Buy website traffic cheap

سفر

بلاول بھٹو زرداری ۔ پاکستانی سیاست کا روشن نام

بلاول بھٹو زرداری ۔ پاکستانی سیاست کا روشن نام
آس
اسماء طارق
گزشتہ چند ماہ میں پاکستانی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی ۔ بڑے بڑے نام بے نام ہو گئے اور بے ناموں کو نام مل گیا ۔اسی سیاسی گہما گہمی میں ناقدین میں نرغے میں رہنے والے بلاول بھٹو ایک قدآور سیاست دان کی حیثیت میں سیاسی منظر نامے پر پورے آب و تاب کیساتھ نظر آنے لگے ہیں ۔ عمران خان وزیراعظم منتخب ہونے کے بعدپارلیمنٹ میں اپنے پہلے خطاب میں اور عوام میں وہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے جو بلاول بھٹو زرداری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
آپ کا پاکستان کی سیاست میں عملی طور پر قدم رکھنا قدر کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے اور اب تو آپ کی پارٹی اور عوام کو بڑی توقعات بھی وابستہ ہو چکی ہیں، وہ آپ میں بی بی جیسی سیاسی بصیرت تلاش کرتے ہیں جس سے آپ پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،اتنے بڑے سیاسی خاندان سے وابستگی کی وجہ سے قوم کو آپ سے بڑی امیدیں ہیں۔آپ کو اپنی پارٹی کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بھی بحال کرنا ہوگا جو پاکستان کی بڑی جماعت ہے اور بی بی کی وفات کے بعد جس طرح پارٹی قیادت متاثر ہوئی ہے وہ تو سب دیکھ ہی رہیہیں لیکن یہ کٹھن عمل ہے اس کے لئے آپ کو بہت سی قربانیاں دینی پڑیں گی اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تمام تر خاندانی سیاسی بصیرت کے باوجود آپ ابھی عملی طور پر سیاسی میدان امیچور ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی شخصیت میں بھٹو خاندان کا اثر نمایاں ہے مگر صرف یہ سب سیاسی میدان میں کامیابی کیلئے کافی نہیں ہے کیونکہ آپ عوام کی ترجیحات کے ساتھ ساتھ ان کا جانچنیکا میعار بھی بدل گیا ہے جو وجہ سیاست دانوں کے لیے مشکلات کا حامل ہے۔
آپ 2014 میں سیاست میں عملی طور پر شامل ہوئے حالانکہ آپ اس وقت اس کے لیے تیار نہیں تھے،اس وقت آپ کی سمجھ اور فہم کے لیے اسے اپنانا مشکل تھا ،شروع شروع میں آپ نے بہت سی غلطیاں بھی کیں، آپ کی تقاریر کا بہت مذاق بنا، آپ کی اردو اور بولنے کے انداز کو بھی سیاسی نقطہ نظر سے معیوب سمجھا گیا حتی کہ آپ کو اپنی تقریر کی خود بھی سمجھ نہیں آتی تھی، ان چند سالوں میں آپ پر بہت تنقید بھی کی گئی کہ بلاول تو ابھی بچہ ہے ،اسے سیاست کی الف ب سے بھی واقفیت حاصل نہیں ہے اور یہ سیاست میں عملی طور پر کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔آپ کو بے شمار مشکلات کا بھی سامنا رہا اور ان میں خاندانی تضادات بھی شامل ہے۔ مگر ان تمام سالوں میں آپ نے جس طرح خود کو سیاست کے لئے تیار کیا ہے وہ قابل تعریف ہے اور آپ ان تمام تنقیدی نظریات کا سامنا ہمت اور بہادری سے کر رہے ہیں اور اب آپ اپنی سیاسی بصیرت کو عملی میدان میں بھی آزمایں گے۔
2018 کے الیکشن میں ان کا سیاسی منشور اور مہم قابل ستائش تھی ۔کسی سیاستدان کیلیے ابتدا میں بڑی کامیابی حاصل کرنا اس طرح ممکن نہیں ہوتی مگر وہ قومی اسمبلی تک رسائی حاصل کرچکے ہیں جو کہ ان کی عملی سیاست کیلیے بڑی کامیابی ہے جو انہیں موقع عطا کرتی ہے کہ وہ وقت اور حالات کو بتا دیں کہ وہ بڑے سیاستدان بننے کے اہل ہیں اور اور جس طرح سے انہوں نے آغاز کیا ہے وہ اچھا اور قابل ستائش ہے۔ معروف اخبار ڈان نیوز کے تجزیے کے مطابق بلاول نے 2018 کی الیکشن مہم میں اپنی تقاریر میں پیپلز پارٹی کے ترقی پسندانہ سوچ اور روشن خیال نظریے کو ابھارنے کی کوشش کی ہے اور عوام کی خدمت کی خاطر والدہ کے مشن کو تکمیل تک جاری رکھنے کا عزم لیا ہے ۔
