Buy website traffic cheap

امت کی وحدانیت

بلھے شاہ کی ضرورت ہے

بلھے شاہ کی ضرورت ہے
محمد آصف ظہوری
مو جودہ دوراوربلھے شاہ کے دُور میں رتی برابر بھی فرق نہیں، ان کا عہد ا خلاقی طور پر انحطاطوزوال کا عہد تھا،معاشرے پر تباہی کے آثار بری نمودار ہو چکے تھے،مذہب کی روح اختتا م پر تھی،پُرآشوب اور پُرفتن دور تھا ،تاریخ وتحقیق کی روشنی کہا جاتا ہے کہ سماجی ومذہبی حالت ابترتھی،انسانوں میں کہتری وکمتری کا رواج بدستور قائم تھا، خدا پرستی کی بجائے نفس پرستی، توہم پرستی کی رسومات باقی تھیں، حکمران طرح طرح کے داخلی شورشوں اور خارجی خلفشارات سے دوچار تھے، بدامنی و طوائف الملوکی پورے طور پر غالب تھی، لٹیروں نے ہمہ جہت غارت گری اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ہر قصبہ ، ہر قریہ ماردھاڑ اور خونریزی کی لپیٹ میں تھا۔
بہرکیف اپنے حالات کی بلھے شاہ نے بڑی بے باکی سے ترجمانی کی ہے اور آئندہ نسلوں کیلئے اپنا پیغام چھوڑا اور انہوں نے اپنے دور کی ریاکاری، بددیانتی، دکھلاوے، جھوٹ، فریب اور لالچ کی بندگی کو کچھ ایسے بیان کیا:
نت پڑھائیں استغفار
کیی توبہ ہے ایہہ یار
سانویں دے کے لویں سوائی
راہدیاں دی توں بازی لائی
مسلمان ایہہ کتھوں آئی
بلھے شاہ ایک غیرروایتی عالم کے طور پر بھی ابھرے اور انہوں نے موٹی کتابیں پڑھنے والے بے عمل عالموں کو للکارا کہ زیادہ مسئلے بازی سے انسانیت تنگ پڑ جاتی ہے اور زیادہ فقہ سے انسان مفرور ہو جاتے ہیں ، اس صورت حال کو اپنی شاعری میں وہ کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
کیوں پڑھنائیں گڈ کتاباں دی
سر چانائیں پنڈ عذاباں دی
ہن ہو یا شکل جلاواں دی
اگے پینڈا مشکل بھارا اے
اک الف پڑھو چھٹکار ہے
ہر مسلمان، بلکہ ہر پاکستانی پر یہ حقیقت آشکار ہے کہ آج ہمارے گلے میں جو ذلت کا طوق ڈال دیا گیا ہے، اس کا سبب کیا ہے؟ اس کی ایک ہی وجہ دنیاداری سے محبت ہے، بلاشبہ دنیا فنا پذیر ہے اور یہ فنا ہوکر ہی رہے گی، وقت نہایت قلیل ہے اس کو فضول باتوں اور کاموں میں نہیں گنوانا چاہیے اسی لیے بلھے شاہ کہتے ہیں:
کتھے ہے سلطان سکندر
موت نہ چھڈے پیر پیغمبر
کوئی ایتھے پائیدار نہیں
اٹھ جاگ گھراڑے مار نہیں
ایہہ سون تیرے درکار نہیں
جہاں تک بلھے شاہ کی شاعری کا تعلق ہے تو اس کو عمومی طور پر چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلا حصہ مرشدکی تلاش اور اس کے کرشماتی وجود سے متعلق ہے، شاعری کا دوسرا حصہ وحدت الوجود سے جڑا ہوا ہے، اپنے محبوب سے بے پایاں عشق او ر ہجر کی کر ب آمیز کہانی۔ اس کے کلام کا تیسرا حصہ اپنے عہدکی بنیاد پرست ملاؤں اور مقتدر طبقے کے خلاف احتجاج سے متعلق ہے ، شاعری کے چوتھے حصہ میں انسان دوستی ، پیار ، محبت ، امن ، رواداری،اطاعت کو موضوع بنایا گیا ہے۔آپ نے اپنی شاعری میں جس موضوع کو چھیڑا اس کے باریک سے باریک نکات وحقائق کو انتہائی دلکش اور لطیف پیرائے میں پرو دیا ہے، لہٰذا ان اصناف شاعری کامختصر سا ذکر بے محل نہ ہوگا۔انہوں نے کافیاں ، سی حرفیاں، دوہڑے ، باراں ماہے، اٹھوارے اور گنڈھاں لکھے ہیں۔ ویسے آپ کے دور میں آپ کو ایک باغی شاعر کہا جاتا تھا۔ بلھے شاہ کے بقول ان کے دور میں نظام تدریس اور علم کا حصول لفظوں کا کھیل یامداری کاتماشہ بن کر رہ گیا تھا جو عالم علم پڑھاتے تھے وہ خود بھی اس علم سے مفید نہ ہو پاتے تھے، لہٰذا بلھے شاہ پہلے سے موجود جوابات کو شک کی نظر سے دیکھتے اسی لئے باغی کہلائے۔ موجودہ دور میں بھی ہمارا نظام تعلیم اپنی ناقص حالت پر کھڑا ہے، لیکن آج اس عہد کو بلھے شاہ کی ضرورت ہے وہ کہتے ہیں:
اینوں قصے کاہنوں گھڑناں ایں
تے گلستان بوستان پڑھنا ایں
اینویں بے موجب کیوں لڑناں ایں
کس الٹ وید پڑھایا ہے
اگر یہ کہا جائے کہ آج کے عہد کو بلھے شاہ کی شاعری کی ضرورت ہے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ موجودہ دور میں جو غموں کے سیلاب کا ریلا آیا ہوا ہے، اس نے ہرچیز کو اپنی زد میں لے رکھا ہے،لہٰذا غموں کی سیلاب کے ریلے کو بلھے شاہ کی شاعری پر عمل پیرا ہوکر ہی سکھ کے سانس میں بدلا جاسکتا ہے، کیونکہ آج بھی عورتیں گھروں میں ، کسان کھیتوں مین،بچے گلیوں میں، صوفیا خانقاہوں میں، حضرت بابابلھے شاہ کے کلام کو پڑھتے ہیں اور سراہتے ہیں، کیونکہ ان کے کلام کا ایک ایک حرف اسرار الٰہی اور عشق حقیقی کا امین ہے،آپ کے کلام کے ایک ایک مصرعے سے پڑھنے والوں کے دلوں کے کئی کئی حجابات اٹھتے ہیں اور کئی اسرارورموز ظاہر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جبھی حضرت بلھے شاہ نے اپنے آپ کو ظاہر کیا تو ان کے پاکیزہ نغموں سے پنجاب کے گاؤں قصبے اور شہر گونج اٹھے، جن کی شہر ت اپنے وطن سے نکل کر دور دور تک پھیلی ، آپ کی آواز سوز، جذب اور وارفتگی سے پر تھی۔ آپ کا ہر بیان عجز و انکساری او راحترام کا مظہر تھا، ایک قصہ مشہور ہے کہ جب حضرت بلھے شاہ نے شاعری کا آغاز کیا اور مرشد کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس فعل کو پسند نہ فرمایا بلکہ ناراضگی کا اظہار کیا، لیکن جب انہوں نے آپ کے اشعار سنے تو ان کی غلط فہمی دور ہوگئی اور حضرت بلھے شاہ کی علمیت و قابلیت پسند کئے بغیر نہ رہ سکے۔

