Buy website traffic cheap

دھاندلی

الیکشن دعوے

مدثر حسین
الیکشن کا مہینہ شروع ہوتے ہی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ہر پارٹی اپنا منشور عوام کو پیش کر رہی ہے۔ گزشتہ ماہ پی-ٹی-آئی نے اپنے ۱۰۰ دنوں کے پلان کا اعلان کیا تھا۔ اس پلان میں دو چیزیں بہت نمایاں تھیں۔ ایک یہ کہ پی-ٹی-آئی اقتدار میں آکر عوام کو 50 لاکھ گھر دے گی اور دوسرا یہ کہ ایک کڑوڑ ملازمیتں فراہم کرے گی۔بغیر کسی منصوبہ بندی کے کم و بیش اسی طرح کے سیاسی اعلانات اکژ ن-لیگ کی جانب سے بھی ہوتے رہے ہیں۔ کہ ۶ ماہ میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیں گئے،غربت ختم کر دیں گئے،کشکول توڑ دیں گئے۔ شہباز شریف تو بعض اوقات ایسا بیان دے دیتے تھے کہ گمان ہونے لگتا تھا کہ جیسے وزیراعلی نہیں کوئی اپوزیشن رہنما گفتگو کر رہا ہو۔ ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہی روش رہی تو وہ دن دور نہیں جب عوام کا ہاتھ ہو گا اور سیاستدانوں کا گریبان۔ اب ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خود شہباز شریف سیاستدان نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟ ہمارے ہاں سیاست میں کوئی بھی بات کر کے اس سے روگردانی کر جانا عام سی بات ہے۔ پی-ٹی-آئی نے جو ۱۰۰ دن کے پلان کا اعلان کیا اس کے بارے میں بتایا نہیں کہ اس کو عملی جامہ کیسے پہنایا جائے گا۔ ۵۰ لاکھ گھر لوگوں کو کیسے دیے جائیں گئے ؟ گھر دینے کا کیا معیار ہو گا ؟ کیا قرض دیا جائے گا ؟ کیا یہ آشیانہ ہاوسنگ سکیم کی طرح کی سکیم ہو گی ؟ ۱ کڑوڑ لوگوں کو پانچ سالوں میں نوکریاں کیسے دی جائیں گئیں ؟ کونسی انڈسٹری کو فوکس کیا جائے گا ؟ پی-آی-آے اور ریلویز کے خسارے کو کیسے دور کیا جائے گا؟ ۱۰۰ دنوں کے پلان میں اس طرح کے جوابات نظر نہیں آرہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں کم ترین ریٹ پر میٹرو بنانے کے دعوے کے بارے میں جب وسیم بادامی نے وزیر اعلی پرویز خٹک سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ خان صاحب کو ٹیکنیکل چیزوں کا نہیں معلوم ہوتا۔اب اگر دوبارہ اس قسم کا بیان عوام کو سننا پڑ گیا تو عوام کا کیا ہو گا جنہوں نے ووٹ دیے ہوں گئے۔ ن-لیگ اقتدار میں آنے سے پہلے تجربہ کار ٹیم کا راگ لاپتی رہی لیکن حکومت میں آنے کے بعد یہ کہتی پائی گئی کہ جیسا سوچا تھا حالات ویسے نہیں ہیں۔اب جب کے ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے، قرضے بھی بڑھ رہے ہی،پیٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور سرکاری ادارے بھی مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں۔تو اس طرح کے حالات میں عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کی ان مسائل کو نئی آنے والی حکومت کیسے ٹھیک کرے گی۔ ن-لیگ نے جو کرنا تھا وہ کر لیا اور ان کے غلط کاموں کی ذمہ داری ان پر ہی ڈالی جائے گی۔جس چیز کا کوئی مناسب منصوبہ نہ بنا ہو اس کو عوام میں لانا ہی نہیں چاہیے۔ اس سے آپ کی خود کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور عوام کا اس جمہوری نظام پر اعتبار مزید کم ہو جاتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ نظام ہمیں کچھ دے ہی نہیں سکتا ہے۔ یہ نظام صرف وعدے کرتا ہے۔
