Buy website traffic cheap


تحریکِ انصاف کی ٹکٹوں کے حوالے سے مشکلات کم نہ ہوئیں، خواتین کی مخصوص نشستوں پر نظر اندازکیے جانے پر نظریاتی خواتین نے بھی احتجاج کا اعلان کردیا

لاہور(ویب ڈیسک): تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر نئے محاذ کھل رہے ہیں ، دونوں جماعتوں کی خواتین نے بھی ٹکٹوں کی تقسیم اور مخصوص نشستوں کی ترجیحی فہرست کو غیر منصفانہ قرار دیدیا ، پی ٹی آئی کی خواتین نے فیصلے کے خلاف بنی گالہ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی متعدد خواتین نے گزشتہ روز اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی حقیقی کارکنوں کونظر انداز کر کے دوستیاں نبھائی گئی ہیں ،ترجیحی فہرست میں کسی کی سہیلی ، کسی کی باجی ، کسی کی بہن کا نام ڈال دیا گیا جبکہ 25سے 30سال سے پارٹی کی خدمت کرنے والوں کونظر انداز کر دیا گیا۔ ہمیں اس طرح کے فیصلے قبول نہیں اور اس کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔ میاں صاحب کہتے ہیں کارکنوں کو ٹکٹ دئیے ہیں حقیقی کارکن تو یہاں ہیں پھر کن لوگوں کو ٹکٹ دئیے گئے ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے یا پھر تمام خواتین کارکنوںکو اکٹھا کرکے آگ لگا دی جائے ۔پی ٹی آئی کی خواتین نے چیئرمین سیکریٹ میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ٹکٹوں کےلئے فیس جمع کرائی ، ہمارے انٹر ویو ہی نہیں لئے گے اور ٹکٹ کی دوڑ سے باہر کر دیا گیا ۔ سکول میں بھی امتحان ہوتا ہے اور اس کے بعد نتیجے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ نہ صرف ٹکٹوں کی تقسیم بلکہ مخصوص نشستوں میں بھی انصاف نہیں کیا گیا ۔ فاطمہ چدھڑ نے کہاکہ جب عمرا ن خان پر برا وقت آیا تو منزہ حسن نے کہا کہ میں تو امریکہ چلی جاﺅں گی اور آرام سے زندگی بسر کروں گی اور جب پارٹی کی مقبولیت دیکھی تو یہیں رہ گئیں ۔ منزہ حسن اور شیریں مزاری پانچ سال اسمبلی میں رہ چکی ہیں انہیں پھر فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے ۔