Buy website traffic cheap

وائٹ ہاؤس

بیت المقدس کو مذاکرات کے ایجنڈے سے نکال دیا ہے،امریکی صدر کی ہرزہ سرائی

واشنگٹن/غزہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ مذاکرات میں اسرائیل کو بھاری قیمت چکانا ہوگی کیوں کہ اسرائیل گراں قیمت تحفہ حاصل کرچکا ہے۔ان کا اشارہ بیت المقدس کی طرف تھا جسے امریکا نے صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم قراردینے کے بعد امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کردیا۔اپنے ایک خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے بیت المقدس کو فلسطین۔ اسرائیل امن مذاکرات کے ایجنڈے سے باہر نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشت برس جب میں نے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو عالمی رہ نماں کی طرف سے فون کالوں کا تانتا بندھ گیا۔ وہ سب مجھ سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ میں نے ان سب سے کہا کہ میں تم سے آئندہ ہفتے رابطہ کروں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کئی سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ آج میں کہتا ہوں کہ میرا القدس کے بارے میں فیصلہ درست تھا۔ میں نے القدس کے بارے میں فیصلہ کرکے بیت المقدس کے معاملے کو فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے سے نکال دیا ہے۔خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا دفاع پہلی بار نہیں کیا بلکہ اس سے قبل بھی وہ مختلف فورمز پرکھل کر اس کا اظہار کرچکے ہیں۔گذشتہ ہفتے اسرائیلی اخبار یسرائیل ھیوم نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین کے حوالے سے امن اسکیمصدی کی ڈیل امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد تک ملتوی کردی گئی ہے۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جاری کردہ بیان جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بیت المقدس کو فلسطین ۔ اسرائیل مذاکرات کے ایجنڈے سے خارج کردیا گیا ہے کی فلسطینی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید مذمت کی گئی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت(حماس)اور تحریک فتح نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ انگ ہے، اس کے بغیر فلسطین نامکمل ہے۔ بیت المقدس کی مکمل آزادی اس پر صہیونی قبضے کے خاتمے تک جدو جہد جاری رہے گی۔حماس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کا القدس کو مذاکرات سے نکالے کا بیان شرمناک اور فلسطینی قوم اور وطن کے خلاف گہری اور خطرناک سازش ہے۔ بیت المقدس پر فلسطینی قوم نے کوئی سمجھوتا قبول کیا ہے اور نہ ہی کیا جائیگا۔حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے بیان میں کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو چاہیے کہ وہ ٹرمپ کے بیان کے جواب میں ٹھوس اور جرات مندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے ساتھ نام نہاد سیکیورٹی شراکت ختم کرے اور امریکی حکومت کے ساتھ بھی ہرطرح کے مواصلاتی رابطے ختم کرے۔دوسری جانب تحریک فتح کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس ہی فلسطین کا دارالحکومت ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک القدس کو فلسطین کا دارالحکومت نہیں بنایا جاتا کشمکش جاری رہے گی۔بیان میں مزید کہا گیاہے کہ فلسطین کی آزادی کے لیے عالمی قراردادوں پرعمل درآمد ناگریز ہے۔ جب تک القدس کو آزاد نہیں کیا جاتا اس وقت تک کسی قسم کے مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے۔ادھر فلسطین کی پروگریسیو پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا القدس کے بارے میں میں متنازع بیان قضیہ فلسطین کے بارے میں امریکی کی منفی سوچ اور صدی کی ڈیل کی سازش کے اہداف کو بے نقاب کرتا ہے۔خیال رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر القدس کے معاملے کو فلسطین۔ اسرائیل امن مذاکرات کے ایجنڈے سے نکال دیا ہے۔فلسطین پروگریسیو پارٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا بیان صدی کی ڈیل کی سازش کے اہداف اور اس کے مذموم مقاصد کو واضح کرتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بیت المقدس سے دست برداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ القدس سے کوئی خائن اور ملعون ہی دست بردار ہوسکتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل فلسطینی قوم کو القدس سے محروم نہیں کرسکتے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے بیت المقدس کو فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے سے نکال دیا ہے۔ ان کے اس بیان پر فلسطین کی مذہبی اورسیاسی قیادت کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