Buy website traffic cheap

سپریم کورٹ

بل بورڈزکیس: فوج کو اختیارکس نے دیا کہ وہ یہ کام کرے، سپریم کورٹ کے ڈی ایچ اے ہاؤسنگ سوسائٹی کے متعلق سخت سوالات

لاہور(ویب ڈیسک): سپریم کورٹ نے بل بورڈز کیس میں ڈی ایچ اے لاہور کو نوٹس جاری کرد یئے ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کا کیا کام کہ ہاﺅسنگ سکیم بنائے، فوج نے ہاﺅسنگ سکیم بنانی ہے تو ملازمین اور شہداءکیلئے بنائے، چیف جسٹس نے کہا کہ بل بورڈز کیلئے اصول وضع کریں گے جو ملک بھر پر لاگو ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے بل بورڈز کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ مال روڈ کے ہرکھمبے پرپی ٹی آئی کے لوگوں کی تصاویرلگی تھیں، کیا بل بورڈز پی ایچ اے لگا رہا ہے؟، ایڈیشنل ڈی جی پی ایچ اے نے کہا کہ ہم نے ایک بل بورڈ بھی نہیں لگایا۔کینٹ بورڈ کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کینٹ آمدن کا بڑا حصہ بل بورڈز سے آتا ہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ بل بورڈز دوران ڈرائیونگ توجہ ہٹانے کا باعث بنتے ہیں۔ جسٹس چیف نے کہا کہ لاہور کے ہر کھمبے پر چودھری سرور اور پی ٹی آئی کے بینر لگے ہیں، ان کو بینرز لگانے کی اجازت کس نے دی ہے؟ ہارٹی کلچر کی ایڈیشنل ڈی جی نے کہا کہ لاہور میں بل بورڈز پی ایچ اے نے نہیں لگائے، ہم سے کسی نے منظوری بھی نہیں لی، ایک آدھ بار ہٹائے تو ہمارے ملازمین کےخلاف مقدمات درج کر لئے گئے، بل بورڈز کنٹونمنٹ، ڈیفنس، این ایل سی اور این ایچ کے ہیں۔ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کینٹ کو حکومتوں سے کوئی فنڈ نہیں ملتے، لطیف کھوسہ کے مطابق کینٹ کے عوام کو سہولیات دینے پر خرچہ ہوتا ہے۔