Buy website traffic cheap

ُٓاُس انکوائری کا کیا ہوگا؟

اس نقصان کا ذمہ دار کون ؟

اس نقصان کا ذمہ دار کون ؟
تحریر : ڈاکٹر ایم ایچ بابر
یہ ۴ جون ۲۰۱۸ء کی بات ہے کے میرے دو سینئر صحافی جناب الطاف قادر بھٹی اور رانا شہزاد صاحب نے مجھے فون کیا کہ ڈاکٹر صاحب کدھر ہیں آپ میں نے کہا کہ اپنے آفس میں بیٹھا ہوں انہوں نے کہا کہ گاڑی لے کر فوری طور پر آجاؤشرقپور شریف جانا ہے میں نے کہا کہ خیریت تو ہے انہوں نے کہا کہ آپ آجائیں آپکو بتاتے ہیں ابھی تو آپ یہاں پہنچیں ۔ میں اپنے ساتھ رائے عامر علی کو لے کر فوری طور پر پہنچا تو رانا صاھب اور بھٹی صاحب تیار تھے دوران سفر ہی رانا صاحب نے بتایا کہ ایف اے کا طالب علم جس کا نام عبداللہ ہے وہ ضلع گوجرانوالہ علی پور چٹھہ کا رہائشی ہے حصول تعلیم کے لئے وہ ۲۱ چک مڑہلی نزد ناظر لبانہ تحصیل شرقپور میں اپنی پھوپھو کے پاس آگیا یہاں پر اس نے ایک گورنمنٹ ٹیچر عثمان گجر کے پاس ٹیوشن رکھ لی امتحان سے پہلے عبدللہ اپنے استاد سے کہتا رہا کہ سر جی میرا داخلہ بھیج دیں اور ماسٹر لیت ولعل کرتا رہا سنگل فیس کا وقت گزر گیا تو عثمان گجر کہنے لگا اب ڈبل فیس سے داخلہ جائے گا چارو ناچار عبداللہ نے اسے ڈبل فیس مبلغ پانچ ہزار روپے دے دیئے اب طالب علم کو رولنمبر سلپ کا انتظار لگا ہوا تھا مگر رولنمبر سلپ نہ ملنا تھی اور نہ ملی۔ادھر پیپر شروع ہوگئے اگلے دن پیپر تھا جب عبداللہ نے مطالبہ کیا کہ سر جی میری رولنمبر سلپ ابھی تک نہیں آئی میں صبح پیپر کیسے دوں گا ؟ ماسٹر صاحب نے کمال ہوشیاری سے اسے ایک رولنمبر سلپ کمپیوٹر سے نکال کر دے دی ۔صبح جب عبدللہ پیپر دینے امتحانی مرکز پہنچا تو اس پر یہ عقدہ کھلا کہ ماسٹر عثمان گجر نے جو اسے رولنمبر سلپ تھما دی تھی وہ تو جعلی تھی اسی رولنمبر پر ایک طالب علم وہاں پیپر دے رہا تھا جو کہ اصلی امیدوار تھا ۔ ہوا کچھ یوں کہ ماسٹر عثمان گجر نے جو رولنمبر سلپ کمپیوٹر سے نکال کر دی وہ سلپ کسی فیصل نام کے طالب علم کی تھی جسے ماسٹر مذکور نے فیصل کی تصویر کی جگہ عبدللہ کی تصویر اوپر لگا کر وہ سلپ عبداللہ کو دی تھی یہ تو شکر ہے کہ جعلی طالب علم کے طور پر ممتحن نے اسے گرفتار نہیں کروا دیا بلکہ اس پر شفقت کرتے ہوئے اس کی راہنمائی کی کہ بیٹا آپ کا تو داخلہ بورڈ میں بھیجا ہی نہیں گیا ۔ متاثرہ طالب علم عبداللہ نے جب دہائی دی تو ماسٹر عثمان گجر وحشی گجر بن گیا اور عبداللہ سے کہنے لگا جاؤ جو کر سکتے ہو کر لو تم میرا کیا بگاڑ لو گے خاموشی سے بیٹھ جاؤ اور اگلے سال امتحان دے لینا ۔عبداللہ نے اب ایک درخواست بر خلاف ماسٹر عثمان گجر ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کو دی اور ساتھ ساتھ کچھ اور درخواستیں چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایجوکیشن علی احمد سیان ، اے سی شرقپور ،بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن لاہور ،گورنر پنجاب ،ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور کے نام بھی گزاریں کہ مجھے انصاف چاہیئے مجھے میرے ضائع ہونے والے دوسال لوٹائے جائیں اور اس کرپٹ استاد کے خلاف کارروائی کی جائے یہ ساری کہانی سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ کیا ایسا شخص جو طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کرے استاد کے مرتبے پر فائز رہنے کا مستحق ہے ؟ٹیچنگ تو پیغمبری شعبہ ہے کیا ایسے شیطان صفت لوگ اس مقدس پیشے کو بدنام نہیں کر رہے ؟اپنے والدین کے ڈر سے اس معصوم طالب علم نے تو اپنے والدین اور بڑے بھائیوں کو بھی نہیں بتایا عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پھو پھو کے سامنے روزانہ پیپر دینے نکلتا تھا میرے گھر والوں کو قطعی طور پر یہ نہیں پتہ کہ ایک ماسٹر میرے مستقبل سے کھیل چکا ہے ۔ یہ ساری کہانی رانا شہزاد صاحب مجھے سنا رہے تھے کہ ۲۱ چک مڑہلی آگیا جہاں ،متاثرہ طالب علم عبداللہ ہمارا انتظار کر رہا تھا اسے ساتھ لے کر ہم ماسٹر عثمان گجر کے گھر گئے تاکہ اس سے بات کر سکیں کہ اس معصوم نے تمہارا کیا بگاڑا تھا جس کی تم نے اسے اتنی کڑی سزا دے ڈالی ۔ عثمان گجر تو گھر نہ ملا یا شائید گھر پر ہونے کے باوجود ہمیں یہ کہا گیا کہ وہ گھر پر نہیں ہے ہمارے دوبارہ دستک دینے پر اندر سے ایک بزرگ باہر آئے جو ماسٹر عثمان کے والد تھے وہ بہت پریشان دکھائی دے رہے تھے وہ ہم سے کچھ یوں گویا ہوئے کہ میں بذات خود ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہوں سینتیس سال میں نے بڑی صاف ستھری اور بے داغ سروس کی ہے میں ایم اے ایل ایل بی ہوں قانون سے بھی شناسائی رکھتا ہوں مگر میرے اس بیٹے نے میری تنی ہوئی گردن جھکا دی ہے ہم اس شریف النفس بزرگ سے ملنے کے بعد وہاں سے چل پڑے اور وہاں سے سیدھے اسسٹنٹ کمشنر شرقپور شریف کے دفتر پہنچے تا کہ اے سی صاحب سے یہ پوچھیں کہ اس طالب علم کی درخواست پر کیا پیش رفت ہوئی ہے مگر اے سی صاحب بھی اپنے دفتر میں موجود نہ تھے خیر ان سے ٹیلی فون پر بھٹی صاحب کی بات ہو گئی انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ اس بچے کے ساتھ پورا پورا انصاف ہو گا آپ لوگ بے فکر رہیں ۔ یہ تو اے سی آفس شرقپور سے ہی پتہ چلا کہ یہ اکیلا ماسٹر نہیں بلکہ یہ پوری گینگ ہے بلکہ یہ شیطان گجر اس امتحان میں پائلٹ ہائی سکول میں سینٹربی میں بطور سپریٹینڈنٹ تعینات تھا وہاں سے بھی خوب روپے اکٹھے کر رہا تھا کہ شکایات پر اسے ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا اس دن سے لے کر آج تک میں اسی سوچ میں گم ہوں کہ طالب علم عبداللہ کو اس کے دو سال کون لوٹائے گا زیادہ سے زیادہ اس ماسٹر کو نوکری سے نکال دیا جائے گا وہ اپنے اثرو رسوخ سے پھر بحال ہو جائے گا دو سال اسنے جو تعلیمی اخراجات کیئے ان کا کیا بنے گا ؟اب سنا ہے وہ ٹیچر کہتا ہے کہ اپنا پانچ ہزار روپیہ واپس لے لو اور بات کو ختم کردو ورنہ پچھتاؤ گے ارے بابا وہ بیچارہ تو پہلے ہی پچھتا رہا ہے اور کیا پچھتائے گا ؟میری حکام بالا سے گزارش ہے کہ محکمہ تعلیم کو ان کالی بھیڑوں سے فی الفور پاک کیا جائے ۔ پورے دو سال جو عبداللہ کے دو اڑھائی لاکھ تعلیمی اخراجات ہوئے ہیں وہ بھی سارے عثمان گجر سے وصول کر کے متاثرہ بچے کو واپس دلوائے جائیں اور اس ماسٹر کو نوکری سے نکال کر بھری جرمانے کے علاوہ جن جن لوگوں کو اس نے لوٹا ہے وہ بھی اس وحشی گجر سے وصولے جائیں اب دیکھتے ہیں کہ پنجاب کی سرکار اس بچے کے ساتھ کیا انصاف کرتی ہے ؟اور اس بد کردار ماسٹر کا کیا احتساب کرتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا ؟ میرے چند وکلاء دوستوں کی رائے یہ ہے کہ ایسے کرپٹ استاد کو کم از کم دو کروڑ روپیہ ہرجانہ کیا جانا چاہیئے ۔ میری ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ طالبعلم عبداللہ کو خصوصی شفقت کرتے ہوئے سیپلیمنٹری امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دے کر متاثرہ بچے کا مستقبل بچایا جائے کیونکہ اس ساری کتھا میں طالبعلم کا ذاتی طور پر کوئی قصور نہیں قصور تو سارا ماسٹر عثمان گجر کا ہے اسے قرارواقعی سزا دینا حکام بالا پر واجب ہی نہیں بلکہ اوجب ہے ۔ میری پاک دھرتی کو اگر دس بارہ کرپٹ لوگوں کو سزائے موت سنا کر پاک کیا جائے تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ یہ ماں دھرتی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کرپشن کے ناسور سے نجات پا لے گی جب کرپٹ آدمی کو پتہ ہو گا کہ کرپشن کی سزا موت ہے تو کرپشن کرنے سے پہلے بندہ ہزار بار سوچے گا میری نظر میں کرپشن کے خاتمے کا اس سے بہتر کوئی علاج نہیں ۔ قارئین کرام آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے مجھے آپ کی آرا کا انتظار رہے گا اپنی رائے سے ضرور نوازیئے گا ۔ اور متاثرہ طالب علم عبداللہ کے ساتھ کیسا انصاف ہو کہ اس کا مستقبل بھی بچ جائے اور اس کی زندگی بھی کیوں کہ آج کا نوجوان ایسے حالات میں خودکشی کی جانب بھی چل پڑتا ہے ۔ ایک مرتبہ پھر التجا ہے کہ اپنی رائے سے لازمی نوازیئے گا ۔