Buy website traffic cheap


اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں!

اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں!
تحریر : رانا عبدالباقی
گزشتہ دنوں اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اُن کی ہمشیرہ فریال تالپور جو پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صدر کے فرائض بھی سرانجام دے رہی ہیں کو ایف آئی اے کی جانب سے اربوں روپے کی منی لانڈرننگ کیس میں مفرور قرار دئیے جانے کے بعد اعلیٰ عدلیہ نے اُنہیں ایف آئی اے کے سامنے پیش ہو کر شامل تفتیش ہونے کیلئے کہا ہے۔ البتہ فریال تالپور کے عدالت میں پیش ہونے پر اُن کی عبوری ضمانت میں 4 ستمبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔اربوں روپے کی منی لانڈرننگ کیس میں جس کی بازگشت لیگی حکمران سیاسی حلقوں میں 2015 سے سنی جا رہی تھی اور جس پر بظاہر دونوں اہم جماعتوں کے درمیان ڈیل کی سیاست کے حوالے سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے اَبرو کے اشارے پر ایف آئی اے نے کام روک دیا تھا لیکن اِس ڈیل کی سیاست میں ایک سنجیدہ نوعیت کا رخنہ اُس وقت پیدا ہوا جب آصف علی زرداری کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں لیگی حکومت کے خاتمے اور سینٹ میں اپنے پسندیدہ چیئرمین کو منتخب کرائے جانے پر سابق نااہل وزیراعظم کی ناراضگی کو محسوس کرتے ہوئے عباسی حکومت نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف ایف آئی اے کو منی لانڈرننگ کیس کھولنے کا عندئیہ دے دیا تھا جس کے نتیجے میں زرداری صاحب کے خلاف موثر شہادتیں حاصل کرنے کے بعد یہ کیس پھر سے کھول دیا گیا تھا جس کا نوٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی بخوبی لیا لیکن ملک میں عام انتخابات 2018 کا اعلان ہوجانے کے باعث ایف آئی اے کو انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے تک سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں سے روک دیا گیا تھا ۔ بہرحال انتخابات کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے منی لنڈرننگ کیس کے مرکزی ملزمان حسین لوائی اور انور مجید کی گرفتاری کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اُنہوں نے تمام ملزمان کے بارے میں ناقابل تردید شہادتیں حاصل کر لی ہے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔چنانچہ جب آصف علی زرداری سے میڈیا نے اِن خبروں کی تصدیق کیلئے سوال کیا تو جناب زرداری نے مسکراتے ہوئے صرف یہی کہنے پر اکتفا کیا کہ ” اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں” ۔
کیا جناب زرداری کے اِس جواب کو اعترافِ جرم تسلیم کرنے کے مترادف سمجھا جائیگا اِس کے بارے میں ابھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔البتہ میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کیمطابق زرداری صاحب نے این آر او کے حوالے سے پاکستانی سیاست سے آؤٹ نہ کئے جانے کی شرط پر منی لانڈرننگ کے حوالے سے اربوں روپے حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کی بات کی ہے جسے مبینہ طور پر وزیراعظم عمران خان نے مسترد کر دیا ہے۔ بہرحال آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے ابھی تک ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوکر اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہا ہے۔ البتہ یہ اَمر حیران کن ہے کہ میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کیمطابق وزیراعلی سندھ نے بظاہر زرداری صاحب کی ایما پر منی لانڈرننگ کیس کے مرکزی ملزم حسین لوائی وغیرہ کی مدد کرنے کا یقین کرایا ہے۔ کیا وزیراعلی سندھ کے پاس جرائم کے خلاف مجرموں کی مدد کرنے کے قانونی اختیارات موجود ہیں یا اِس نوعیت کے سنجیدہ منی لانڈرننگ جرائم کے قوانین کی موجودگی میں وزراعلی سندھ کا مبینہ بیان اعانت جرم کے زمرے میں آتا ہے، اِس کے بارے میں قانونی ماہرین ہی مناسب تبصرہ کر سکتے ہیں۔ اِس اَمر کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ عدالت کی اجازت کے بغیر زیرسماعت منی لانڈرننگ مقدمے میں ایف آئی اے کے زیر حراست مرکزی ملزمان سے کسی مفرور ملزم کی ملاقات نہیں کرائی جا سکتی ہے۔ صد افسوس کہ مستند میڈیا ذرائع سے آنے والی خبروں کیمطابق بظاہر سندھ حکومت کے اثر و رسوخ کے پس منظر میں عدالت کی اجازت کے بغیر کراچی میں قومی ادارہ برائے امراض قلب میں داخل منی لانڈرننگ کے زیر حراست مرکزی ملزمان حسین لوائی اور انور مجید سے مفرور ملزم آصف علی زدرادی کی ملاقات کرائی گئی ہے جس کا بہرحال مرکزی حکومت نے نوٹس لیا ہے اور ایف آئی اے کے دو افسران کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر آصف علی زرداری منی لانڈرننگ میں ملوث نہیں ہیں تو اُنہیں اِس مقدمے میں ملوث ملزمان سے ملاقات کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟
