Buy website traffic cheap

بشریٰ بی بی

بشریٰ بی بی ، عمران خان اور پاکستان

بشریٰ بی بی ، عمران خان اور پاکستان
تحریر : رانا عبدالباقی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ” نبی کریم حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ جسے اللہ تبارک تعلیٰ نے نیک عورت سے نواز دیا ، گویا کہ اللہ نے اُسے آدھے دین سے مدد کردی چنانچہ اُسے چاہیے کہ باقی نصف دین کے بارے میں خوف خدا اختیار کرتا رہے یعنی باقی دین کو بھی حاصل کرے” ۔ مولانا مفتی محمد ارشاد القاسمی نے اپنی کتاب جنتی عورت میں حضورؐ کے اِس ارشاد کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نیک و صالح عورت کو آدھا دین کہا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسی مبارک عورت کی وجہ سے دین و دنیا دونوں کا فائدہ ہوتا ہے ۔ دنیا کا فائدہ تو یہ ہے کہ محبت و سکون سے گھریلو زندگی خوشگوار و راحت سے گزرتی ہے اور آخرت کو فائدہ یہ ہے کہ نیک و صالح عورت دین کے معاملے میں شوہر کی مدد کرتی ہے، نماز روزہ اور دیگر امور میں شوہر کو سہولت بہم پہنچاتی ہے اور نیک و صالح عورت کی وجہ سے گنااہ و فواحش کا گھر میں دخل نہیں ہوتا ہے۔ حضرت انو امامہ رضی اللہ تعالیٰ ا،س اَمر کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضورؐ نے معاذ بن جبل سے فرمایا کہ اے معاذ ، شکر گزار دل ، ذکر الہی سے رطب اللسان زبان ، نیک بیوی جو تمہارے دین و دنیا کے معاملات میں مددگار ہو اُن سب چیزوں (مال و دولت) سے بہتر ہے جسے لوگ حاصل کرتے ہیں۔ اِس حدیث مقدسہ کے معنی یہی ہیں کہ نیک و پرہیزگار عورت جس سے دین و دنیا دونوں کی اعانت ہو بہت بڑی دولت ہے۔
آغا شورش کاشمیری مرحوم نے مکہ و مدینہ میں وجدانی کیفیت میں گزارے ہوئے چودہ دن کے حوالے سے اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے اپنی مشہور کتاب ” شب جائے کہ من بودم ” میں لکھتے ہیں : ” رات تابہ کمر آ پہنچی تو آنکھ لگتے ہی ایک عجب دنیا میں کھو گیا ۔ جنت البقیع کا پورا ٹکڑا ایک فردوس تھا ، ایک ایسا چمن کہ دیکھا نہ سنا جہاں کوثر و تسنیم کی موجیں اچھل اچھل کر روشوں کو نہلا رہی تھیں گویا کہ ایک نورانی جزیرہ ہے جس میں فضیلتوں کے آبشار بہہ رہے ہیں ، اُحد سونے کا پہاڑ ہے جس کے دامن میں شہدا کی جھیل ہے ، اِس جھیل میں چنادی کا پانی بہہ رہا ہے اور سونے کی موجیں اُچھل رہی ہیں۔ ۔۔حیا کی چاردیواری سے عفت کے موتی ڈھلک رہے ہیں حضرت خدیجہ امہات المومنین کی صدر نشین ہیں ، حضور ؐ کے الفاظ میں وہ کائنات کی دو افضل ترین عورتوں میں سے ایک ہیں یعنی مریم و خدیجہؓ ( روایت بخاری و مسلم) جبرئیل امین اُنہی کیلئے بشارت لائے تھے کہ اُنہیں جنت میں ایک ایسا گھر ملنے کی خوش خبری سنا دیجئے جو موتیوں کا ہوگا اور وہاں کوئی شور و غل اور محنت و مشقت نہیں ہوگی ۔ حضور ؐ فرماتے ہیں کہ ” جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو خدیجہؓ نے میری تصدیق کی ، جب لوگ کافر تھے تو وہ اسلام لائیں ، جب میرا کوئی معین نہ تھا تو اُنہوں نے میری مدد کی ، میری اولاد اُنہی سے ہوئی۔ وہ کرہّ عرضی کی پہلی عورت تھیں جس نے وحی اوّل کے وقت اپنے عظیم الشان شوہر سے کہا تھا : ” آپؐ مترددّنہ ہوں خدا آپؐ کا ساتھ نہیں چھوڑے گا” ۔ وہ نبوّت محمدؐ کی پہلی مصدق تھیں ، وہ پہلی شریک نماز اور پہلی مقتدی تھیں ۔
درج بالا تمہید دین اسلام میں خواتین کے عظیم مذہبی کردار کی اہمیت کی دلیل کے طور پر پیش کی گئی ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان جناحؒ و اقبالؒ کا پاکستان ہے جس کا قیام 27 رمضان المبارک کے دن عمل میں آیا تھا۔ پاکستان آج اپنوں کے ہاتھوں جس معاشرتی بے راہ روی کا شکار ہے ، جس کی سابقہ سیاسی قیادت ملک کو کرپشن ، بدعنوانی اور بیرونی قرضوں میں جکڑ کر ملکی معیشت کو اِس حد تک تباہی و بربادی کا شکار بنا چکی ہے کہ بین الاقوامی ادارے ایف اے ٹی ایف نے ملک کے مستقبل کو پابندیوں کی گرے لسٹ میں شامل کر دیا ہے اور جس کی اکثریتی عوام سیاسی قیادت کے ہاتھوں بے قدری کا شکار بن کر غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ایسے دگرگوں حالات میں پاکستانی عوام ایک مرتبہ پھر فکر اسلامی کیمطابق جناح ؒ و اقبالؒ کی شکل میں کسی مسیحا کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔ اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لوگ گزشتہ چند عشروں کی سیاسی قیادت کی بدعنوانیوں سے سبب سخت نالاں ہیں ۔ انتخابات 2018 سر پر ہیں اور سیاسی قیادت چولے بدل بدل کر عوام کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہیں۔ البتہ یہ اَمر بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اسلامی تعلیمات سے روگرانی کرنے کے سبب سیاسی پارٹیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور حیران کن طریقے سے بیشتر سیاستدان عمران خان کی تحریک انصاف میں شریک ہوئے ہیں تو کیا ذات خداوندی سیاسی میدان میں نئے اُبھرتے ہوئے سیاسی رہنما عمران خان جن کی ذات سیتا وائٹ سے لیکر سابقہ بیوی کی فحش نگاری سے بھرپور کتاب کی داستانوں تک محیط ہیں کو اصلاح احوال کیلئے بشریٰ بی بی کی شکل میں ایک ولیہّ خاتون کی رفاقت مرحمت فرما کر پاکستان کو پھر سے اپنے قدموں پر کھڑا کرنا چاہتی ہے؟ وقت ہی اِس کا جواب دیگاالبتہ گزشتہ روز محترمہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے سیاسی گھر کو اچھائی کی آواز بنانے کیلئے جس اسلامی خوبی سے جدت پسند خواتین کو متاثر کیا ہے جس کے باعث اِن خواتین میں ٹکٹ کی خواہشات کی جگہ آنسوؤں نے لی، اُس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ ذات خداوندی عمران خان کی زندگی میں ایک نیک و پرہیز گار خاتون کے ذریعے مملکت پاکستان میں پیغمبراسلامؐ کی تعلیمات پر مبنی جناح ؒ و اقبالؒ کی فکر کو پھر سے مہمیز دینا چاہتی ہے۔
اِس اَمر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ مملکت خدا داد پاکستان دین اسلام کی برکتوں کے سبب ” پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” کے نعرے پر وجود میں آیا تھا اور یہ کام قائداعظم محمد علی جناح جنہوں نے برطانیہ کے تعلیمی ادارے لنکنز اِنز میں محض عاشق رسولؐ ہونے کے ناتے اِس لئے داخلہ لیا تھا کیونکہ اِس ادارے کی پیشانی پر دنیا کو قانون دینے والے سب سے ممتاز فرد حضرت محمد ؐ کا نام سر فہرست تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ بیشتر علمائے دیو بند اور مذہبی جماعتوں نے جناحؒ و اقبالؒ کی تقلید کرتے ہوئے مسلم قومیت اور دین اسلامی کی سربلندی کیلئے تحریکِ پاکستان کا ساتھ دینے سے گریز کیا تھا ۔البتہ علمائے دیوبند سے متاثر مولانا محمد علی جوہر کے بھائی مولانا شوکت علی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے جناح کی سچائی کو جانتے ہوئے اُس پُرآشوب دور میں بھی جناح کا دامے درمے سخنے ساتھ دیا تھا ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی جنہیں تحریک پاکستان کے زمانے میں اہم قومی معاملات پر قائداعظم سے مشاورت کا شرف بھی حاصل رہا نے مقتدر مذہبی ذرائع کیمطابق پاکستان بننے کے بعد قائداعظم سے دریافت کیا کہ وہ مسلم انڈیا میں انتشار کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے ہندوستان چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے تھے تو پھر 1935 میں و اپس آکر تحریک پاکستان کی تنظیم نو کیونکر کی۔ قائداعظم نے اُنہیں ایک شرط پر کہ اُن کی زندگی میں اِس موضوع پر کسی سے گفتگو نہ کی جائے یہ فرمایا تھا کہ 1934 میں لندن میں اپنی رہائش گاہ پر وہ مسلم انڈیا کی بے بسی اور بیکسی پر خاصے مغموم تھے کہ اِسی دوران عالم غنودگی میں اُن پر کپکپاہٹ کی کیفیت طاری ہوئی اور پیغمبر اسلام ؐ کی جانب سے بشارت ملی کہ جناح تمہاری ضرورت ہندوستان میں ہے، جاؤ اور مسلمانوں کی قیادت کرو تمہیں کامیابی ہوگی ۔چنانچہ 1940 میں قرارداد پاکستان کی منظورہوئی اوراگست 1947 میں پاکستان وجود میں آگیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم کی نماز جنازہ کے موقع پر قائداعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا جس نے مسلمانانِ ہند کی بربادی اور مایوسی کو فتح میں بدل دیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنوں اور غیروں کی سازشوں کے باوجود پاکستان 27 رمضان المبارک کی رحمتوں کے سبب آج بھی زندہ و پائندہ ہے۔سوال یہی ہے کہ کیا نئے انتخابات کے بعد یہ ولیہّ خاتون بشریٰ بی بی عمران خان کو مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر دین اسلام پر گامزن کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر سکتی ہے؟ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو۔ ۔۔ختم شد۔۔