Buy website traffic cheap

خیبر پختونخوا

باپ کی جاگیر تھی جو چاہا بانٹ دیا، پرویز مشرف کون ہوتا ہے،چیف جسٹس برس پڑئے

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف شب خون مارنے والا ڈکٹیٹر تھا۔ سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کو غیرقانونی طور پر اراضی لیز پر دینے اور کلب میں شادی ہال کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کی اجازت کس نے دی۔ کلب کے وکیل نے بتایا کہ اس وقت کے ایڈمنسٹریٹر پرویز مشرف تھے اور انہوں نے ہی تعمیرات کی اجازت دی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کو تو کھوکھا الاٹ کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی، کیا کسی باپ کی جاگیر تھی جو چاہا بانٹ دیا، پرویز مشرف کون ہوتا ہے غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دینے والا، مشرف تو شب خون مارنے والا اور ڈکٹیٹر تھا،

———————————-
یہ خبر پڑھیئے

،چکوال، انتخابی ضابطہ اخلاق پر ہر صورت عمل درآمد کروایا جائے گا،ڈپٹی کمشنر غلام صغیر شاہد
چکوال (آئی آئی پی)ڈپٹی کمشنر چکوال غلام صغیر شاہد نے کہا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق (کوڈ آف کنڈکٹ) پر ہر صورت عمل درآمد کروایا جائے گا ۔تمام امیدواران الیکشن کمیشن کے منظور شدہ سائز پر اپنے بینرز،پوسٹرز،پمفلٹس،لیفلیٹس اور پوٹریٹس بنوائیں اور مقررہ سائز سے زیادہ لگوائے گئے بینرز،پوسٹرز،لیفلیٹس کو فوری طور پر ہٹوائیں۔ان خیالات کا اظہار آج انہوں نے ڈی سی کمپلیکس کے کمیٹی روم میں ڈی پی او چکوال عادل میمن اور الیکشن ۲۰۱۸ء کے امیدواران سے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ کوڈ آف کنڈکٹ پر عملدرآمد کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا ۔اجلاس میں میجر طاہر اقبال ،سردار ذوالفقار علی دلہ ،حیدر سلطان،چودھری یاسر سرفراز،سردار محمد فیض ٹمن،ڈاکٹر حمید اللہ ،دیگر امید وار اور انکے نمائندوں کے علاوہ دیگر ضلعی افسران شریک تھے ۔انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جائے اور تمام امیدواران اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں کسی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مزید براں انہوں نے بتایاکہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق تمام امید واران ہر قسم کے تشہیری مواد کے آخر میں پرنٹر کا نام اور پتہ درج کریں۔ان پر قرآنی آیات لکھنے سے گریز کیا جائے تاکہ بے ادبی نہ ہو۔تمام امید واران پر ہورڈنگز،بل بورڈ،پینا فلیکس اور وال چاکنگ پر سخت پابندی ہوگی۔عوامی جلسے ،جلو س اور ریلیزمقررہ مقامات پر منعقد کی جائیں اوربڑے جلسوں کے لیئے کم از کم تین دن پہلے ڈی سی اور ڈی پی او سے اجازت لینا ضروری ہوگا تاکہ ان کو سیکیورٹی مہیا کی جا سکے ۔کسی سیاسی جماعت پر پتلے جلانے پر سخت پابندی ہوگی۔ کار ریلیز پر پابندی ہے لیکن کارنر میٹنگز میں ساؤنڈ سسٹم استعمال کر سکتے ہیں۔ ان دنوں تمام امیدواروں پر کسی قسم کے افتتاح پر پابندی ہوگی۔تقریر کریں لیکن خیال رہے کہ تقاریر میں کسی کی ذات کو نشانہ نہ بنایا جائے صرف پارٹی کے منشور پر بات کی جائے ۔کسی قسم کے نفرت آمیزیا مذہبی،لسانی یا فرقہ واریت پر مبنی بات نہ کی جائے جس سے نقص امن کا خطرہ ہو۔اسلحے اور ہوائی فائرنگ پر سخت پابندی ہے ۔تمام امید واران اپنی حفاظت کے لیئے دو عدد لائسنس ہولڈر گن مین رکھ سکتے ہیں۔تمام پارٹیاں الیکشن ڈے سے 48گھنٹے پہلے اپنی کیمپین بند کردیں گی ۔تمام امیدوار پولنگ کیمپ دیہاتوں میں ،پولنگ سٹیشن سے 400میٹر اور شہری آبادی میں100میٹردور بنائیں گے ۔تمام امیدواروں کو صرف اپنے اہل خانہ کو ہی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کی اجازت ہوگی۔ڈی پی اوعادل میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن نے پینا فلیکس کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی ہے ۔لہذہ اس پر سختی سے عمل کیا جائے ۔انہوں نے بتایا کی الیکشن ۲۰۱۸ء پہلے الیکشن سے مختلف ہونگے اور یہ الیکشن پولیس اور فوج کی نگرانی میں منعقد ہونگے۔تمام امیدواران انہیں اپنے رضاکاران کی لسٹ مہیا کریں تاکہ انکو گائیڈ کیا جا سکے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اپنے پولنگ کیمپ ایک دوسرے سے فاصلے پر بنائیں تاکہ سیاسی گروپ آپس میں متصادم نہ ہوسکیں۔مزید براں انہوں نے کہا کہ ریزلٹ ڈے پر بھی ہوائی فائرنگ نہ کی جائی تاکہ کسی کا نقصان نہ ہو