Buy website traffic cheap

حقیقی محسن

تحقیق

نویداسلم
اُسے Demand of Success پر لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔وہ ایک نوجوان کالم نگاراور سوشل میڈیا اینکر پرسن تھا۔اُسے لوگوں میں بات چیت کرنا اچھا لگتا تھا۔وہ اپنے وطن کی عوام کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنا چاہتا تھاتاکہ اس کے ملک کا نام روشن ہو۔وہ اپنے ملک کا نام بتانے میں فخر محسوس کرے۔ اسکی چاہت تھی کہ مرنے سے پہلے وہ اپنے حصے کی شمع جلا جائے۔وہ حا ل میں داخل ہوا تو تالیاں بجا کراور کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا گیا۔اس نے سامعین کا شکریہ ادا کیا اور بیٹھنے کو کہا۔وہ بولا میں کوشش کرتا ہوں اپنی سوچ کو آپ کے دماغ میں انڈیلنے کی ۔اگر کچھ غلطی کر جاؤں یا واضع نہ کر سکوں تو معاف کیجیے گا۔اور میری اصلاح فرمائیے گا۔وہ مڑا اور مارکر کا ڈھکن اُتارکر وائٹ بورڈ پر ایک لا ئن لکھ دی۔
“Hard work is the key to success”
دوبارہ وہ ناظرین کی طرف متوجہ ہوا اور سوال کیا کس کس نے یہ بات سنی ہے؟ سب نے ہاتھ کھڑا کر دیا اور اثبات میں سر ہلایا۔اس نے پھر سوال کیا۔ اور کون کون اس بات پر یقین بھی رکھتا ہے۔اس نے سب کے ماتھے پر بل پڑتے دیکھے۔ سب نے دوبارہ ہاتھ کھڑے کر دیے۔وہ مقصد کے تھوڑا قریب پہنچا۔اس نے پھر کہا پر آپ سب کیوں اس پر یقین رکھتے ہیں ۔۔۔۔؟ حالانکہ یہ بات تو غلط ہے۔جس دور میں یہ بات کہی گئی تھی۔ یہ اُسی دور کے لیے صحیح تھی۔اس دور میں لوگوں کی پسند ،ناپسند آج سے بہت مختلف ہوتی تھی ۔خوراک بھی آج جیسی نہیں ہوتی تھی۔آج زاویہ بدل چکا ہے ۔ دوستو!۔۔۔ میں آپکو ایک کہانی سناتا ہوں۔عمر تو آپ کی گزر چکی کہانیوں والی،پر تھوڑی دیر کے لیے دوبارہ چھوٹے ہوجاےئے ۔ایک لکڑ ہارا ایک گاؤں میں رہتا تھا۔وہ بھو کا مر رہا تھا کیونکہ سارے جنگل تو ہم کاٹ کر کھا چکے،وہ کس جنگل میں جا کر لکڑیاں کاٹے ۔۔۔؟ سب کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔پر ایک دن اس کی قسمت جاکی اور ایک امیر آدمی نے اسے کام کے لیے بلایا۔ اس کی حویلی میں بہت سے درخت تھے۔اُس نے کہا تم یہ درخت کاٹو میں فی درخت تمہیں سو روپے دونگا۔وہ بہت خوش ہوا اس نے پہلے دن بہت محنت کی اور دس درخت کاٹے اس نے سوچا کہ کل اور زیادہ درخت کاٹے گا۔ اس نے اگلے دن پہلے سے زیادہ ہارڈ ورک کیا ۔ لیکن نو درخت کاٹ پایا۔ وہ بہت پریشان ہوا ،پر جس طرح ہم اپنے آپ سے بہانے بازی کرنے میں بہت تاک ہیں ،اسی طرح اس نے بھی بہانہ بنا کر سونا مناسب سمجھا کہ شاید میں بہت تھکا ہوا تھا۔اگلے دن اس نے پچھلی بار سے زیادہ محنت کی لیکن صرف آٹھ درخت ہی کاٹ سکا۔وہ پریشان ہو کر مالک کے پاس گیااور ماجرہ بتایا۔مالک نے ایک چھوٹا سا سوال کیا۔کیا تم نے اپنی آری تیز کی ہے۔۔؟ میں آپ سب سے پوچھتا ہوں آپ سب لوگ ہارڈ ورک تو کرتے ہی ہیں مگر کیا کبھی کبھی اپنی آری تیز کرنے کے لیے بھی وقت نکالتے ہیں۔۔۔۔؟ وہ مڑا اور اپنی لکھی ہوئی لائن میں سے ہارڈ کا لفظ کاٹ کر سمارٹ لکھ دیا۔
“Smart work is the key to success”
ہمارے دور کے لیے یہ لائن صحیح ہے وہ دور تھا جس میں جسم کو اہمیت دی جاتی تھی اور جسم سے ہارڈ ورک کیا جاتاتھا۔ یہ دور جدید ہے اس میں کامیابی کے لیے دماغ سے سمارٹ ورک کیا جاتا ہے۔لیکن میری ساری بات کا مطلب اس محاورے سے نہیں ہے۔میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک ہم پُرانے لوگوں کی باتوں کو حرف آخر مان کر تحقیق کیے بغیر عمل کرتے جائیں گے تو اس وقت تک کچھ نیا نہیں کر پائیں گے۔ہمیں اس موڈرن دور میں نئے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی تبھی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ۔اور یہی کامیابی کا گُر ہے میں چاہتا ہوں کہ آج سے آپ اپنی زندگی کی کتاب کو شک کی نظر سے دیکھو ۔ اپنی زندگی کے ہر واقعہ پر سوالیہ نشان لگاؤ۔۔ کچھ بھی کرنے سے پہلے سوچو کیا یہ کام کرنا یا ایسا کچھ کرنا ضروری ہے ؟کیا یہ میرے لیے مفید ہوگا؟ آپ کو شک کی نظر سے دیکھنا ہوگااور آپکی درسی کتب، یہ قرآن و حدیث نہیں ہے یہ کتابیں بھی کسی عام انسان نے لکھی ہیں اس کو یاد نہ کرو بلکہ تحقیق کرو یاد خود ہی ہو جائے گا۔کسی بات کو اس وقت تک نامانو جب تاک تمہارا دماغ اسے تسلیم نہ کرے صرف وہ نہ دیکھو جو دکھایا جا رہا ہے ، وہ بھی دیکھو جو چھپایا جا رہا ہے ۔جب تک آپ سب چیزوں کو صحیح مان کر اُن کو رٹامارتے رہے ،اس وقت تک آپ کچھ نیا نہیں کر پائیں گئے ۔میرا آج کا پیغام چند الفاظ میں یہ ہے کہ لکیر کا فقیر ہونے سے بہتر ہے انسان صاحب فکر ہو کیونکہ فکر زندگی ہے اور زندگی بھیک نھیں ہو سکتی۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں کامیابی کا گُر یہی ہے۔اور میں اپنی بات مزید سمجھانے کے لیے آپ کو تھامس ہنری ہکسلے کی کوٹیشن کا حوالہ دینا چاہتا ہوں” سیڑھی کا ڈانڈا آرام کے لیے نھیں ہوتا بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ مزید بلندی یا کامیابی سے پہلے کچھ دیر سانس کو بحال کر لیا جائے۔”