ہمیں باقائدہ منصوبہ بندی سے چلنے کی ضرورت ہے۔ ہر شعبے کا ازسرہ نو جائزہ لیا جائے کہ کہاں کس جگہ پر بہتری کی گنجائش ہے۔ ابھی جو دو ذرائع میرے ذہن میں آرہے ہیں ہم ان ذرائع سے اور زیادہ زرمبادلہ اکھٹا کر سکتے ہیں۔ ایک تو آن-لائن فری-لانسنگ دوسرا بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والی رقوم۔ ابھی ہم آن-لائن فری-لانسنگ سے تقریباً ۱یک بلین ڈالر تک سالانہ حاصل کر رہے ہیں۔پاکستان آن-لائن فری-لانسنگ انڈسٹری میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ پہلے نمبر پر انڈیا، دوسرے پر بنگلہ دیش، تیسرے پر امریکہ براجمان ہے۔ آن-لائن فری-لانسنگ کا ۲۴ فیصد بزنس انڈیا میں ہے۔ جبکہ ہم آٹھ فیصد پر ہیں۔ آن-لائن فری-لانسنگ بغیر کسی نمایاں حکومتی مدد کے تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ لیکن اگر اس میں حکومتی کوششیں شامل ہو جائیں تو ہم آن-لائن فری-لانسنگ سے مزید زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ آنے والی حکومت کو چاہیے کہ نئی ٹیکنالوجییز پر انٹرنیشنل لیول کی ورکشاپ منقعد کروائے، پروگرامینگ ایکسپرٹ بلائیں، اور پاکستان سے نوجوانوں کو مختلف کورسز کے لئیے بیرون ملک بھیجا جائے۔ اسی طرح اگر ہم بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم کا جائزہ لیں تو اسٹیٹ بینک کے مطابق ۲۰۱۷ میں پاکستنیوں نے۲۰ بلین ڈالر پاکستان بھیجے۔ جس طرح کسی پراڈکٹ کے لئے نئے منڈیوں کی تلاش کی جاتی ہے اسی طرح ہمیں اپنے لوگوں کے لئے مختلف ممالک میں جگہوں کو تلاش کرنا چاہیے کہ کس جگہ ہمارے لوگ وہاں فٹ ہو سکتے ہیں۔ یہ لیبر،ڈاکٹر،انجینیر،مالی،بینکر،سافٹ ویئر انجینیر غرض کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ہندوستان یہی کام بھرپور منصوبہ بندی سے کر رہا ہے مغربی ممالک میں تو انڈیا تھا ہی اب مسلم ممالک میں بھی اتنی ہی تعداد میں موجود ہے۔ یو-اے-ای۔ قطر، یہاں تک سعودیہ میں بھی انڈین لیبر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ۲۰۱۵ میں انڈین کی طرف سے اپنے ملک میں بھیجی جانے والی رقوم ۶۸ بلین ڈالر تھیں۔ کس بھی شعبے کو منتخب کر کے اس پر کام کیا جا سکتا ہے جیسے سری-لنکا دنیا کو اچھے ویٹر فراہم کرتا ہے۔ ہم اچھے سیکورٹی گارڈ فراہم کر سکتے ہیں۔ میرے کچھ جاننے والے دوست احباب آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کے غرض سے گئے تھے انہوں نے وہاں پارٹ ٹائم گارڈ کی جاب کی اور اپنے تعلیمی اخراجات پورے کیے۔ پوری دنیا میں آجکل کے ماحول کے مطابق سیکورٹی جاب میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے ہاں دنیا کے بہترین تربیت یافتہ سیکورٹی اہلکار موجود ہیں۔ ہم اس کام کے لئے اپنے لوگوں کی ٹرینیگ دیں ، ان کی انگلش پر کام کریں اس کے علاوہ ملکی سطح پر کورسز کروایں تو ہم کچھ عرصہ میں ڈلیور کرنے والے بن سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے شعبہ جات کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔امیدکرتے ہیں کے نئی آنے والی تمام شعبوں میں بہتری لائے گی۔