Buy website traffic cheap

سنگین مسائل

ایک ماہر قانون سے خصوصی ملاقات

ایک ماہر قانون سے خصوصی ملاقات
انقلاب
مقصود انجم کمبوہ
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں تغیر و تبدیلی کا عمل جاری و ساری ہے مسئلہ یہ ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کی کیفیت کیا ہے ظاہر ہے سب کا احوال یکساں نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتا ایک طرف افریقہ کے بعض ممالک ابھی تک غربت کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں تو لاطینی امریکہ کے بعض ملکوں نے وہاں کی حکومتوں کی جرأ ت مندانہ اصلاحات اور کوششوں کی وجہ سے ترقی و خوشحالی کی راہ پر سفر شروع کر رکھا ہے مشرقی ایشیا کے کئی ممالک اپنا معیار زندگی بہتر بنانے کی کوششوں میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کر رہے ہیں ان ملکوں میں اس حقیقت کا احساس بڑھتا جارہا ہے کہ حقیقی ترقی کے لئے بہتر انتظامی منصوبہ بندی کا حامل سرکاری شعبہ اور فعال و متحرک نجی شعبہ دونوں یکساں ضروری ہیں علاوہ ازیں دیانتدار اور عملی طور پر مر بوط سیاسی قیادت ایسے عوامل تیر رفتار ترقی کے لئے طاقتور محرک ثابت ہوں گے مگر ابھی کئی سنگین مسائل و مشکلات کا سامنا ہے نئی سیاسی قیادت میں کمزور سوچ و سمجھ کے لوگ ہیں جو عقل سے بہت کم کام لیتے نظر آرہے ہیں بعض ملکوں میں لوگوں کو اصلاحات کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا ہے اور ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی نظر آرہا ہے اور کئی ممالک میں اصلاحات اور تبدیلی کے عمل کے خلاف مزاحمت در پیش ہے ہمارے ہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے جن پر فوری قابو پانا آسان نہیں ہے اذیت ناک غربت اور ماحول کی آلودگی کا سلسلہ عام طام ہے ترقی پذیر ملکوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کے لئے عموماً سنجیدہ ترجیحات ہونی چاہئیں اس معاملے میں اوّ لین ترجیح ایسی اقتصادی پالیسی کو دی جانی چاہئیے جس میں عوام کو اوّلیت دی گئی ہو کیونکہ ترقی پذیر ملکوں کی سب سے بڑی دولت اور وسیلہ ان کے عوام ہیں وزیر اعظم عمران خاں کو نا بالغ تو نہیں کہوں گا مگر ابھی حکومتی معاملات کو چلانے میں بچے ہیں اور ان کے پاس کام کرنے والے زیادہ تر نا تجربہ کار اور جذباتی کیفیت کے مالک ہیں اگر ان افراد نے عقل و دانش سے کام نہ لیا تو معاملہ گڑ بڑ ہو سکتا ہے سیاسی عاملین کا کہنا ہے کہ خاں کی حکومت چار ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی جبکہ ایسے لوگوں کو جو اس داؤ میں ہیں کہ چار ماہ میں اس کو گھر بھیج دیں گے سخت غلطی پر ہیں اب سیاسی لوگوں کو صبر سے کام لینا ہوگا اب غلطی کی کوئی گنجائش نہ ہے سماجی شعبے میں سرمایہ کاری سے اچھی ترقیاتی اقتصادی حکمت عملی میں بہت مدد ملتی ہے اس ضمن میں ایک اور پہلو یہ ہے کہ ترقیاتی پالیسیوں اور ان پر عملدر آمد کے سماجی اثرات کا معروضی انداز میں تجزیہ کیا جائے ان الفاظ کا اظہار ماہر قانون طارق یعقوب چوہدری نے گذشتہ روز ایک خصوصی ملاقات میں کیا وہ ایک منجھے ہوئے ذہین قانون دان ہیں ان سے اکثر و بیشتر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے وہ سیاست اور صحافت میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاستدان ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہمارے ازلی دشمن بھی نہیں کرتے پھر انکو محب الوطنی کی سند کیسے دی جا سکتی ہے ہمارا ملک روز بروز غربت کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے ہمارے سیاسی ، صحافتی اور انتظامی لوگ لُوٹ مار کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں اانہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ممکن ہے جب ہمارے حکمران اپنے ہی ملک میں سرمایہ کاری کریں جبکہ یہ لوگ ملک سے سرمایہ نکال کر باہر لے جارہے ہیں انہوں نے کہا نجی شعبہ سے سرمایہ نکالنے کی بجائے اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کی پالیسی پر عملدر آمد کر نا چاہئیے اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لئے اس میں بتدریج کمی کا عمل بر قرار رکھنا ضروری ہے مالیاتی شعبے میں اصلاح کو اوّلیت دی جانی چاہئیے گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خاں نے جو تار کینِ وطن سے اپیل کی ہے کہ ملک کو قحط سالی سے بچانے کے لئے ڈیم بنانا ضروری ہے جس کے لئے ایک خطیر رقم درکار ہے لہٰذا وہ اپنے ملک میں ڈیم کی تعمیر کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈ ز بھیجیں۔چوہدری طارق یعقوب نے کہا کہ اسٹریٹ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پولیس کا ناقص ، کرپٹ اور عوام کے ساتھ جابرانہ روئیہ ہے۔ انہوں نے کہا جرائم کی شرح کم کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ پولیس کے نظام کو تبدیل کیا جائے سزائیں سخت کی جائیں اور پولیس گردی میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے ۔ انہوں نے کہا افسوس صد افسوس کہ پولیس اور انتظامیہ کے ایک معمولی اہلکار کی تعیناتی علاقہ ایم پی اے اور ایم این اے کی خواہش کے بغیر نہیں ہوتی جس کی وجہ سے پولیس میں بگاڑ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے غریب آدمی کو مسائل کا سامنا رہتا ہے ۔ شریف آدمی کو پولیس اسٹیشن یا چوکی میں اپنا مدعا بیان کرنے میں دشواری پیش آتی ہے خوف اور ڈر اس کے اعصاب پر مسلط ہوتا ہے ۔