Buy website traffic cheap

پاکستانی قیادت

بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر تحریک انصاف کے لئے بڑا چیلنج

سکوت سمندر
بادشاہ خان
گذشتہ کئی حکومتوں نے نئے ڈیم بنانے کے مواقع ضائع کردیئے، ، دیامیر بھاشا ڈیم اس کی بڑی مثال ہے ،جس پر کسی صوبے کو اعتراض بھی نہیںہے، بھاشا ڈیم سے ملک کو چھیالیس سو میگاواٹ بجلی بھی مل سکتی تھی اور پانی کا ایک بڑامحفوظ ذخیرہ بھی مل سکتا تھا ،چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے بھی بھاشا اور مہمندڈیم کی تعمیر کا حکم جاری کیا تھا جس کے لئے دنیا بھر سے پاکستانیوں نے بھاشاڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز بھی جمع کرائے ،اور تاحال فنڈز جمع ہورہے ہیں ، ہونا تو یہ چاہی ہے کہ اس پر جاری کام کو تیز کیا جائے تاکہ مزید وقت ضائع نہ ہو ، اس وقت بھاشا اور مہمند ڈیم کے لئے فنڈز کی کمی ہے،ہونا تو یہ چاہی ہے کہ اس کے لئے فنڈز کا بندوبست کیا جائے اور دونوں ڈیموں پر کام تیز کیا جائے ، ایسے ماحول میں تیسرے ڈیم کے لئے فنڈز کہاں سے آئیں گئے،کوئی اس سازش پر غور کرنے کو تیار نہیں ،اور اس لابی نے جو پاکستان میںڈیموں کی تعمیر کی مخالف ہے ، ایک بار پھر کالا باغ ڈیم جس پر تین صوبوں کو اعتراض ہے ،سامنے لانے کی کوشش شروع کردی ہے ، اسی پروپیگنڈے کو سوشل میڈیا پر پھیلایا جارہا ہے قوم کو مزید تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، اس سے وفاق اور صوبوں میں انتشار پھیلاے گا ،اوراس سے بچنا اور بھاشاڈیم کی تعمیر پر فوکس کر نا پاکستان تحریک انصاف کے حکومت کے لئے اندرونی چیلنجیز میں ایک بڑا چیلنج ہے۔