یہ موضوع اس قدر وسیع ہے کہ اسے ایک کالم کی حدود تک محدود نہیں کیا جاسکتا ، لہٰذا یہاں حضرت بلھے شاہ کی علمی، ادبی اور دینی خدمات کا سرسری ساذکر بے محل نہ ہوگا۔ اس پُر آشوب اور بدامنی کے دور میں لاہور میں سینکڑوں درس گاہیں تھیں، لیکن آپ کا مدرسہ امتیازی شان رکھتا تھا۔ آپ کے درس میں قرآن ، تفسیر ، حدیث، فقہ علوم وفنون کے علاوہ مثنوی مولانا روم قصوص الحکم، کتب تصوف خاص کر متقدمین صوفیہ کے حالات کا مطالعہ بہت ضروری سمجھا جاتاتھا،کبھی کبھی محفل سماع بھی منعقد ہوتی تھی۔ اکثر خواجہ حافظ،ملا محمد شیریں مغربی، احمد جام،فخرالدین عراقی، ملا بدخشی، اور مثنوی مولانا روم کے علاوہ شاہ شمس تبریز کا کلام پیش کیا جاتا تھا اور اب آخر میں میں یہ بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ان کی پیدائش کہاں اور کس سن میں ہوئی اس کا ذکر میں نے اس لئے نہیں کیا کہ متذکرہ دونوں سوالوں کا جواب متنازعہ ہے، جس پر ایک رائے نہیں، لہٰذا میں اس بحث میں پڑے بغیر آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت وہ شہر قصور میں ہیں اور شہر قصورحضرت بابا بلھے شاہؒ کا ہے۔