Buy website traffic cheap

اڈیالہ جیل

اڈیالہ جیل میں نوازشریف سے ملاقات کا دن، خواجہ آصف نے پہنچتے ہی کیا کہا؟

اڈیالہ جیل میں نوازشریف سے ملاقات کا دن، خواجہ آصف نے پہنچتے ہی کیا کہا؟…….اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے ملاقات کے لئے اہلخانہ سمیت لیگی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔لیگی رہنما خواجہ آصف، سینیٹر چوہدری تنویر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دو دن ملنے نہیں دیا گیا، آج ملاقات کے لیے آیا ہوں، صدر کی نامزدگی اور تحریک کے بارے کوئی بات نہیں کروں گا


یہ خبر بھی پڑھیئے

ڈائریکٹوریٹ جنرل آئی آئی ان لینڈ ریونیو قانونی تحفظ کے باوجود فعال نہ ہوسکا
فنانس ایکٹ2018کے ذریعے قانونی تحفظ کیلیے مسودہ تیارہے،وزیرخزانہ کی منظوری کے بعدنوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا
اسلام آباد////وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2018۔19 کے وفاقی بجٹ میں ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کے قیام اور اس کے اختیارات و کیے جانے والے اقدامات کوقانونی تحفظ دینے کے باوجود عمل درآمد کے لیے تاحال نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا کہنا ہے کہ فنانس ایکٹ 2018 کے ذریعے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انٹیلی جننس ان لینڈ ریونیو کے قیام اور اس کے اختیارات و کیے جانے والے اقدامات کو دیے جانے والے قانونی تحفظ پر عمل درآمد کے لیے نوٹیفکیشن کا مسودہ تیار ہے۔ اب چونکہ نئی حکومت قائم ہوچکی ہے لہٰذا توقع ہے کہ وزیر خزانہ کی منظوری کے بعد جلد نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا اور نوٹیفکیشن کے جاری ہوتے ہی نہ صرف عدالت کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انٹیلی جننس ان لینڈ ریونیو مکمل طور پر فعال اور پریشنل ہوجائے گا بلکہ اس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات پر بھی عمل درآمد ہوگا اور جو اقدامات عدالت کی جانب سے غیر قانونی قرار دیے گئے تھے وہ بھی بحال ہوجائیں گے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسر نے گزشتہ روز ’’میڈیا‘‘ کو بتایا کہ ایف بی آر نے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ان لینڈ ریونیو میں شمار کیے جانے کے بعد ٹیکس چوری کے کیسوں سے نمٹنے کے لیے اور ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو قائم کیا گیا تھا۔اس ادارے نے ملک بھر میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری کے کیس پکڑے جبکہ بہت سے اداروں اور لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا مگر ہائیکورٹ کی جانب سے نہ صرف ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انٹیلی جننس ان لینڈ ریونیو کے قیام کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا بلکہ اس ڈائریکٹوریٹ اور اس کے افسران و عملے کو حاصل اختیارات کے ساتھ ساتھ کیے جانے والے تمام اقدامات و کارروائیوں کو بھی غیر قانونی قراردیے یا گیا تھا اور عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس ادارے کو سیلز ٹیکس میں ایکشن لینے کے اختیارات حاصل نہیں ہے۔سیلز ٹیکس بارے ادارے اور ادارے کے افسران و عملے نے جتنی کارروائیاں کی ہیں وہ سب غیر قانونی ہیں جس سے ادارہ مکمل طور پر غیر فعال ہوگیا تھا جس کے باعث اب ایف بی آر نے فنانس ایکٹ 2018 کے ذریعے پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرکے قانونی تحفظ دلوایا گیا ہے جس کے لیے رواں مالی سال 2018۔19 کے وفاقی بجٹ میں شامل فنانس ایکٹ 2018 کے ذریعے سیلز ٹیکس ایکٹ1990میں ترمیم کی گئی ہے جس میں کہا گیاہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو ایک ڈائریکٹر جنرل اور متعدد ڈائریکٹرز، ایڈیشنل ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز، اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز سمیت دیگر ان افسران پر مشتمل ہوگا جنہیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے تعینات کرے گا۔اس ترمیم میں مزید کہا گیا ہے ایف بی آرسرکاری گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیواور اس کے افسران کے حدود اور فنکشنزکا بھی تعین کرے گا جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو اور اس کے افسران سیلز ٹیکس 1990 کی شق 30 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ گزٹ نوٹیفکیشن جلد جاری کردیا جائے گا جس کے بعد یہ ادارہ اور اس ادارے کے افسران کے اختیارات بحال ہوجائیں گے اور یہ ادارہ مکمل طور پر آپریشنل ہوجائے گا۔