Buy website traffic cheap

جمال خاشقجی

امریکہ بمقابلہ اسلام پسند بہادر ترک اردغان

امریکہ بمقابلہ اسلام پسند بہادر ترک اردغان
راشدعلی
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی
ان دنوں امریکہ کی ایشیائی ممالک کے خلاف معاشی جنگی چالوں اورمسلم ممالک کے اقدامات پر نظر جمائے ہوئے ہوں ۔امریکہ کورجب طیب اردغان جیسے باصلاحیت ایماندارسربراہ مملکت کو آنکھیں دکھانا مہنگا پڑسکتا ہے۔جیساکہ بعض یورپین ماہرین اس کی طرف اشارہ دے چکے ہیں ۔یہ فاتحین کی فصیل سے ہے ۔اللہ ،محمد،قرآن اس کاماٹو ہے ۔ایمان اس کی طاقت ۔صبر اس کی ڈھال ہے۔مسجدومحراب کا محافظ افکار وکردار میں فاتح قسططنیہ سلطان محمد دکھائی دیتا ہے۔قوم سے بات کرتا ہے تویوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسلامی لشکر سپین کے ساحل پر لنگر انداز ہے اورطارق بن زیاد اسلام کی حرمت عظمت حشمت اورنعرہ تکبیر بلندکررہا ہے ۔کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سرزمین شام میں صلاح الدین ایوبی فاتح بیت المقدس اپنی بٹالین کو واعظ کررہا ہے کہ اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے مغلوب ہونے کے لیے نہیں ۔کبھی یوں دکھائی دیتا ہے جیسے قسططنیہ (استنبول )کا فاتح سلطا ن محمد چالیسویں روز اپنی فوج سے مخاطب ہو اورکہہ رہا ہوکہ ایمان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا میں خون کی آخری قطرہ موجود ہونے تک جنگ لڑوں گافتح ہماری ہوگی کفرمغلوب ہوگا۔
تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ساتویں اورآٹھویں صدی میں وسطی ایشیائی ترک اسلام کی طرف مائل ہوئے ۔جیسے جیسے ان پر اسلام کی کرنیں پڑتی گئیں ویسے ویسے یہ اپنا اثرورسوخ وسطی ایشیائی ممالک پر قائم کرتے گئے ۔جرت اوربہادر ی اللہ تعالیٰ نے انہیں ورثہ میں عنائیت کی ہے ۔سامانی سلطنت کے خاتمے کے ساتھ ہی وسطی ایشیا میں ترکوں کی فتح کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ دسویں صدی کے آخری حصے میں ترکوں نے غزنی سلطنت قائم کی اور خوارزم سیستان غور وغیرہ کئی ممالک کو فتح کر کے غزنی سلطنت میں شامل کیا۔ ہندوستا ن میں پنجاب کا علاقہ غزنی سلطنت کے زیراثررہا ۔ عباسی خلیفہ کی فوج کے ترک سردار مشرقی وسطی اور افریقی ممالک کے حکمراں رہے۔ وسطی ایشیا میں سلجوق شاہی اور خوارزم شاہی حکومتوں کے دوران ترکوں نے بہت سے دیگر ممالک کو بھی فتح کیا۔ کمزور پڑ چکی عباسی خلافت اور بائزینتینی ؂ سلطنت کو بھی ترکوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔وسطی ایشیاء کے سابق حکمران اورکابل کے بادشاہ بابر نے ہندوستان میں تیموری سلطنت قائم کی جو بعدازاں مغلوں کی حکومت کے نام سے مشہور ہوئی تقریبا ایک ہزار سال تک حکمرانی قائم رہی۔ایشیائے کوچک ،مغربی اناتولیا میں سلطنت عثمانیہ قائم کی اوراسلام کاپرچم یورپ میں لہرایا۔ترکوں نے اسلام کی تعلیمات کو عام کیا اورجرت اوربہادری کی اعلیٰ امثال قائم کیں ۔ترکوں نے عالم اسلام پر بے پناہ احسان کیے ۔اپنے لہو سے سالہاسال اسلام کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت فرمائی ۔وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسلام کا پرچم بلندرکھا ۔
نائن الیون کے بعد سے تاحال امریکہ متعددمسلم ممالک کو کھنڈرات میں تبدیل کرچکا ،درجنوں جدید شہر،ہزاروں سرسبزوشاداب قصبے ،پر شکوہ بلندوبالا عمارتیں ،لاکھوں مرد ،عورتیں ،بچے بوڑھے ،جوان اس خونی درندے کے ہاتھوں شہید ہوچکے ۔وہ ننھے پھول جنہیں قدرت کا حسن دیکھنا تھا ،جنہیں ابھی زیروزبر کا بھی علم نہیں تھا وہ ایلان کی صورت میں ساحل ،گھر،سکول اورہزاروں ماؤں کی گودوں میں دم توڑگئے ۔ہزاروں گلیوں اوربازاروں اورکھنڈرات میں تبدیل مکانوں اوردوڑتے بھاگتے صحراؤں میں نظریں آسمان کی جانب اٹھائے سسکیاں اورآہیں بھرتے ہوئے یہی شکوہ کرتے رہے ہمیں کیوں مارا جارہا ہے ۔بیٹیوں کی تار تار ہوتی عصمتیں مسلم حکمرانوں کا ضمیر بیدار نہ کرسکیں ۔ماؤں کی اجڑتی گودیں اتحاد مسلم کی راہ ہموار نہ کرسکیں ۔عراق اجڑا ،لیبیا اجڑا،افغانستان اجڑا ،شام کھنڈرات میں تبدیل ہوا،کشمیر میں نسل کشی جاری ،فلسطین لہو لہو ،یمن ،اوربرما کے مسلمان بے یارومددگار زندگی اور موت کی کشمکش میں زندگی گزرانے پر مجبور ہیں ۔سوائے ایک مردان حر کے کوئی ان کے لیے حمائت کا اعلان نہیں کرسکا ۔اگروقت کے فرعوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی جرت کسی میں پیداہوئی تو وہ رجب طیب ہے ۔رجب مسلم امہ کے لیے عظم وہمت کا سلوگن بن چکاہے ۔کبھی کبھار تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دوبارہ خلافت کی راہ ہموار ہونے جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ شیر ایمانی قوت اورخدا تعالیٰ کی نصرت کے ساتھ میدان عمل میں باطل اورقاتل قوت کے سامنے پوری ہمت اورقوت سے سینہ سپر ہے ۔ اس کے رعب وہیبت سے باطل قوتیں خوف زدہ ہیں۔یوں تو اقبال نے یہ شعربہادر ترکوں کے لیے کہا تھا اسرار میں رجب بھی کہیں اس کا مصداق ضرور ہے ۔
تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا