Buy website traffic cheap

بھارت

بھارت کو پھر پاکستان کیساتھ تعلقات میں بہتری اور بحالی کی یاد ستانے لگی، الزامات کا بھی سلسلہ جاری

لاہور(ویب ڈیسک): بھارت کے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات ایک حساس مسئلہ ہے۔ہندوستان یقینی طور پر تعلقات کومعمول پرلاناچاہتا ہے۔ لیکن اس کے لئے سب سے پہلے پڑوسی ملک کودہشت گردوں کی حمایت سے گریز کر نا ہو گا ۔ راج ناتھ سنگھ نے ہرزہ سرائی کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنے ملک میں بھی دہشت گردی پر کنٹرول کرنا ہوگا۔اگر وہ اس سلسلے میں ہندوستان کا تعاون چاہتاہے تواسے بھی بحسن وخوبی انجام دیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سرحدسے متصل علاقوں میں رہنے والے لوگ عام شہری نہیں ہیں۔وہ اسٹریٹیجک نکتہ نظرسے بہت اہم ہیں اور انہیں اپنی حفاظت کے لئے 1400 نئے بنکر بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ بھوپال میں میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کنٹرول لائن کے علاقے بہت اہم ہیں اور وہاں کے عام شہری نہیں ہیں،یہ تمام شہری اسٹریٹیجک نکتہ نظرسے بہت اہم ہیں۔ان کی حفاظت کے لئے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں 1400 نئے بنکر بنانے کے لئے احکامات دیے گئے ہیں۔بے گھر کشمیری پنڈتوں کی بحالی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اس کے لئے پرعزم ہے۔مرکزی حکومت نے اس کیلئے بجٹ کا بھی التزام کیاہے۔اب جموں و کشمیر حکومت کو زمین کی تخصیص کرنا ہے۔وہاں کی حکومت کو ایسا کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔زمین ملنے کے بعد اسے فورا شروع کیا جائے گا۔راج ناتھ سنگھ نے دعوی کیا کہ ملک میں مرکز کی موجودہ حکومت کے چاربرس کے دوران گرداس پور اور پٹھان کوٹ حملہ کے علاوہ کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ۔ سنگھ نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کے چار سال کے کارناموں کو بتانے کے لئے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پٹھان کوٹ میں ضرور دہشت گردوں نے ایر بیس کو بھاری نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی لیکن ہمارے سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے منصوبے پر پانی پھیر دیا اور تمام حملہ آوروں کو مار گرایا۔ اسی طرح گرداس پور میں بھی دہشت گردوں کایہی حشر ہوا۔