جناب آصف علی زرداری کی سیاست کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ منفی ہتھکنڈوں اور سیاسی چالاکی سے اپنا کام نکالنے کے ماہر ہیں۔ ماضی قریب میں بلوچستان میں لیگی حکومت کا خاتمہ اُن کی مبینہ ہارس ٹریڈننگ کا شہکار نظر آتا ہے۔ البتہ جائز و ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرنے کا جو سلسلہ اُنہوں نے کراچی میں اپنے والد صاحب کے سینما گھر میں ٹکٹیں فروخت کرنے سے شروع کیا تھا آج اُن کا شمار پاکستان کے دولت مند ترین خاندانوں میں ہوتا ہے۔ بیرونی میڈیا ذرائع کیمطابق اُن کی پراپرٹی دبئی سے لیکر ملائیشیا اور اسپین و برطانیہ اور امریکا تک پھیلی ہوئی ہے۔ زرداری صاحب پاکستان میں بے شمار شوگر ملوں کے مالک ہونے کے علاوہ سینکڑوں اُونٹوں کے بھی مالک ہیں ۔ بلاشبہ زرداری صاحب نے اپنی ساری زندگی ہی ڈیل کی سیاست کرنے میں ہی گزاردی ہے۔ماضی میں وہ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ اُنہیں شریفوں کی طاقت کا اندازہ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اُن کی گردن سے سریا کیسے نکالا جاتا ہے ۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے ؟ بظاہر بلوچستان میں لیگی حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے یہ بات تو زرداری صاحب بہتر انداز سے جانتے ہیں کہ پنجاب میں شریفوں کی کیا طاقت ہے اور سریا کیسے اُن کی گردن سے نکالا جائیگا کیونکہ پنجاب میں اُن کا دعویٰ یقیناًمشکوک ہی رہا ہے جہاں انتخابات 2018 میں پاکستان تحریک انصاف نے شریف حکومت کو اقتدار سے نکال باہر کیا ہے۔ البتہ پاکستانی ہی نہیں بیرونی میڈیا بھی یہی کہتا ہے کہ زرداری صاحب نے تو ساری زندگی ڈیل کرنے میں ہی گزاردی ہے ۔ سوال یہی ہے کہ کیا وہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت سے منی لانڈرننگ مقدمے میں کسی ڈیل تک پہنچ پائیں گے شاید ایسا ہونا ممکن نہ ہو ؟
پاکستان میںآمرانہ مزاج رکھنے والے حکمرانوں کی تاریخ شاہد ہے کہ ماضی میں جمہوری آمریت نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے آئین اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلقہ قوانین کو غیر آئینی طور پر عضوِ معطل بناتے ہوئے ریاستی امور میں پارلیمنٹ اور قومی اداروں کے کردار کو محدود کرنے کیلئے سیاسی ڈیل کے غیر آئینی عمل کو ہی موثر سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جس کے سبب ملک میں مافیائی سیاسی،انتظامی ، اقتصادی اور انتخابی موشگافیوں کے ذریعے ملکی سیاست پر جاگیردار ، سرمایہ دار اور سیاسی طالع آزما ہی مسلط ہو کر رہ گئے تھے جہاں آئین و قانون کی حکمرانی کے بجائے فیصلے زبانی کلامی یا اشاراتی زبان میں ہونے لگے تھے ۔ گو کہ ملک میں آئین و قانون کی رِٹ کی بحالی کیلئے عوام ، عدلیہ ، وکلاء اور سول سوسائیٹی کے دانشور ایک تسلسل سے ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن عمران خان کی تحریک انصاف کی جناح و اقبال کے پاکستان کی بحالی کی بے لوث جدوجہد کے بعد یہ اُمید ہو چلی تھی کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو اوّلیت دیتے ہوئے ریاستی سطح پر غیر آئینی اور غیر قانونی حربوں کے استعمال کی روک تھام کی جائے گی جس کی ابتدا بل آخر 2018 کے انتخابات میں عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ہو چلی ہے۔ چنانچہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرننگ کیس نے زرداری صاحب کے خلاف سوئس کیس اور مبینہ طور پر اسپین، دبئی اور برطانیہ میں قیمتی پراپرٹی اور ہیروں کی جیولری کی خریداری کے حوالے سے متعدد میڈیا تحریروں اور مقتدر بیرونی مصنفین کی تجزیاتی کتابوں میں شائع ہونے والی تحریروں کی افادیت کو ضرور ثابت کر دیا ہے۔(جاری ہے)