Buy website traffic cheap


امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال جاری، بڑے بڑے نامی گرامی سیاستدان بنک ڈیفالٹر نکل آئے

لاہور(ویب ڈیسک): کاغذات نا مزدگی کی جانچ پڑتال جاری،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے کئی اہم رہنما ڈیفالٹر نکلے،منظور وٹو،افضل کھوکھر بنک نا دہندہ قرار،حنا ربانی کھر55کروڑ،فیصل واڈوا5کروڑ 40لاکھ،بشیر ہارون5کروڑ اور اسد اللہ بھٹو7کروڑ کے نادہندہ نکلے۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کا اسکروٹنی سیل 19 جون تک کاغذات نامزدگی کی باریک بینی سے چھان بین کرے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اسکروٹنی سیل کی جانب سے 12 ہزار امیدواروں کے کوائف نیب، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کو بھیجے گئے ہیں۔ ساڑھے سات ہزار امیدواروں کے کوائف کی آن لائن اسکروٹنی سسٹم کی مدد سے جانچ پڑتال ہو چکی ہے۔ ذرآئع کے مطابق آئندہ عام انتخابات کیلئے 19 ہزار آٹھ امیدواروں میں سے 1500 کے قریب بینک نادہندہ نکلے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینچ کی جانب سے این اے 143، 144، پی پی 186 سے پیپلزپارٹی رہنما میاں منظور وٹو کو بنک نادہندہ قرار دیا گیا ہے۔ پی پی 193 سے غلام احمد شاہ اور احمد شاہ گھگہ ڈیفالٹر نکلے۔ این اے 116 سے امیرعباس سیال، این اے 30 خالد مسعود، این اے 224 سے عبدالستار بچانی، ذوالفقار بچانی بھی بینک نادہندہ قرار دیئے گئے ہیں۔این اے 256 سے عامر ولی الدین چشتی، این اے 257 سیایازخان، این اے 261 سے چنگیز خان، این اے 52 سے افضل کھوکھر بینک نادہندہ نکلے ہیں۔ پی پی 109 سے زینب احسان، پی پی 113 سے عمر فاروق، پی پی 136 سے چوہدری مشتاق، پی پی 148 سے شیخ محمد عثمان، پی پی 185 سے علی عاصم شاہ اور پی پی 62 سے محمد آصف بھی بینک ڈیفالٹرز میں شامل ہیں۔ مخصوص نشستوں پر حنا ربانی کھر، طاہرہ امتیاز، عالیہ آفتاب ڈیفالٹر نکلیں،ذرائع کے مطابق حنا ربانی کھر کے ذمے بینکوں کے 55 کروڑ روپے سے زائد، فیصل واوڈا کے ذمے 5 کروڑ 40 لاکھ روپے، ہارون بشیر بلور کے ذمے 5 کروڑ سے زائد اور اسد اللہ بھٹو کے ذمے 7 کروڑ روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔پی پی 66 سے چوہدری شکیل گلزار، پی کے 46 سے محمد علی تراکئی ڈیفالٹر نکلے۔ این اے 205 سے امیدوار جام اکرام اللہ کے ذمے زرعی بینک کے 31 کروڑ اور ایک اور بینک کے 80 لاکھ روپے واجب الادا ہیں جبکہ این اے 88 سے امیدوار ہارون احسان پراچہ کے ذمے ساڑھے 7 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔امیداوروں کو ریٹرننگ افسران کے سامنے بینک قرضوں کی تمام تفصیلات پیش کرنا ہوں گی اور نادہندہ ہونے کی صورت میں امیدوار کو نا اہل قرار دیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک ایک ہزار 500 کے قریب امیدواروں کے کوائف تمام ریٹرننگ افسران کو بھجوائے گئے ہیں۔ اسٹیٹ بنک نے امیدواروں کو قرضہ معاف کرانے، 20 لاکھ سے زائد قرضہ حاصل کرنے پر ڈیفالٹر قراردیا۔ قانون کے مطابق 20 لاکھ روپے سے زائد کا مقروض امیدوار نا اہل تصور ہوتا ہے۔کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد 22 جون تک اپیلیں دائر کی جا سکیں گی۔ 27 جون تک اپیلوں کو نمٹایا جائے گا جبکہ نظرثانی شدہ فہرست 28 جون کو جاری ہوگی۔ امیدوار اپنے کاغذات 29 جون تک واپس لے سکیں گے جس کے بعد حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