Buy website traffic cheap

امت کی وحدانیت

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
آہستہ آہستہ
محمد آصف ظہوری
وہ تمام شعراء اولیا ء اللہ کی قطار میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے۔ حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت جامی رحمۃ اللہ علیہ،حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ، میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ،حضرت وارث شاہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ ہوں۔ایسے تمام شعراء جن کا تعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے جڑا ہواہے۔ انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں اشعار لکھے ہیں۔ وہ عظیم لوگ تھے جنہوں نے اس مدد کو سمجھا اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کیلئے ان کے آگے بڑھنے کیلئے اس کو روشنی اور قندیلیں بنا کر اپنے شعروں میں ڈھالا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فکر ہیں، سوچ ہیں، ادارہ ہیں، جستجو ہیں۔ سب سے بڑھ کر جہاد کی اصل روھ ہیں۔ اگرہم اس کو سمجھنے کی کوشش کریں تو شاعر یہ الفاظ بھی کہتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔
؂ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
شاید ہماری سمجھ میں آجائیں، ورنہ شاید یہ معاملہ مشکل ہو جائے اور ہم جذباتی طور پر تو اس کو سمجھتے ہیں۔۔۔ سمجھنا بھی چاہیے کیوں کہ جذبات ہی ہماری آرزو اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ جو بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘ وہ کیاایسی بڑی بات ہے، کی اکمال خوبی ہے کہ جو اس دین کی زندہ کرنے والی ہے۔ اس پروگرام میں جو خرابی ہے اس کو دور کرنے والی ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہین کوئی ایسی بڑی خرابی واقع ہو رہی تھی جس کو دورکرنے کیلئے اتنی عظیم المرتبت ہستی کو نہ صرف اپنی بلکہ اپے پورے قبیلے کی قربانی دینا پڑی۔ اوراس سے بھی بڑھ کر یہ کہ۔۔۔ بڑا مشکل ہوتا ہے جب آبرو پر بن گئی ہو، غیر ت کو للکارا گیا ہو۔ اور وہ مقدس بیبیاں جن کے بال آسمان نے کبھی نہ دیکھے ہوئے ہوں، ان کو ننگے سراور ننگے پاؤں پیدل چلایا گیا ہو۔ تو یہ معمولی مقصد ہوہی نہیں سکتا جس کیلئے اتنی عظیم قربانی دینا پڑی۔دو چیزیں بڑی کمال کی ہیں۔ ایک کا نام ہے ’’غار حرا‘‘ جہاں سرورِ دو عالم ﷺ تشریف لے جاتے ہیں اور غوروفکر کرتے ہیں۔ کمال حسن یہ کہ’’حرا‘‘ کے معنی ہیں غوروفکر کے اور ہزاروں سال سے پروردگارِ عالم کے پروگرام کا حصہ تھی اور وہن غوروفکر کے لئے میرے آقاﷺ تشریف لے جاتے تھے۔ ایسے ہی ہزاروں سال پہلے کوفہ کے اس میدان کا نام ’’ کربلا‘‘ ہے اور یہ دو لفظوں کا ملاپ ہے ’’کرب وبلا‘‘ ۔ کوئی ایک فرد محسوس کرتا ہے ، وہ دکھ چاہے تیر کا ہو، تلوار کا ہو، بھوک کا ہو، پیاس کا ہو، تپش کا ہو، اور ’’بلا‘‘ وہ ہوتی ہے جو بستیون کا لپیٹ لیتی ہے، وہ اجتماعی طور پر نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے شروع ہی سے اس کانام ’’ کربلا‘‘ پڑھ گیا۔۔۔۔۔ کہ کرب و بلا کی جگہ۔۔۔
61 ہجری نے پھریہ دیکھی کہ رسول اکرمﷺ جو رحمۃ اللعالمین ہیں تمام کائنات کیلئے، چرندوں، پرندوں، انسانوں کیلئے، حیوانات کیلئے، حشرات الارض کیلئے یہاں تک کہ فرشتوں کیلئے بھی رحمت ہیں اس رسول رحمتﷺ کے گھر کو اجاڑہ جارہا ہے۔ قربانی بہت بڑی ہے تو اسکا معاملہ بھی بہت بڑا ہے۔
آخری رسولﷺ سب سے عالی المرتبت مگر ابھی قربانی آپ ﷺ سے نہیں لی گئی، اور جب تک قربانی نہ لی جائے دین زندہ نہیں ہو سکتا۔ اب یہاں پھر کمال حسین بات دیکھیں کہ پروردگارِ عالم نے رسول اکرم ﷺ کی بیٹی کی اولاد کو چن لیا۔یہاں 72 نفوس ہیں، پورا قبیلہ، پورا خاندان ہے۔ کیونکہ جب کسی انسان کے جسم کو چوٹ پہنچتی ہے تو صرف اسکا دماغ متاثر ہوتا ہے جوا س کی درد کو محسوس کرتا ہے۔ ایک انسان کو جب تکلیف پہنچتی ہے۔۔۔۔۔ مگر جب اس کے پیاروں پر بن آتی ہے اسکی اولاد پر بن آتی ہے تو پھر دل بھی متاثر ہوتا ہے، پھر دل بھی گرفت میں آجاتا ہے۔ اور غم و اندوہ کی اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے اور جب آبرو پر بن جائے پھر تو روح بھی متاثر ہوتی ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے جو امتحاب لیا گیا وہ دل کا بھی لیا گیا، جسم کا بھی لیا گیا، دماغ کا بھی لیا گیا اور روح کا بھی۔ یہ چاروں امتحان ایک ہی لمحے میں گزر گئے حضرت امام حسین رضی اللہ عن ہ پر۔ کیا ہی عظیم المرتبت انسان!!!! کہ آپ نے ظہر کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور اللہ سے کہا’’ اے پروردگار!! اب تو راضی ہے‘‘ اور اعلیٰ ترین سجدہ کیا۔اتنا حسین سجدہ تاریخ نے آج تک نہیں دیکھا اور آئندہ بھی نہیں دیکھے گی۔ کمالِ مقصدیت ہے۔۔۔۔۔ اور یہ قربانی اتنے حسن، خوبصورتی اور صبر کے ساتھ پیش کرنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ آخرغلبہ اسلام کو ہی حاصل ہوگا۔ ممکن نہیں ہے۔ ساری دنیا کے دجال ملک جائیں ، تمام دنیا اکٹھی ہوجائے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پیروکار ہرگز، ہرگز مفتوح نہیں ہوں گے۔ آپ نے پوری خوش دلی کے ساتھ، پورے فہم کے ساتھ ، پورے ارادے کے ساتھ قربانی دی اور اتنی بڑی قربانی کہ بنو اسرائیل اور بنو اسماعیل پر بھاری پڑگئی اپنی اس قربانی کے بعد۔ یہ وہ فرق تھا جس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جیت گئے اور اسی لیے اللہ کے حبیب ﷺ نے بہت پہلے ہی فرما دیا کہ میری امت کے اولیاء بنو اسراعیل کے پیغمبروں کی طرح ہو ں گے۔ ادھر امت کا ایک ولی ہے، امام ہے اوردوسری طرف بنو اسرائیل کا پیغمبر ہے۔ تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بازی لے گئے اپنی قربانی۔یہ بازی اس بات کی غماز ہے کہ آپ جتنی مرضی مصیبتوں سے گزریں، جتنی مرضی پریشانیوں سے گزریں آپ کو یہ قربانی کامیابی کی طرف گامزن کرے گی۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شکل میں اللہ کے رسولﷺ نے امت کو تحفہ دیا کہ لوگوں پراللہ کی حکومت قائم ہوجائے، بندوں پر بندوں کی حکومت قائم نہ ہو۔ اس کو روکنے کیلئے ہر قیمت پر یزید کی بیعت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور دیکھیں آپ کے فیصلے کی قدروقیمت کہ اس وقت کچھ اصحابِ رسول ﷺ موجود تھے جنہوں نے یزید کی بیعت کی مگر جب حجاج بن یوسف کو تعینات کیا گیا تو مکہ اور مدینہ میں بہت ساری تباہی مچی، بے شمار عورتوں نے حرام کے بچے جنے، خانہ کعبہ میں عبادت بند رہی تو اصحاب جنہوں نے یزید کی بیعت کی تھی انہون نے یزیدکی بیعت کو لوٹادیا اور اللہ سے تائب ہوئے۔ ان کو یہ فیصلہ دینا پڑا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت درست تھی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ پیغام دے دیا رہتی دنیا تک کے انسانوں پر انسانون کی حکومت برداشت کروگے، قبول کروگے، تو تذلیل تمہارا مقدر ہوگی اگر بندوں پر اللہ تعالی کی حکمرانی قبول کرو گے تو عزت وتوقیر تمہارا مقدر ہوگی۔