Buy website traffic cheap

بے جان نسخہ تبدیلی

بے جان نسخہ تبدیلی

بے جان نسخہ تبدیلی
تحریر : ڈاکٹر عثمان غنی
توگویا جماعت کے سب سے کمزور طالبعلم کوجماعت کا سربراہ یعنی مانیٹر بنا دیا جائے ۔۔۔۔سیخ پہ ڈالی ، کباب شیشے میں۔
یہ حقیقت ہے کہ تمام کے تمام سیاسی فیصلے اور بیانات صرف پارٹی قائدین کی من مرضی سے کیے اور دیئے جاتے ہیں ، تصویر ایک ہی ہے اور اس کے رخ مختلف ہیں ، کسی بھی پارٹی کے کارکن کو خواہ وہ کتنا ہی جماعت سے وفادار اور پڑھا لکھا کیوں نہ ہو قطعاً اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ یا بیان نہیں دے سکتااس کی اس ’’جنبش‘‘کو پارٹی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی گردانا جاتا ہے ، ایک اور لفظ بھی اس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں ، اختلاف جو جمہوریت کا بنیادی راستہ متعین کرتا ہے اس کی ہمارے رائج الوقت سیاسی کلچر میں کوئی گنجائش موجود نہیں جو قائد نے فرما دیا وہی مستند ٹھہرا ۔
بات ن لیگ کی ہو، پیپلزپارٹی کی یا پی ٹی آئی کی، اس کلچر میں آپ آگ کو برابر لگا ہوا پائیں گے ، عام انتخابات سے پہلے ن لیگ والے نواز شریف کے ’’نظریہ‘‘ کو پروان چڑھانا چاہتے تھے اور حتیٰ المقدور سعی بھی کی گئی ، ان کے اکابرین نے وقتاً فوقتاًتلخ وترش لب ولہجہ بھی استعمال کیا ، اپنے بڑوں کو بے ضابطگیوں سے صاف ستھرا بھی قرار دیا گیا مگر ایک شخص کے بیانیے کو پروان چڑھاتے چڑھاتے سیاسی طور پروہ کہاں جانکلے اس کا اندازہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ، خیرکچھ کے ’’شیریں لبوں‘‘ کا نوٹس تو عدالت کو لینا پڑا ، تب کہی جا کے یہ افرا تفری اپنے اختتام کو پہنچی ۔
پی پی پی والے بھی شریک چیئرمین اور چیئرمین کی منشاء کے بغیر نہ تو کوئی سیاسی بیان دیتے ہیں نہ سیاسی دوستیاں بناتے اور نبھاتے ہیں ، میر صاحب نے شاید اسی لیے بہت پہلے فرما دیا تھا ۔
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
پی ٹی آئی بھلا اس معاملے میں کسی سے پیچھے رہنے کی کیا ضرورت ہے ، وہ مکمل طور پر کپتان کے تبدیلی کے نظریہ کے محافظ بھی ہیں اور اس میں پوری طرح شریک سفر بھی ، یہ وہ رویہ ہے جو سب سیاسی جماعتوں میں مشترک ہے اور اس میں کوئی بھی کسی سے پیچھے نہیں ، اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی ایک اور منفرد خوبی ابھر کر سامنے آئی ہے کہ وہ سیاسی فیصلے یا تو جلد بازی میں کر ڈالتے ہیں یا کچھ وقت کے بعد ان کے اذہان میں اس فیصلے یا شخص کا کوئی بہتر متبادل سامنے آجاتا ہے ،یہاں ’’ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں‘‘والا معاملہ نہیں جو کئی دہائیاں قبل غالب کے ساتھ پیش آیا تھا ،پی ٹی آئی کے فیصلوں پر چھاپ یہ بیٹھ رہی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر قائم نہیں رہتے یا جلد ہی تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں ، توجہ طلب یہ کہ انھوں نے اس طرح کی ’’دانائی ‘‘کو چھوڑنے سے انکار کر رکھا ہے ، عام انتخابات سے پہلے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے نام کے لیے انھوں نے یکے بعد دیگرے مختلف نام دے ڈالے تھے جس سے ان کے سیاسی ہوم ورک کی قلعی کھل گئی تھی ایسا ہی اب بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بلوچستان کے گورنر کے لیے جس شخص کا انتخاب کیا ان کو اپنے اس انتخاب کو بدلنا پڑگیا ، وجہ یہ تھی کہ وہ صاحب نیب کی کچھ انکوائریوں میں الجھے ہوئے ہیں ، اس طرح ریکارڈ حاصل کیے یا مشاورت کیے بغیر کسی بھی شخص کا نتخاب کرنا ان کی سیاسی طور پر کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ، ہونا تو یہ چاہیے کہ اہم عہدہ کے لیے نامزد ہونے والے کاپہلے ذاتی ریکارڈ حاصل کیا جائے اور دوسرا اس نامزد ہونے والے شخص سے اس اہم عہدے کے قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں مشاورت کی جائے ، ماضی میں یہ دیکھا گیا کہ چند ایک لوگ جنہیں پی ٹی آئی نے نامزد کیا تھا ، میڈیا میں نام سامنے آنے پر انھوں نے معذرت کر لی تھی اور کچھ کو تو اپنی نامزدگی تک کا پتہ نہ تھا ۔
جس طرح پنجاب کے وزیراعلیٰ کا انتخاب اس دلیل کی بنا ء پر کیا گیا کہ ان کا تعلق پسماندہ ترین علاقہ سے تھا بلاشبہ یہ کمزور دلیل تھی جس کو انھوں نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا ، دلیل یہ ہونی چاہیے تھی کہ ہمارے پاس پسماندگی کو ختم کرنے کی مکمل طور پر منصوبہ بندی بھی ہے اور ہم خودبھی اس کو ختم کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ، یہ کلیہ پہلے بھی آزمایا جا چکا ہے کہ بلوچستان کی محرومیاں ختم کرنے کے لیے اس علاقہ سے سینٹ کے چیئرمین کا انتخاب کیا گیا تھا گویا پی ٹی آئی والوں نے جو پہلے بھی اس’’نئے ‘‘ فارمولے میں پیش پیش تھے کو دوبارہ آزمایا ہے اس کو پی ٹی آئی کا ’’نسخہ تبدیلی‘‘ بھی قرار دیا جاسکتا ہے ۔
پی ٹی آئی کو اگر سیاسی طور پر زندہ رہنا ہے تو دوسری سیاسی جماعتوں کی خامیوں پر اکتفا نہیں کرنا پڑھے گا بلکہ اپنی خوبیوں کا سہارا لینا پڑھے گا ، پی ٹی آئی تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی ہے اور لوگوں نے ووٹ بھی اسی بنیاد کو سامنے رکھ کر دیے ہیں اب کیونکہ وہ حکمران جماعت ہے اس لیے جلد بازی اور افرا تفری پارٹی اور ملک کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ، انھیں اپنے پارٹی کارکنوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے پڑے گا اور اپوزیشن کو بھی صلح کی پیشکش کرنی چاہیے تاکہ جو کام تعریف کے قابل ہو اس کی تعریف کی جاسکے ، اس کے علاوہ عمران خان کو اپنا لہجہ وزیراعظم والا کرنے پڑے گا نہ کہ اپوزیشن والا جس کا اظہار انھوں نے اسمبلی میں پہلے دن کر ڈالا تھا ۔ غوروفکر اور صلح سے بہتر راہیں نکلتی ہیں اور باہمی یگانگت کا عنصر بھی پروان چڑھتا ہے ، اسی طریقے سے وہ “نئے پاکستان”کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکیں گے ، پتہ نہیں کیوں ان کا یہ ’’نسخہ تبدیلی ‘‘ تبدیلی کا کوئی جاندار نسخہ نہیں لگ رہا ، جو تمام معاشرتی و سیاسی خرابیوں کے خاتمے کے لیے تیر بہدف نسخہ کا کردار ادا کرسکے۔