مگر کچھ مسئلے ہیں جو ان کی پرفارمنس پر نظر انداز ہو سکتے ہیں ،ان میں سے ایک تو پارٹی میں نظریات کا اختلاف ہے جو انہیں کھل کر سیاست کرنے نہیں دے گا اور ان کو بڑا لیڈر بننے نہیں دے گا۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ عوام نے بلاول بھٹو کو لیڈر تسلیم کرلیا ہے مگر اہم نوعیت کے فیصلے آج بھی آصف زرداری کررہے ہیں اور لیڈر بننے کے لئے آپ کو بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ آپ بہت سے غلط فیصلے بھی کرتے ہیں مگر پھر وہ آپ کو سکھاتے ہیں مگر یہاں بلاول کو سیکھنے نہیں دیا جا رہا ہے ۔ ایک طرف تو سب ان میں بی بی کی جھلک دیکھتے ہیں اور انہیں بڑا لیڈر بنانا چاہتے مگر دوسری طرف ان کو ایک شیل میں رکھا جاتا ہے جہاں ان تک گرم ہوا بھی نہ پہنچ سکے، ایسے تھوڑی کوئی بڑا لیڈر بنا ہے جب تک وہ عام آدمی سے ملے نہ، ان سے بات چیت نہ کرے ان کے مسائل نہ جانے، محترمہ بڑی لیڈر تھی کیونکہ وہ عوام کے مسائل سے واقف تھے وہ عام آدمی سے ملتی تھیں , اس سے ان کے مسائل جانتی تھیں۔ جبکہ بلاول خالی بی بی کا منشور لے کر بڑا انقلاب لانا چاہتے ہیں اور عوام ان سے نالاں ہیں کہ وہ عوامی نہیں ہیں۔ ہاں یہاں بیشک کچھ سکیورٹی تھریٹ بھی ہیں جو انہیں عوام میں گھلنے ملنے نہیں دیتے۔
آصف زرداری چاہیے ہیں کہ وہ سیاست میں آئیں مگر سیاسی قیادت ہونے کے باوجود بلاول کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ،وہ انہیں اہم فیصلے لینے سے روکتے ہیں، اس سے سب واقف ہیں کہ وہ مفاہمت کی سیاست کرتے ہیں شاید یہ ان کے تجربے کی ڈیمانڈ ہے وہ نہیں چاہتے کہ بلاول کوئی ایسا قدم اٹھائیں جو ان کے لیے مشکلات پیدا کرے ،یہ بات تب بھی واضح ہوئی، جب وہ بلاول کے بیانات کو سنبھالتے ہوئے نظر آئے۔ مگر یہ چیز بلاول کی خودمختاری اور آزادی کو مثاتر کرتی ہے اور عین ممکن ہے کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ ایک سیاستدان تو بن جائیں گے مگر لیڈر نہیں بن پائیں گے۔ مگر اگر بلاول اپنی خودمختاری کو اثرانداز نہ ہونے دیں تو آصف زرداری کچھ نہیں کر پائیں گے کیونکہ یہ ضروری ہے کہ وہ آزادی سے فیصلے لیں اور اس فیصلوں کے نتائج کو سمجھیں اور پارٹی قیادت کو آزادانہ لیڈ کریں جو ایک لیڈر بننے کے لیے ضروری ہے کیونکہ جب تک وہ فیصلے کر کر کے درست فیصلے کرنا نہیں سیکھیں گے وہ بڑے لیڈر نہیں بن سکتے۔سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ”بلاول جارحانہ سیاست کرنا چاہتے ہیں جبکہ زرداری مفاہمتی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں کی عمروں اور تجربے کا بھی فرق ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ زرداری کا مستقبل بلاول ہے اور اسی وجہ سے میں نے دیکھا ہے کہ اگر بلاول کسی بات پر اڑ جائیں تو زرداری پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔”
جو بھی وجوہات ہوں مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بلاول میں ایک اچھا سیاست دان بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے جو ان کے شاندار سیاسی مستقبل کی ضمانت ہے۔ وہ ایک نظریاتی اور انقلابی سیاست کے خواں ہیں اور ان کا یہ انداز متاثر کن ہو گا اور نہ ہی ان میں عزم کی کمی ہے وہ زندگی کے گزرتے لمحوں سے سیکھتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس راستے میں
بلاول کی خاندانی سیاسی بصیرت ان کی عملی سیاست میں ان کی راہنمائی کرے گی جو انہیں والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نانا سے وراثت میں ملی ہے۔امید کی جاتی ہے وہ مستقبل میں ایک بڑے لیڈر کے طور پر پاکستان کے سیاسی میدان میں نظر آئیں گے۔