Buy website traffic cheap

عدم برداشت

امن مذاکرات کی دعوت پر بھارت کا متکبرانہ جواب

بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے عمران خان کو وزیراعظم بننے پر مبارک باد دینے کے لیے تہنیتی خط لکھا تھا۔ جس کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی بھارتی ہم منصب کو جوابی خط لکھا ہے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں پاک بھارت تنازعات پر باضابطہ مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے، انہوں نے کہا کہ اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر مل کر بات چیت کریں۔ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے بامعنی مذاکرات پر زور کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے خط بھیجا ، جس میں وزیراعظم عمران خان نے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات اور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کی تجویز دی تھی۔پہلے بھارتی حکومت کی جانب سے خط کا خیر مقدم کیا گیا اور وزرائے خارجہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ملاقات پر حامی بھری گئی لیکن دو ورز بعد ہی بھارتی حکومت کی جانب سے اس ملاقات سے انکار کر دیا گیا۔جس پر گزشتہ روزوزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت کوامن مذاکرات کی بحالی کی دعوت دی تھی لیکن بھارت کے منفی جواب پرمایوسی ہوئی۔ مذکرات کی بحالی کی میری دعوت کے جواب میں بھارت کا منفی اور متکبر رویہ باعث افسوس ہے۔ اپنی پوری زندگی میں نے ادنیٰ لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر قابض ہوتے دیکھا ہے۔ یہ لوگ بصارت سے عاری اور دوراندیشی سے یکسر محروم ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر بھارتی حکومت کی طرف سے ملاقات سے انکار پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے سفارتی آداب کوروندا جس کی مثال نہیں ملتی، کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ سفارتی آداب کے منافی ہیں۔ بھارتی بیان پڑھ کر افسوس ہوا ، پاک بھارت مسائل کے حل سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا،پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کے جواب میں بھارت کے پیچھے ہٹنے پر افسوس ہوا۔
اس میں کوئی شبہ باقی نہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو مثبت سوچ کے ساتھ خط کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے بھارتی ہم منصب کو دعوت دی کہ آئیے بات چیت کے ذریعے تمام مسائل کا حل نکالیں اور ہم بھارت کے جواب کے منتظر ہیں۔دوسری جانب سے وزیراعظم عمران خان کا بھارتی ہم منصب کو لکھا گیا خط کا جواب متکبرانہ انداز میں دیا گیا جس پر ہر جانب سے افسوس کیا جارہا ہے۔وزیرِاعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ طور پر دوبارہ آغازکرنے کی ایک شاندار کوشش کی تھی جس کے بعد ایک امید بندھی تھی کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ بات چیت کا آغاز کریں گے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزرائے خارجہ مذاکرات ہونگے۔ اور اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات شروع ہو جائیں گے، یہ مذاکرات دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے خط میںمزید لکھا تھا کہ” آئیں مسئلہ کشمیر‘ سرکریک اور سیاچن پر بات چیت کریں“۔ پاکستان اور بھارت کو اپنے عوام اور آنے والی نسلوں کی بہتری اور امن کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات بلاشبہ ناقابل تردید چیلنجز کا شکار ہیں تاہم پاکستان دہشت گردی کے معاملے پر بھی یقینی طور پر بات کرنے کو تیار ہے‘بہرحال دونوں ملکوںکو تمام تنازعات کا حل مذاکرات سے ہی تلاش کرنا ہوگا۔دوسری جانب وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک روانہ ہوگئے ہیں،سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی وزیر خارجہ کے ہمراہ گئی ہیں۔دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی مسئلہ کشمیر سمیت مختلف امور پر بھرپور طریقے سے پاکستان کا موقف بیان کریں گے۔لیکن بھارت کی جانب سے وزرائے خارجہ ملاقات سے انکاری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکارت کا کوئی امکان نہیں ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات 2015 سے تعطل کا شکار ہیں۔