Buy website traffic cheap


انسداد عطایت اور حقائق

انسداد عطایت اور حقائق
پروفیسر اظہر خان بلوچ
پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کا ادارہ بنانے کا مقصد عوام کوصحت کے حوالہ سے بہتر سے بہتر اور معیاری سہولیات پہنچانا ،مریضوں کی فلا ح کیلئے کام کرنااورجن طریقہ ہائے علاج کو ڈرگ ایکٹ 1965میں قانونی حیثیت حاصل ہے ان طریقہ علاج سے علاج معالجہ کرنے والے تمام سرکاری،پرائیویٹ یا فلاحی اداروں کو بہتر بنانا،مطب ،کلینک،ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی کے معیار کو چیک کرنا،بہتر ی کیلئے راہنمائی کرنا،سیمینار ،ورکشاپس منعقد کروا کر ان کی طبی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر عوام کو صحت کے حوالہ سے بہترین سہولیات کی فراہمی تاکہ صحت مند معاشرہ تشکیل پائے اور عوام امراض سے بچ سکیں اور غیر مستند وغیر تربیت یافتہ معالجین( جعلی ڈاکٹرز)اور غیر معیاری ادارے جو عوام کو معیاری سہولیات کی بجائے صرف اور صرف تجارتی مقاصد کیلئے بنائے گئے ہیں ان کا خاتمہ کرنا تھادوسرے الفاظ میں انسداد عطائیت اس کا منشور تھا۔
سابق حکومت کی جانب سے یہ اقدام بظاہر عوام کی فلاح اور بھلائی کے لئے بہت اچھااور احسن لگ رہا تھا اور عوامی حلقوں نے اسے خوب سراہا قومی صحت کو برقرار رکھنا بھی حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے اور تمام قوانین وضوابط اور اصول انسان کی بہتری ،فلاح اور ارتقاء کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔زندگی کے تمام شعبوں میں سے اہم ترین شعبہ صحت کا ہے صحت کیلئے مختلف طریقہ علاج طب اسلامی،ایلوپیتھی ،ہومیو پیتھی، آیورویدک،آکوپنکچر وغیرہ سے علاج کیاجاتا ہے ۔زندگی کے کسی بھی شعبہ میں بہتری لانے کیلئے اس شعبہ کے متعلقہ ماہرین ہی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ متعلقہ ماہرین ہی اپنے شعبہ میں بہترین پالیسی اور ضابطہ بنا سکتے ہیں صاف ظاہر ہے کہ ماہر ایلوپیتھی ماہر ہومیو پیتھی نہیں ہوسکتا اورنہ ہی ماہر ہومیو پیتھی ماہر طب یونانی یا طب اسلامی ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں تین طریقہ علاج کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور ڈرگ ایکٹ 1965کے تحت ان کی 4کونسلز بھی بنائی گئی ہیں ایلوپیتھی کیلئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ،نرسنگ کیلئے پاکستان نرسنگ کونسل،اطبا ء کیلئے نیشنل کونسل فارطب اورہومیو پیتھی کیلئے نیشنل کونسل فا رہومیو پیتھی اپنے کوالیفایڈافراد کو رجسٹرڈ کرتی ہے ۔اصولی طور پر تو ان متعلقہ کونسلز کو یہ ذمہ داری دی جاتی کہ وہ اپنے اپنے طریقہ علاج اور متعلقہ شعبوں میں علاج معالجہ کو بہترین طبی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور عطایت کو ختم کرنے کیلئے مطب،کلینک،میٹرنٹی سنٹرکے قواعد وضوابط مرتب کرتے اور وہی ان قواعد وضوابط کے نفاذ کی نگرانی کرتے لیکن پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن تشکیل دیتے وقت خصوصی طور پر جانب داری اور متعصبانہ رویہ اختیار کیا گیا کہ25ممبران میں سے صرف ایک ممبر طب یونانی سے اور ایک ممبر شعبہ ہومیو پیتھی سے شامل کیاگیا اور بقیہ تمام ماہرین شعبہ ایلوپیتھی سے متعلقہ تھے۔مطب ،ہومیو کلینک کے قواعد وضوابط بنانے اور اس پر عمل درآمد کروانے کیلئے گویا یہ کمیشن ایلوپیتھی کے ماہرین پر مشتمل ہے ۔یہ بات جانی پہچانی جاتی ہے کہ ایلوپیتھ کے نزدیک ایلوپیتھی ڈاکٹرز اور ایلوپیتھی طریقہ علاج کے علاوہ تمام طریقہ علاج اختیارر کرنے والے افراد چاہے وہ مستند ہی کیوں نہ ہوں عطائی ہیں اور ان کے نزدیک خصوصی طور پر طب یونانی یا طب اسلامی ایک غیر علمی سائنس ہے اگر انہیں ایک مریض کہ دے کہ اس نے کسی طبیب یا حکیم سے علاج کروایا ہے یا دیسی دوا کھائی ہے تو ان ایلوپیتھ کا رویہ مریض کے ساتھ ایساہوجاتا ہے جس سے مریض یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کوئی بہت ہی بڑا جرم کرلیا ہے اور شاید اس بیماری کی وجہ بھی یہی دیسی دوا بنی ہے حالانکہ اس کے برعکس ایلوپیتھی طریقہ علاج کیمیاوی ادویات پر مشتمل ہے جو ہر حال میں مضر اثرات کی حامل ہیں جبکہ طب اسلامی اور طب یونانی ایک فطری طریقہ علاج ہے جو صدیوں سے بلکہ حضرت آدم سے ہی رائج ہے اور انسان اس سے فائدہ اٹھارہا ہے جس میں علاج معالجہ کیلئے استعمال ہونے والی قدرتی جڑی بوٹیاں،ان کے بیج،جڑیں،تنے ،پھل اور پھول شامل ہیں جو قدرتی اور فطری طریقہ علاج ہے اور اسی طرح مقامی جڑی بوٹیوں کے ساتھ ساتھ غذائی علاج تجویز کیاجاتا ہے ۔
پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کی تشکیل کے دوران اطبا کی تجاویزکو قطعی نظر اندازکیاگیا انصاف تو یہ تھاکہ تمام طریقہ ہائے علاج کے ماہرین کو مساوی حقوق کے تحت مساوی ممبرا ن پر مشتمل باڈی بنائی جاتی اور ہر طریقہ علاج کے ماہرین اپنی اپنی طبی سائنس کے قواعد وضوابط بناتے جو یقیناًقابل عمل بھی ہوتے اور قابل نفاذ بھی۔اکثر قانونی تب ٹوٹتے ہیں جب ایسی قوانین بنائے جائیں جو کہ قابل عمل نہ ہوں یا ان پر عمل درآمد ناممکن ہوجن میں متعلقہ طبقہ کی ویلفیئرکو مدنظر نہ رکھا گیا ہو اور اس طبقہ کے لوگ اسے بے جا بوجھ سمجھ رہے ہوں ایسا قانو ن نہیں بلکہ ظلم ہے ۔
جس طرح پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن کی باڈی کی تشکیل میں غیر منصفانہ اورمتعصبانہ رویہ رکھا گیا اس طرح کمیشن کی جانب سے عمل درآمد میں بھی متعصبانہ کردار ادا کیا گیا۔ انسداد عطائیت قانون کے تحت کریک ڈاؤن کے دوران پسند ناپسند کی وجہ سے تقریباً60فی صد کوالیفائیڈ اطباء 30فی صد کوالیفائیڈ ہومیو پیتھ جبکہ صرف10فی صد غیر مستنداور غیر تربیت یافتہ عطائی اس کا ہدف بنے ۔اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے طبیب نے اپنے نام کے ساتھ فزیشن لکھا ہوا ہے،مطب کو کلینک لکھا ہوا ہے ،مختلف ہومیو پیتھ اور اطبا کو سٹیتھوسکوپ،بی پی آپریٹس ،تھرما میٹر رکھنے ،جراحیات صغیرہ کے متعلقہ سامان قینچی،چمٹی،کپڑے کی پٹی،کاٹن رول ،لیکوڈڈیٹول ،مختلف مفردات،مختلف ہربل ادویات کمپنیوں کی پیٹنٹ ادویات کی برآمدگی جیسے جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے سیل کرتے ہوئے انسداد عطایت قانون کی خلاف ورزی کے نام پر ایف آئی آرز بھی درج کرائی گئی ہیں ۔کچھ ہومیو کلینکس اور مطب کو ان کے اوقات کے علاوہ بند ہونے پر ،نماز کے اوقات میں کلینک بند ہونے کی صورت میں سیل کر دیا گیا اور نوٹس لگادیا گیا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق آ پ عطائیت کو فروغ دے رہے تھے اور ہماری ریڈنگ پارٹی کو دیکھ کر فرار ہوئے ہیں جبکہ اس دوران جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر رجسٹرڈ اور عطائیوں کو چھوڑ دیا گیاکچھ مطب پر کم از کم معیار کے انڈیکٹر زکو چیک کرنے کے بعد پورا ہونے کی صورت میں صرف ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے علاقہ میں ایک عورت نے ٹیکہ لگانے کا الزام عائد کیا ہے الزام لگا کر سیل کردیا گیا بلکہ اس دوران سیل کا سامان نہ ہونیکی صورت میں ٹیپ لگا کر سیل تصور کروائی گئی اور ایک سادہ کاغذ پر اس الزام کو جرم تصور کرتے ہوئے کیس بنایا گیا ۔وہ اطباء اور ہومیو پیتھ جن کے ساتھ اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے خالصتاً متعصبانہ رویہ روا رکھتے ہوئے سیل کیا گیا اس کی جانب سے ڈی سیل اور فوری سماعت کیلئے درخواستوں کے جمع کروانے کے باوجود ان کے کیسز کی سماعت ہی نہیں کی جارہی عرصہ دراز سے وہ رجسٹرڈ اطبا اور ہومو پیتھ اپنے علاقوں میں عطائی مشہور ہونے کی وجہ سے قانون کی پاسداری کی سزا بھگت رہے ہیں جبکہ عطائی دھڑلے سے اپنی پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں ۔سپریم کورٹ کے انسداد عطائیت احکامات کی آڑ میں صرف اور صرف فن طب کو بدنام اور نشانہ بنایا جارہا ہے ایسا لگتا ہے کہ ہیلتھ کےئر کمیشن کی آڑ میں مختلف ریٹائرڈ شخصیات کو نوازتے ہوئے طب یونانی ،طب اسلامی اور ہومیو پیتھی کو ختم کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔حکومت وقت کو قانون میں مناسب تبدیلی لاتے ہوئے ہیلتھ کئیر کمیشن کو بلاامتیاز تمام طریقہ علاج کے ماہرین کو برابر نمائندگی دیتے ہوئے محکمہ صحت میں ضم کردینا چاہیے یا ہر طریقہ علاج کا علیحدہ شعبہ بنا کر اس کے ماہرین کی رائے کے مطابق اقدامات کرنے کا پابند بنانا چاہیے ۔عرصہ دراز سے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے صرف ٹارگٹ پورا کرنے کی خاطر سیل کئے گئے کلینکس ،مطب کوفوری سماعت کرتے ہوئے ڈی سیل کیا جائے اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کاروائی اور ناجائز تنگ کرنے پر جرمانہ کیا جائے ۔