Buy website traffic cheap

بجلی

بجلی کی قیمت میں اضافہ عوام پر اضافی بوجھ ہے

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ تقریبا 2 روپے بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے تحت پاور ڈسٹربیوشن کمپنیاں (ڈسکوز) صارفین سے اضافی 200 ارب وصول کر سکیں گی۔تحریک انصاف نے انتخابی مہم کے دوران کڑے احتساب کے ساتھ عوام کو ہر شعبہ میں ریلیف دینے کے وعدے کئے۔ عوام نے اسی تناظر میں پی ٹی آئی پر اعتماد کیا۔ حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے پر عزم نظر آتی ہے۔ باشعور عوام کو حکومتی مشکلات کا ادراک ہے۔ انہیں علم ہے کہ مسائل چٹکی بجاتے ہی حل نہیں ہوںگے۔ وہ اپنے مسائل کے حل اور مشکلات سے نجات کے لئے انتظار تو کر سکتے ہیں مگر مشکلات میں اضافے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ حکومت کی طرف سے گیس اورکھاد کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا تو عام آدمی کا ہیجان میں مبتلا ہونا فطری امر تھا۔ حکومت کے اس فیصلے پر عمومی ناپسندیدگی دیکھنے میں آئی جس پر مخالفین کو بغلیں بجانے کا موقع مل گیا۔ حکومت کو عوامی جذبات کا بروقت احساس ہوا تو اس نے کھاد پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا۔ اب بجلی کی قیمت میں اضافہ عوام کو اشتعال دلانے والا اقدام ہے۔گیس یا بجلی کی قیمت میں جب بھی اضافہ ہوگا سخت عوامی رد عمل سامنے آ سکتا ہے لہٰذاحکومت گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ یکسر منسوخ کردے۔جبکہ بجلی کی قیمت میں ناروا اضافہ فوری طور پر واپس لے۔