Buy website traffic cheap


بڑے مسائل، نگران کابینہ، اورتصدیق شدہ’’ بیان حلفی‘‘

اشفاق رحمانی
بڑے مسائل، نگران کابینہ، اورتصدیق شدہ’’ بیان حلفی‘‘
نواز شریف کے مطابق ’’ایسی نگران حکومت ہونی چاہیے جس پر کسی کادبا ونہ ہو‘‘ مسلم لیگ ن سے زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ عوام الیکشن کو ریفرنڈم سمجھ کر اس میں حصہ لیں،پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی طرف سے تا حیات نا اہل کئے گئے سابق وزیر اعظم جو یقیناًبدعنوانی میں مبینہ طور پر ملوث نہ ہوتے تو وہ سینئر ترین اور’’لائق‘‘ ترین سیاست دان کہلاتے، نواز شریف کی طرف سے الیکشن سے پہلے تحفظات کا اظہار اور خاص طور پر ’’دباؤ‘‘ کی بات کرنا کچھ عجیب سا ہے،ن لیگ کی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی جب نگران سیٹ اپ بنا تو نواز شریف کی طرف سے یہ بیان آیا کہ نگران حکومت ’’بجلی‘‘ نہ ملنے کی ذمہ دار ہے،سینئر تجزیہ کاروں کے مطابق ن لیگ کے ذمہ داران میں سے کسی کو بھی ایسی بات نہیں کہنی چاہئے تھی،اب ان کو’’دباؤ‘‘ یاد آرہا ہے تو راقم کو یہ کہنے دیجئے کہ ن لیگ کے بیان کا سیاق و سباق بھی’’دباؤ‘‘ کے زمرے میں آتا ہے،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ الیکشن میں مسلم لیگ ن کو برابری کا موقع ملناچاہیے‘‘ نواز شریف کے حالیہ بیانیہ کو ووٹرز اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد’’شک‘‘ کی نظر سے دیکھتے ہیں،دوسری طرف خیر سے جمہوریت کی بالا دستی کو قائم رکھنے والے’’سیاست دانوں‘‘ سے جب بات نہ بن سکی تو ’’الیکشن کمیشن ‘‘ نے پنجاب کی نگرانی کا سہرا بھی انتہائی پڑھے لکھے شخص کے سر باندھا ہے،پروفیسر حسن عسکری پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ مقرر ہو گئے ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق حسن عسکری کے نام کا اعلان متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔یا د رہے کہ پروفیسر حسن عسکری نے 1980 میں یونیورسٹی آف پنسلوانیاسے پی ایچ ڈی کیا۔ پروفیسر حسن عسکری کو 23 مارچ 2010 کو صدر پاکستان نے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔پروفیسرحسن عسکری پنجاب یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کیپروفیسررہ چکیہیں۔پروفیسرحسن عسکری کویونیورسٹی آف پنسلوانیامیں پی ایچ ڈی پرفلبرائٹ اسکالرشپ دی گئی ہے۔نگران حکومت کا بنیادی مقصد 25 جولائی کے انتخابات کو غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے شفاف اور یقینی بنانا ہے۔ امور مملکت چلانا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ پاکستان کو عمومی طور پر بھی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ آج پاکستان کی مشکلات میں کسی بھی دور کی نسبت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ ریاست کو داخلی اور خارجہ امور میں مسائل کا سامنا ہے۔ نگران حکومت کا چونکہ کوئی سیاسی ایجنڈا ہے نہ کسی پارٹی سے مفاد وابستہ ہے اس لئے وہ بگڑے معاملات کوسدھارنے کی کوشش کرے گی۔ لوڈشیڈنگ دہشت گردی، بدامنی جیسے گھمبیر مسائل کا آج بھی قوم کو سامنا ہے۔ نگران حکومت ان کو کم نہیں کرسکتی تو امید کرنی چاہئے کہ ان میں اضافہ بھی نہیں ہونے دے گی۔ آج بیرون ممالک پاکستانیوں کو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ مسلم ممالک سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ کے بقایا جات نہیں مل رہے۔ ملازمتوں کا عدم تحفظ بھی اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل میں شامل ہے۔اب آتے ہیں’’دباؤ‘‘ میں نہ آنے والی مختصر مگر جامع نگران کابینہ کی طرف اور ان سے وابستہ سے’’عوامی فلاحی توقعات‘‘ کی طرف،سرکاری اعلان کے مطابق چھ رکنی نگران وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا۔ کابینہ میں سابق گورنر سٹیٹ بنک شمشاد اختر، اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مندوب عبداللہ حسین ہارون، معروف قانون دان بیرسٹر علی ظفر، روشن خورشید، محمد اعظم خان اور محمد یوسف شیخ شامل ہیں۔ عبداللہ حسین ہارون کو وزارت خارجہ اور نیشنل فوڈ سکیورٹی جبکہ وزارت دفاع و دفاعی پیداوار کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کو وزارت خزانہ، شماریات اور وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ وزارت تجارت اور وزارت انڈسٹریز و پیدوار کا اضافی چارج ملا ہے جبکہ اعظم خان کے پاس وزارت داخلہ، وزارت کیڈ اور وزارت نارکوٹکس کنٹرول کیساتھ وزارت بین الصوبائی رابطہ کا اضافی چارج بھی ہو گا۔ اسی طرح سید علی ظفر کو وزارت قانون و انصاف، وزارت پارلیمانی امور اور وزارت اطلاعات، یوسف شیخ کو وزارت تعلیم پروفیشنل ٹریننگ کے ساتھ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز اور وزارت مذہبی امور کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔ روشن خورشید بروچہ کو وزارت انسانی حقوق، کشمیر و گلگت بلتستان امور اور وزارت سیفران کا قلمدان سونپا گیا ہے۔نگران وزیراعظم نے کابینہ کو مختصر رکھا جو جامع بھی ہے۔ ہر نگران وزیر اپنے اپنے شعبے میں بہترین مہارت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر 2006سے2009 سٹیٹ بینک کی گورنر رہیں۔ عبداللہ حسین ہارون اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سندھ اسمبلی کے رکن اور اپوزیشن لیڈر رہ چکے ہیں۔ وہ سندھ اسمبلی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ اور قواعد و ضوابط بھی رہے ہیں۔ محمد اعظم خان چیف سیکرٹری خیبر پی کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی روشن خورشید بروچہ بلوچستان سے سینیٹر اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کی قائم مقام چیئر پرسن رہ چکی ہیں۔ بیرسٹر علی ظفر ممتاز ماہر قانون ایس ایم ظفر کے صاحبزادے اور ملک کے نمایاں ماہر قانون ہیں۔ جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر بھی ہیں۔ شیخ محمد یوسف نے تمام زندگی تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دیں، وہ کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ نگران حکومت کے پاس محدود مدت کے لئے ذمہ داری ہے۔ اس کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔ اس کے ارکان کے تجربے اور اچھی شہرت کے حامل ہونے کی بناء پر کہاجا سکتا ہے کہ میرٹ کو پیش نظر رکھتے ہوئے بہترین قومی و ملکی مفاد میں ترجیحات طے کر کے جانفشانی سے اپنی ذمہ داری ادا کریں گے۔ عبداللہ حسین ہارون جن کے پاس متعلقہ وزارت کا قلمدان ہے۔ ان کے خاندان کی ملکی خدمات کے حوالے سے اچھی شہرت رہی ہے۔ عبداللہ حسین ہارون جس شعبے میں رہے اس میں اپنی شبانہ روز محنت سے کامیابیاں حاصل کیں۔ بیرون ممالک پاکستانیوں کے مسائل ان کے لئے چیلنج رکھتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے وہ ماضی کی طرح اس معاملے میں بھی اپنی محنت سے سرخرو ہونگے۔ادھر سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی فارم میں تبدیلی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کا حکم جاری کردیا ہے اورواضح کیا ہے کہ بیان حلفی میں اثاثوں سے متعلق تمام تفصیلات درج کرکے اوتھ کمشنرسے تصدیق کروائی جائے، عدالت نے مزید ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین مل بیٹھ کر بیان حلفی ڈیزائن کرکے عدالت کوپیش کریں جس کے بعد عدالت بیان حلفی کا فارمیٹ بنا کر حکم نامے کا حصہ بنا دے گی، عدالت نے قراردیا کہ الیکشن کا مقررہ وقت پر انعقاد حتمی فیصلہ ہے تاہم امیدواروں کے بارے میں تفصیلات جاننا ووٹرز کاحق ہے ، اس لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواران کو بھی بیان حلفی جمع کروانا ہوگا جو سپریم کورٹ کی جانب سے تصور ہوگا ، جس میں غلطی یا کوتاہی کاارتکاب کرنے پر توہین عدالت کی کا رروائی ہوسکے گی۔