Buy website traffic cheap


بھارت نے پاکستان کو کشن گنگا منصوبے کے معائنے کی اجازت دیدی

لاہور(ویب ڈیسک): بھارت نے کشن گنگا پن بجلی منصوبے پر پاکستانی اعتراضات دور کرنے کے لیے معائنے کی اجازت دے دی۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد نے بھی کوٹری بیراج پر نئی دہلی کے تحفظات دور کرنے کی غرض سے معائنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کے تحت دونوں ممالک کے وفود جلد ایک دوسرے ملک کا دورہ کریں گے۔واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت مستقل انڈس کمیشن کے درمیان آبی تنازع کے معاملے پر 2 روزہ مذاکرات 29 اور 30 اگست کو لاہور میں ہوئے جس کے 115 ویں اجلاس میں ’پاکستان نے زور دیا تھا کہ بھارت دریائے جہلم پر تعمیر دیگر منصوبوں کے علاوہ کشن گنگاپن منصوبے کا خصوصی دورہ کرائے جو کہ 2014 سے زیر التوا ہے‘۔خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے واٹر کمشنرز کو ایک سال میں 2 مرتبہ ملاقات کرنے، منصوبوں اور اہم دریاؤں کے تکنیکی دورے کرنے کا پابند کیا گیا تھا لیکن بروقت ملاقات اور دوروں کے معاملے میں پریشانی سے پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مستقل انڈس کمیشن کے درمیان آبی تنازع کے معاملے پر 2 روزہ مذاکرات میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر ایک ہزار میگا واٹ کے پاکل دل اور 48 میگا واٹ کے لوئر کلنائی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی تعمیر پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔پاکستان نے ان منصوبوں کے ڈیزائن پر تحفظات پہلے ہی ظاہر کردیے تھے اور وہ چاہتا ہے کہ بھارت ان منصوبوں کے ڈیزائن میں 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت تبدیلی کرے یا ان منصوبوں کو اس وقت تک روکے جب تک دہلی، اسلام آباد کو مطمئن نہیں کردیتا۔اس سے قبل خبریں گردش میں تھی کہ نیشنل انجینئرنگ سروسز آف پاکستان (نیسپاک) میں پاک۔بھارت آبی تنازعات پر مذاکرات کا دوسرے روز بھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔دونوں جانب سے تحفظات کی روشنی میں پاک بھارت وفد نے آمادگی ظاہر کی کہ خدشات کو دور کیا جائے گا اور دریا چناب پر پاکل دل ڈیم اور لوئر کلنائی منصوبے کے معائنہ کے لیے بھارت اجازت دے گا۔دستاویزات کے مطابق اس حوالے سے پہلے پاکستانی وفد رواں سال ستمبر کے آخری ہفتے میں بھارتی منصوبوں کا معائنہ کرے گا اور اس کے بعد بھارتی وفد کوٹری بیراج کا جائزہ لے گا۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت کی جانب سے متنازع کشن گنگا ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے کی تصدیق کے بعد پاکستان نے ورلڈ بینک سے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے دو بڑے بھارتی منصوبوں پر اسلام آباد کے تحفظات سندھ طاس معاہدہ 1960 کی روشنی میں دور کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔پاکستان نے واضح کیا تھا کہ وہ آبی تنازع کے مسئلے پر عالمی عدالت انصاف (آئی سی اے) میں مقدمہ دائرکریگا جبکہ بھارت تنازعے کا حل ’غیر جانبدار ماہرین‘ کے ذریعے حل کروانے میں دلچسپی رکھتا تھا۔جس کے بعد ورلڈ بینک نے پاکستان پر زور دیا کہ بھارت کی پیش کش کو قبول کرے اور ’غیرجانبدار آبی ماہرین‘ کی ثالثی میں تنازعے کا حل نکالیں۔