Buy website traffic cheap

امت کی وحدانیت

ایک اور قومی ہیروہم سے جدا ہوگیا!

ایک اور قومی ہیروہم سے جدا ہوگیا!
آہستہ آہستہ
آصف ظہوری
’’ایک دو تین چارپانچ‘‘ یہ کسی انڈین گانے کے بول نہیں بلکہ سرگودھا کی فضا میں پاک فضائیہ کا ایک ہوا باز دوران پرواز یہ گنتی گن رہا تھا۔ زمیں پر کنٹرولر نے اس سے وائرلیس سے پوچھا ’’کیا تم کوئی گانا گنگنا رہے ہو؟ ہواباز نے کہا’’ نہیں، میں بھارتی ہنٹر کو گن رہاہوں‘‘ کنٹرولر نے کہا ’’کیا ہنٹر سے مراد کوئی پرندے ہیں‘‘؟ ہواباز نے کہا میرے لئے یہ پرندوں کی مانند ہیں، بھارتی پرندے پاکستان شاہینوں کا من پسند شکار۔ گنتی گننے والا یہ ہواباز کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کا عظیم ہیرو محمد محمود عالم تھا جس نے 7 ستمبر1965 کو پاک بھارت جنگ میں سرگودھا محاز پر 5 بھارتی ہنٹر طیاروں کوا یک منٹ کے اندر اندر گرا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا، ان میں سے طیارے صرف 30 سیکنڈ میں گرائے گئے۔ اس کارنامے نے ایم ایم عالم کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، ان کا شمار پاکستان کے ہیروز میں ہونے لگااور انہیں لٹل ڈریگن اور ٹاپ گن کا خطاب ملا۔ ایم ایم عالم کے بقول قلیل وقت میں 5 جہاز گرانا ایک معجزہ تھا اور اللہ نے میرے جذبے کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ موقع دیا۔ ایم ایم عالم ایک ایسے مایہ ناز مجاہد تھے جنہوں نے فضائیہ کی تاریخ میں شجاعت کی لازوال مثال قائم کی۔ وہ 6 جولائی 1935 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے وقت انہوں نے اپنے خاندان کے ہمراہ مشرقی پاکستان ہجرت کی۔ 1952 ء میں ایم ایم عالم نے پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی۔ اور 1965 کی جنگ میں اسکواڈرن لیڈر کی حیثیت سے کارنامہ انجام دیکر اپنا شمار پاکستان کی عسکری تاریخ میں یادگار کرداروں میں کرالیا۔ ایم ایم عالم نے پی اے ایف میں ائیر کموڈر کے عہدے تک ترقی پائی۔ پاکستان ائیر فورس ان کی زندگی اور ہوابازی ان کا جنون تھا لیکن ایک بہترین ریکارڈ رکھنے اور خواہش کے باوجود انہیں 1971 ء کی پاک بھارت جنگ میں پرواز نہیں کرنے دی گئی۔ یہ بات بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے کہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمٰن نے ایم ایم عالم کو بنگلہ دیش ائیر فورس کے چیف کا عہدہ سنبھالنے کی پیشکش کی تھی جسے ایم ایم عالم نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ ’’میں بنگلہ دیش فضائیہ کا کمانڈر انچیف بننے کی بجائے پاک فوج میں ایک ادنیٰ عہدہ رکھنے پر فخر محسوس کرتا ہوں‘‘۔ایم ایم عالم نے اپنی زندگی میں کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہ وجہ ہے کہ اس وقت کے پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف سے ان کے کچھ اختلافات منظر عام پر آئے جو اس وقت بڑھ گئے جب ایم ایم عالم نے صدر ضیاء الحق کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ایک خط تحریر کیا جس کے بعد 1980 میں انہیں ائیر کموڈرکے عہدے سے جبراً ریٹائرکردیا گیا اور اس طرح پاکستان ائیر فورس کا ایک تابناک افسر اپنے اعلٰی افسروں کی انا کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اپنی تضحیک آمیز ریٹائرمنٹ سے ایم ایم عالم اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کی پنشن لینے سے بھی انکار کر دیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی آمدنی نہ ہونے کے باعث ایم ایم عالم نے نہایت کسمپرسی کی زندگی گزاری مگر آخر تک پنشن نہ لینے کے فیصلے پر قائم رہے۔ ایم ایم عالم کی جرأت و بہادری صرف ائیر فورس تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے افغانستان سے روسی تسلط کے خاتمے کیلئے افغان مجاہدین کو تربیت دینے اور روسی فوج کے خلاف قدھاراور جال آباد کے جنگی معرکوں میں بھی حصہ لیا۔ ایم ایم عالم کے ایک قریبی ساتھی ائیر مارشل (ر)ایاز احمد خان کا کہنا ہے ایک روز آدھی رات کو ان کے اسلام آباد کے گھر میں کسی شخص نے دستک دی۔ انہوں نے جب دروازہ کھولا تو دروازے پر ایک شخص کو میلے کپڑوں میں کھڑا پایا جس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور اس نے پختون ٹوپی پہن رکھی تھی۔دروازے پر کھڑے شخص نے مجھ سے کہا کہ شاید آپ نے مجھے پہچانا نہیں میں ایم ایم عالم ہوں اور 2دن سے بھوکا ہوں۔ ایاز احمد کے بقول انہوں نے جب اسے اندر بلا کر کھانا پیش کیا تو وہ جس طرح سے کھانا کھا رہا تھا ایسا لگتا تھا کہ کہ وہ کئی دنوں کا بھوکا تھا جس کے بعد ایم ایم عالم کا مجھے کچھ پتہ نہ چلا مگر خبریں آتی رہیں کہ وہ مجاہدین کے ساتھ افغان جہا د میں شریک ہیں۔قومی مشاہیر کے احسانوں کا بدلہ اتانے میں ہمارا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرح ایم ایم عالم بھی ان بدقسمت ہیروز میں شامل ہیں۔ جنہیں اعلیٰ حکومتی عہدے پر فائز کرنے کی بجائے نہ صرف جبراً ریٹائرکردیا گیا بلکہ ان کے کارناموں کو بھی بھلا دیاگیا۔ ایم ایم عالم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بڑی کسمپرسی اور فاقوں کی حالت میں گزارے۔ 5 بھارتی جنگی طیاروں کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں گرانے کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے ’’ٹاپ گن‘‘ کو کیرئیر کے عروج میں پاکستان بھر سے سیکڑوں لڑکیوں کے خطوط موصول ہوئے جس میں وہ اس نوجوان پائلٹ سے شادی کی خواہشمند تھیں مگر ایم ایم عالم نے اپنی پوری زندگی قوم کیلئے وقف کردی تھی اس لیے وہ آخر تک غیر شادی شدہ رہے۔ حکومت نے بھی ملک کے اس عظیم ہیرو کو ’’ستارہ جرأت‘‘ سے نوازکر لاہور کی ایک شاہراہ کو ’’ ایم ایم عالم روڈ‘‘ کے نام سے منسوب کردیا۔