Buy website traffic cheap


تبدیلی آنے نہیں‌ والی بلکہ تبدیلی آ گئی ہے

تبدیلی آنے نہیں‌والی بلکہ تبدیلی آ گئی ہے …………گورنر ہاؤس لاہور کو عوام کے لیے ایک بار پھر کھول دیا گیا ہے۔ غیر معمولی طور پر گورنر ہاون کے مین دروازے پر وقت سے پہلے ہی لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ چکی ہیں‌. شہریوں کی رہنمائی اور سیکیورٹی کے لیے گورنر ہاؤس کا عملہ اور پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی۔ اس موقع پو گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں‌چند تصاویر شیئر کر کے لکھا ہے کہ “گورنر ہاوس لاہور عوام کے لیے کھول دیا گیا. عوام کا جوش و خروش دیدنی ہے. لوگ اپنی فیملیز اور بچوں کے ہمراہ گورنر ہاوس لاہور کا دورہ کر رہے ہیں.” عوام کا کہنا ہے کہ تبدیلی آنے نہیں‌والی بلکہ تبدیلی آ گئی ہے

…………………………
یہ خبر بھی پڑھیئے

چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں کا وفد 26 اور 27 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا
چینی وفد پاکستان کیساتھ تجارت بڑھانے کیلئے پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کرے گا
اسلام آباد…. چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں کا وفد 26 اور 27 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔ اس دورے کے دوران چینی کاروباری وفد کے ارکان پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ مقامی بزنس کمیونٹی کو چینی خریداروں کے ساتھ ڈائیلاگ کے عمل میں شامل ہونا چاہیے اور متعلقہ دلچسپی کے شعبوں میں مذاکرات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجارت بڑھانے کے لئے پہلا قدم ہے اور اسی طرح ہم آہستہ آہستہ برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ چینی تاجر و سرمایہ کار مقامی برآمد کنندگان کے ساتھ معاہدے کر لیں گے، یہ چین کی وسیع تر مارکیٹ تک رسائی کا اہم موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ مربوط کوششوں کے نتیجہ میں برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور اقتصادی ترقی و خوشحالی کے لے اضافی برآمدات پر بھی کام کریں گے۔ اس مقصد کے لئے انجینئرنگ، ٹیکسٹائل، زراعت اور کیمیائی شعبوں میں مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جائے گی، حکومت برآمدات کو فروغ دینے والی بڑھوتری پر توجہ دے گی جبکہ درآمدات کم کی جائیں گی۔برآمدات بڑھانے کے لئے کئی شعبوں کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے۔ ابتدائی طور پر ہم انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کیمیکل کے شعبے میں برآمدات پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لئے اخترائی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا جبکہ عالمی مسابقتی ماحول کے مطابق برآمدات تشکیل دینے کے لئے کام کیا جائے گا۔ صرف زرعی برآمدات بڑھانے سے مجموعی برآمدات نہیں بڑھیں گی، ہمیں ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینی ہے۔ حکومتی عہدیدار نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل، نیٹ ویئر، ایپرل، گارمنٹس، چمڑے کی مصنوعات اور فرنیچر انڈسٹری کی برآمدات پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی اور جامع گائیڈ لائن تشکیل دی جائے گی۔