Buy website traffic cheap

پارلیمانی

اگلا صدر ِمملکت کون؟

شہباز سعید
پاکستان کے موجودہ صدرمملکت ممنون حسین کی مدت صدارت 8 ستمبر 2018 ءکو ختم ہوجائے گی۔ جبکہ ملک کے 13 ویں صدر کے لیے انتخاب آئندہ ماہ 4 ستمبر کو ہوگا۔جس طرح اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر اوروزیراعظم کا انتخاب پارلیمنٹ میں عمل پذیر ہوا ، اسی طرح صدر کے انتخاب کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے نامزد امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے ڈاکٹر عارف علوی صدر کے امیدوار ہیں جبکہ دو بڑی اپوزیشن جماعتوں میں رسہ کشی کا آج ڈراپ سین ہوجائے گا۔ہفتے کے روزمسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والی ک±ل جماعتی کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، پختونخواہ میپ، نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی اور پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی رہنما شریک ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) نے اجلاس میں صدارتی انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار اعتزاز احسن کی جگہ متفقہ امیدوار لانے پر زور دیاتھا۔ تاہم پیپلزپارٹی اپنے امیدوار اعتزاز احسن کے نام پر ڈٹی رہی اور اسے (ن) لیگ سمیت دیگر جماعتوں کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔مشترکہ صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ایک پینل تشکیل دیا گیا جس میں ایک رکن پیپلز پارٹی، ایک مسلم لیگ (ن) اور ایک تیسری اپوزیشن جماعت سے تھا، پینل نے صدارتی امیدوار کے لیے تین افراد کا انتخاب کرنا تھا، تینوں امیدواروں میں سے ایک کا حتمی انتخاب اپوزیشن جماعتوں نے کیا۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی نے سینیٹر پرویز رشید کے اعتزاز احسن کے نوازشریف سے جیل جاکر معافی مانگنے کے بیان پر تحفظات کا اظہاربھی کیا گیاجس پر مسلم لیگ (ن) نے وضاحت کی کہ پرویز رشید کا بیان ذاتی ہے، یہ بیان پارٹی پالیسی نہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ صدارتی امیدوار کی متفقہ نامزدگی پاکستان الائنس کے ذریعے کی جائے گی اور اگر پیپلز پارٹی نے اتفاق نہ کیا تو (ن) لیگ کے عبدالقادر بلوچ صدارتی امیدوار ہوں گے۔ اگرمتفقہ فیصلہ نہ ہوا تو جماعت اسلامی اور جے یو آئی( ف) اپنی اپنی عاملہ و شوری میں فیصلہ کریگی کہ کس امیدوار کو سپورٹ کیا جائے،جماعت اسلامی اسپیکر و وزیر اعظم کے انتخاب کی طرح غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے،تاہم اپوزیشن اختلافات نو منتخب حکومت کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ہیں، اپوزیشن کی مزید تقسیم سے حکومت مزید مستحکم ہوگی اور اپنی پالیسیوں پر چلنے میں کامیاب رہے گی۔یاد رہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 4 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔اور اسی روز صبح دس بجے صدر کا انتخاب بھی ہوگا،صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات (آج) 27 اگست تک جمع کروائے جا سکیں گے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 29 اگست کو ہوگی۔الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی سے متعلق 30 اگست کو حتمی فہرست جاری ہوگی۔
صدارتی انتخاب کی بات کی جائے توتحریک انصاف قومی اسمبلی اور دو صوبوں میں اکثریت رکھتی ہے جبکہ بلوچستان میں پی ٹی آئی مخلوط حکومت میں شامل ہے اور سینیٹ میں بھی اسے اتحادیوں کا تعاون حاصل رہے گا۔دوسری جانب اپوزیشن اتحاد ابھی تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظرآرہا ہے۔تاہم اگر پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مرکزی اپوزیشن متحد رہی توصدارتی انتخاب میں اس کا مشترکہ امیدوارمیدان مار سکتا ہے۔صدارتی انتخاب کے حوالے سے اعدادوشمارکا کھیل تاحال جاری ہے۔کہا جارہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) پارلیمنٹ سے باہر رہ جانے والے اپنے قومی رہنماو¿ں میں سے صدارتی امیدوار نامزد کرسکتی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوارکو صدارتی انتخاب میں قومی اسمبلی 176،سینیٹ سے 20،پنجاب اسمبلی سے 34،سندھ اسمبلی 27،خیبرپختونخوا سے 45اور بلوچستان اسمبلی سے 35ووٹ ملنے کا امکان ہے۔فی الوقت ان تمام سے متحدہ حزب اختلاف کے چھ سے اٹھ ووٹ زیادہ ہیں۔ یکجا رہنے کی صورت میں اپوزیشن صدارتی انتخاب میں حیران کن نتائج دے سکتی ہے۔ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کو سینیٹ سے 70قومی اسمبلی سے 151ووٹ ملنے کا امکان ہے۔صدارتی انتخاب میں اپوزیشن کے ارکان کی غیر معمولی تعداد کے پیش نظر بڑی اپوزیشن جماعتوں نے تمام چھ الیکٹرول کالج کی تفصیلات حاصل کرلیںہیں۔
