Buy website traffic cheap


بنیادی ضروریاتِ زندگی ۔۔۔۔انقلابی اقدامات کی ضرورت

بنیادی ضروریاتِ زندگی ۔۔۔۔انقلابی اقدامات کی ضرورت
تحریر : ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی ایک تہائی آبادی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے۔ روزگار، غذا کی دستیابی ، رہائش ، لباس ، تعلیم اور علاج معالجہ ، صاف پانی جیسی سہولیات کا فقدان ہے۔ گو کہ بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر قیام پاکستان سے لے کر اب تک بر سر اقتدار طبقوں نے ان مسائل سے منہ موڑے رکھا۔ بلکہ ان کو احساس تک نہ ہوا کہ محرومیوں کے شکار ریاستی افراد کی اکثریت کس طرح اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہے۔ کسی نے روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کا نعرہ لگا کرعوام کے جذبات سے کھلواڑ کیا۔ اور انہیں اپنے مفادات اور حصول اقتدار کے لیے استعمال کیا تو کسی نے انہیں حالات کی بہتری کی نوید سنا کر روشنی کی کرن دکھاتے ہوئے اقتدار حاصل کر لیا۔ مگر ان کے حالات جوں کے توں ہی رہے ۔ محرومیاں بڑھتی گئیں۔ اور غربت و افلاس کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھاتے چلے گئے۔ حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کہ اس جماعت نے مایوس عوام کو تبدیلی کا نعرہ لگا کر محرومیوں سے نکالنے اور ان کے شب و روز تبدیل کرنے ، بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کا یقین دلایا۔ نو منتخب حکومت کی کفایت شعار ی کی پالیسی کے لیے اقدامات قابل تحسین ہیں ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ہمارا غریب مقروض ملک عیاشیوں اور وسائل کے بے دریغ استعمال کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ عوام کی اکثریت حکومت وقت سے حالات کی بہتری کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ کہ وہ قومی اور صوبائی سطح پر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی ، اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں نیچے لانے ، علاج معالجہ کی مفت فراہمی ، پرائیویٹ اور سرکاری سطح پر تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ مفت تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے بروقت اقدامات اور انقلابی پالیسیاں تشکیل دے کر انہیں عملی جامہ پہنائے گی۔ ذخیرہ اندوزوں ، سبزی و فروٹ کی منڈیوں پر قابض من پسند ریٹ لسٹیں جاری کروانے والی مافیا کے خلاف اقدامات کرے گی جو جونکوں کی طرح عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہیں۔ ضلع سے تحصیل ، اور یونین کونسل سطح تک پرائس کنٹرول کمیٹیاں قائم کر کے مانیٹرنگ کا مربوط نظام نافذ کرے گی۔ جس کی بدولت گراں فروشوں کو نکیل ڈالی جا سکے ۔ نا انصافیوں اور استحصال کا شکار غریب عوام کی امیدوں کا مرکز اب وزیر اعظم عمران خان ہی ہیں ۔ جن کو عوام اپنے دکھوں اور دردوں کا مسیحا سمجھ کر ان سے آ س لگائے بیٹھی ہے ۔ دانشوروں کی رائے ہے کہ اگر عمران خان جیسا شخص بھی یہ اقدامات کرنے میں ناکا م ہوتا ہے تو پھر عوام کا والی وارث دور تک نظر نہیں آتا وہ مسائل کے دلدل میں جوں ہی دھنستی چلی جائے گی۔ کم آمدنی والے افرا د اور چھوٹے ملازمین کی مشکلات بھی بے تحاشہ ہیں۔جو بمشکل ان حالات میں گزر بسر کر نے پر مجبور ہیں ۔کم آمدنی والے طبقات اور چھوٹے ملازمین کو سہولیات بھی پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ اور اپنے کنبوں کی کفالت کے فرائض سر انجام دے سکیں۔ موجودہ حالات میں تو ان ملازمین کی صورتحال یہی ہے بقول شاعر۔
کس ضرورت کو دباؤں کسے پورا کر لوں
اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے