنی تقر یر وں میں اپنی کا ر کر دگی یا خد مت گا ری یا وفا کے ڈ ائیلا گ نہ ما ریں ورنہ شا عر نے ان کے لیے کہا تھا ،،،،
آ یا ہی تھا ابھی میر ے لب پہ وفا کا نا م
کچھ دوستوں نے ہا تھ میں پتھر اٹھا لیے