دوسری جانب دونوں بڑی جماعتوں میں جلد چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے بھی مذاکرات متوقع ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کے مشترکہ دوست گرم ہوچکے ہیں اور متذکرہ عہدوں پر ہم آہنگی کیلئے کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ صدارتی انتخاب میں کامیابی کیلئے اپوزیشن اتحادکو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جو فی الحال تو دکھائی نہیں دے رہی۔ موجوداعدادوشمار کے مطابق پارلیمینٹ میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 221نئی حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادی ارکان پارلیمینٹ کی تعداد 208ہے ۔سندھ اسمبلی میں بھی مرکزی اپوزیشن جماعت کوبرتری حاصل ہے ،پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مضبوط اپوزیشن نے صدارتی انتخاب میں ممکنہ طورپر اثراندازہونے والوں کو فکرمندضرور کیا ہے۔
ایوان بالا میں پارٹی پوزیشنیں کچھ اس طرح ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن 33پاکستان پیپلز پارٹی 20جبکہ نیشنل پارٹی کے 5 جے یو آئی (ف) کے 4 پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹرز کی تعداد 3 اسی طرح جماعت اسلامی کے 2سینیٹرزہیں اے این پی کا بھی ایک رکن سینیٹ میں ہے اس طرح اپوزیشن جماعتوں کے ارکان سینیٹ کی تعداد تقریباً 70جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین سینیٹ کی تعداد 12ایم کیو ایم 5آزاد13مسلم لیگ فنکشنل 1اور بی این پی مینگل کا بھی ایک رکن ہے ان ارکان کی تعداد 33ہے۔اس طرح قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد 175ہے۔ متحدہ حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد 151ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پارلیمانی جماعتوں کی پوزیشن کی تفصیلات جاری کر دیں ، 12جماعتوں کو قومی اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہے،4ارکان نے کسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ ویب سائٹ پر دستیاب اس ڈیٹا کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 151پاکستان مسلم لیگ ن 81اور پاکستان پیپلز پارٹی کی نشستیں 54ہیں چوتھی بڑی جماعت متحدہ مجلس عمل کی 15نشستیں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی 7،بلوچستان عوامی پارٹی کی 5، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی 4مسلم لیگ ق اور جی ڈی اے کی 3-3 ہیں اسی طرح عوامی مسلم لیگ ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک ایک نشستیں ہیں قومی اسمبلی میں چار آزاد ارکان بھی ہیں۔مجموعی طورپر قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد 175ہے۔ متحدہ حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد 151ہے پارلیمینٹ میں دونوں ایوانوں کے ارکان کی تعداد کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اپوزیشن ارکان کی تعداد 221نئی حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادی ارکان پارلیمینٹ کی تعداد 208ہے ۔متحدہ حزب اختلاف پارلیمینٹ میں متحد رہتی ہے تو یہاں صدارتی انتخاب میں اسے واضح کامیابی مل سکتی ہے۔ صدر کے انتخاب میں نتیجے کا اعلان صوبائی اسمبلیوں کے ووٹوں کے اعداد و شمار کے بعد کیا جاتا ہے، سندھ اسمبلی میں مرکزی اپوزیشن جماعت کو برتری حاصل ہے، پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے ووٹوں میں زیادہ فرق نہیں ہے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے بلوچستان اسمبلی میں بھی اپوزیشن کی مرکزی جماعت متحدہ مجلس عمل کی نمایاں پوزیشن ہے۔
صدارتی انتخاب کے شیڈول کے مطابق صدر کا انتخاب 4 ستمبر کو ہوگا۔صدارتی انتخاب کے لیے 5 پولنگ اسٹیشنز بنا دیے گئے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کی عمارت کو پولنگ اسٹیشن کا درجہ دیا جائے گا۔الیکشن کمیشن نے اسلام آباد اور چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس کو پریزائیڈنگ افسران مقرر کیا ہے۔صدارتی انتخاب کے لیے پریزائیڈنگ افسران اور عملے کی تقرری بھی کردی گئی جبکہ عملے اور پریزائیڈنگ افسران کو انتخاب کا طریقہ کار بتا دیا گیا۔صدارتی انتخاب کے لیے ایک ہزار کے قریب بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔

صدارتی انتخاب کا طریقہ کار

مملکت خدادا میں صدارتی انتخاب کا الیکٹورل کالج پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل 11 سو 70 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے لیکن ان میں سے ہر رکن کا ایک ووٹ شمار نہیں کیا جاتا۔آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے سب سے چھوٹی اسمبلی یعنی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی مناسبت سے ہر صوبائی اسمبلی کے پینسٹھ ووٹ شمار ہوتے ہیں جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ گنا جائے گا۔اس طرح مجموعی ووٹوں کی تعداد 702 بنتی ہے۔ ان میں سے اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار ملک کا صدر منتخب ہو گا۔نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی۔اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاو¿س میں پریزائیڈنگ افسر چیف الیکشن کمشنر جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے پریزائیڈنگ افسران متعلقہ صوبے کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز ہوں گے۔آئین میں درج طریقے کے مطابق پریزائڈنگ افسر ہر رکن کو اس کی متعلقہ اسمبلی ہال کے اندر ایک بیلٹ پیپر فراہم کرے گا جس میں صدارتی امیدواروں کے نام چھپے ہوں گے۔ہر رکن خفیہ طریقے سے اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے سامنے نشان لگا کر اس کے حق میں اپنا ووٹ دے گا۔ یہ بیلٹ پیپر پریزائڈنگ افسر کے سامنے پڑے ہوئے بیلٹ بکس میں ڈالا جائے گا۔
پولنگ کا مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد ہر پریزائڈنگ افسر انتخاب لڑنے والے امیدواروں یا ان کے نمائندوں کے سامنے بیلٹ بکس کھولے گا اور اس میں موجود ووٹ ان افراد کے سامنے گنے جائیں گے۔ووٹوں کی اس گنتی سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر چاروں صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد انہیں اکٹھا کریں گے اور زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے کو منتخب قرار دیں گے۔اگر دو یا زیادہ امیدوار ایک جتنے ووٹ حاصل کریں تو فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے ہوگا۔چیف الیکشن کمشنر گنتی مکمل ہونے کے بعد منتخب امیدوار کے نام کا اسی وقت قومی اسمبلی میں اعلان کریں گے اور اس سے وفاقی حکومت کو بھی آگاہ کریں گے جو ان نتائج کا سرکاری اعلان کرے گی۔نو منتخب صدر سے ملک کے چیف جسٹس آئین میں درج حلف لیں گے۔

متحدہ اپوزیشن اور حکومتی اتحاد کی پوزیشن
متحدہ اپوزیشن کے مابین دراڑیں پڑنے کے بعد 4 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں بھی تحریک انصاف کے نامزد امیدوار کی باآسانی کامیابی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔قومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں تحریک انصاف کے امیدوار کو ممکنہ طور پر337 ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے جبکہ اس کے مقابلے میں اپوزیشن کے متوقع امیدوار206 ووٹ حاصل کرسکتے ہیں۔اس کے برعکس اگر متحدہ اپوزیشن ایک ہوجائے اور پیپلز پارٹی بھی اپنا ووٹ اپوزیشن اتحاد کے امیدوار کے پلڑے میں ڈال دے تو پھر صورتحال مختلف ہوسکتی ہے جس میں اپوزیشن کے کل ووٹ321 تک پہنچ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے صدارتی امیدوارکو قومی اسمبلی سے176، سینٹ سے20، پنجاب اسمبلی سے 34، سندھ اسمبلی سے27، خیبر پختونخوا اسمبلی سے45 اور بلوچستان اسمبلی سے35 ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اپوزیشن کے متوقع امیدوار کو قومی اسمبلی سے 96، سینٹ سے49، بلوچستان اسمبلی 16 اور خیبر پختونخوا اسمبلی سے15 ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ اگر اپوزیشن کے امیدوار کو پیپلز پارٹی بھی ووٹ دے تو ووٹوں کا گراف مزید بڑھ سکتا ہے۔